مال بردار ٹرانسپورٹ کی ہڑتال

مال بردار ٹرانسپورٹ کی ہڑتال

کراچی کے بعد پنجاب گڈز ٹرانسپورٹ والوں نے بھی پہیہ جام ہڑتال کردی۔یوں کراچی سے پشاور تک مال کی آمدورفت بند ہوگئی جس کے باعث تاجر اور بیوپاری پریشان ہیں۔ کراچی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق برآمدکے لئے جو آرڈر ملے ہوئے تھے ان کی تکمیل بروقت نہ ہو سکے گی، اسی طرح تازہ سبزیوں اور پھلوں کی برآمد کے آرڈر بھی منسوخ ہوگئے ہیں، اس ہڑتال کے باعث اندرون ملک تجارتی اشیاءکی نقل و حرکت بند ہوئی ہے تو تجارتی سامان برآمد نہ ہونے کی وجہ سے زرمبادلہ کانقصان ہوگا آئندہ سے تجارتی حجم بھی کم ہونے کا خدشہ ہے،کیونکہ بیرونی درآمد کنندگان کو جب بروقت سامان نہیں ملے گا تو وہ آئندہ آرڈر دیتے وقت ہچکچائیں گے۔

بتایا گیا ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹ والوں نے نونکاتی مطالبات پیش کئے تھے، ان میں بھتہ خوری، نیشنل ہائی ویز پولیس کا سلوک اور ٹرک ڈرائیوروں اور عملہ کے تحفظ پر مبنی بنیادی مطالبات ہیں، جن پرکسی صوبائی یا وفاقی حکومت نے توجہ نہیں دی۔اول طور پر یہ مطالبات کراچی گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے پیش کئے تھے اور زیادہ تر مطالبات مقامی اور صوبائی نوعیت کے ہیں، ان پر جب کوئی توجہ نہ دی گئی تو اعلان کرکے ہڑتال کردی گئی۔ یہ حیرت انگیز اور افسوسناک بات ہے کہ اتنے بڑے نیٹ ورک کی طرف سے احتجاج کیا جارہا تھا اور کسی کو پروا نہیں تھی، حالانکہ یہ بہت ہی ہنگامی نوعیت کا مسئلہ ہے۔سامان کی ترسیل رکنے سے جو منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کا ازالہ ایک دو روز میں ممکن نہیں ہوتا۔سندھ اور کراچی بندرگاہ سے اندرون ملک آنے والے سامان میں تیل کے علاوہ سبزیاں بھی شامل ہیں،ہڑتال کے باعث قلت ہوتو اشیاءمہنگی کردی جاتی ہیں، اسی طرح تیل کے ذخائر ختم ہوئے تو قلت کا سامنا ہوگا،سی این جی کا مسئلہ پہلے ہی سے موجود ہے اگر تیل کی قلت ہوئی تو پھر حالات قابو سے باہر ہوجائیں گے۔حکمرانوں کو فوری طورپر نوٹس لینا چاہیے تھا ۔ممکن ہے ہڑتال کی نوبت ہی نہ آتی۔ اب بھی مذاکرات کا عمل فوراً شروع کیا جانا چاہیے تاکہ ہڑتال جلد ختم ہو اور صورت حال معمول پر آئے۔

اس ہڑتال سے ریل کی افادیت مزید اجاگر ہوجاتی ہے۔ٹرانسپورٹ مافیا نے ریلوے حکام اور بعض سیاسی رہنماﺅں سے سازباز کرکے ریلوے کا نظام تباہ کردیا۔ ریلوے سے اشیاءبھیجنا زیادہ محفوظ اور سستا تھا، اس کی وجہ سے ٹرانسپورٹر من مانی نہیں کرسکتے تھے۔ریلوے کی تباہی کے بعد اب گڈز ٹرانسپورٹ والوں کی صوابدید ہے کہ وہ جب چاہیں مال لائیں اور جب چاہیں بند کر دیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو یہ مسئلہ حل کرکے ہڑتال کوفوراً ختم کرانا چاہیے۔ ٭

مزید : اداریہ