لڑکیوں کی تعلیم کے لئے ملالہ فنڈ

لڑکیوں کی تعلیم کے لئے ملالہ فنڈ

پاکستان اور یونیسکو کے مابین مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں،جس کے تحت ” لڑکیوں کی تعلیم کے لئے ملالہ فنڈ “ قائم کیا گیا ہے، اس فنڈ کے لئے صدر پاکستان آصف علی زرداری نے ایک کروڑ ڈالر کا اعلان کیا ہے۔عالمی برادری کی معاونت سے اس فنڈ کے تحت پاکستان اور دوسرے ملکوں میں تعلیم کو فروغ دیا جائے گا۔صدرآصف علی زرداری نے اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملالہ یوسف زئی روشن خیال اور ترقی پسند پاکستان کی عکاس ہیں، ان پر حملہ تاریکی کی قوتوں نے کیا، بچوں کو پڑھا کر دہشت گردوں کو شکست دیں گے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ لڑکیوں کی تعلیم کے لئے عالمی برادری گرینڈ الائنس تشکیل دے،تاکہ پاکستان سمیت کسی بھی ملک میں کوئی لڑکی تعلیم کے بغیر نہ رہے۔انہوں نے کہا دہشت گرد اسلام کو بدنام کررہے ہیں، جمہوریت کے ذریعے امن قائم کیا جا سکتا ہے۔

قیام پاکستان کے بعد اگرچہ ملک میں شرح خواندگی میں اضافہ ہوا ہے، سرکاری شعبے کے ساتھ پرائیویٹ شعبے میں بھی نئے نئے تعلیمی ادارے قائم ہورہے ہیں، خصوصاً بڑے شہروں میں تعلیم کا رجحان فروغ پذیر ہے، لیکن اس کے باوجود شہروں سے دور واقع قصبات اور دیہات میں وافر تعلیمی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں۔دیہی علاقوں اور قصبات میں بچیوں کے لئے پرائمری اور کہیں کہیں ہائی سکول تو موجود ہیں، لیکن کالج کی سطح پر تعلیم کے لئے لڑکیوں کو کئی کئی میل سفر کرکے دور دراز علاقوں میں جانا پڑتا ہے۔سفر کی صعوبتوں اور دوسری معاشرتی مشکلات کی وجہ سے لڑکیاں پرائمری یا میٹرک کے بعدعموماً گھروں میں بیٹھ جاتی ہیں،جن گھرانوں میں اعلیٰ تعلیم کا احساس و ادراک ہے، صرف وہی اپنی بچیوں کو گھروں سے دور شہروں کے تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں،ضرورت تو اس امر کی ہے کہ سو فیصد لڑکوں اور لڑکیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جائے، لیکن اتنی بڑی تعداد کے لئے سکول اور کالج موجود نہیں، بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری نصف سے بھی زیادہ آبادی ابھی تک ناخواندہ ہے اور شرح خواندگی میں ان لوگوں کو بھی شمار کیا جاتا ہے جو محض اپنا نام لکھ سکتے یا دستخط کرسکتے ہیں، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ”خواندہ“کہلانے والوں کی ایک بڑی تعداد کو بھی ہم ”تعلیم یافتہ“ نہیں کہہ سکتے، مقابلے و مسابقت کے موجودہ دور میں ادھوری یا کچی پکی تعلیم کسی مصرف کی نہیں، تعلیم وہی کارآمد ہے جس کی جدید دور میں طلب ہے یا جس کو کام میں لا کر معاشرے کی کوئی خدمت کی جا سکتی ہے۔

کہنے کو تو ہر سال ہمارے تعلیمی اداروں سے لاکھوں لڑکے اور لڑکیاں حصول علم کے بعد فارغ ہوتے ہیں، ان کے ہاتھوں میں گریجوایشن اور پوسٹ گریجوایشن کی ڈگریاں بھی ہوتی ہیں، لیکن تعلیم سے فراغت کے بعد ان بظاہر اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو نوکریاں نہیں ملتیں، جس کی وجہ سے یہ لوگ منفی سرگرمیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بعض تعلیم یافتہ نوجوان دہشت گرد گروہوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور کچھ سماج دشمن سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ مختلف نوعیت کی سرکاری ملازمتوں کا دائرہ وقت کے ساتھ ساتھ سکڑتا جارہا ہے۔جن سرکاری اداروں میں ملازمتیں دستیاب ہوا کرتی تھیں ان کا بُرا حال ہو چکا ہے، پھر بعض سرکاری ادارے ایسے ہیں جہاں ضرورت سے زیادہ افرادی قوت پہلے ہی موجود ہے۔پی آئی اے میں پانچ چھ ہزار ملازموں سے کام چلایا جا سکتا ہے، لیکن اس ادارے میں بیس ہزار سے زیادہ ملازمین ہیں، اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہ ادارہ مسلسل خسارے میں ہے ۔یہی حال کراچی کی سٹیل مل کا ہے جہاں ایک اطلاع کے مطابق ہزاروں ایسے ملازمین ہیں،جو صرف مہینے میں ایک بار گھروں سے آتے ہیں اورتنخواہیں وصول کرکے چلے جاتے ہیں۔اب ایسا ادارہ منافع کیا خاک کمائے گا؟ ریلوے کسی زمانے میں بڑی تعداد میں افرادی قوت کو کھپانے والا ادارہ تھا، بڑی تعداد میں مزدور اس کی ورکشاپوں میں ملازمت کرتے تھے،لیکن تدریجاً یہ ادارہ بھی زوال کا شکار ہوگیا، اب حالت یہ ہے کہ نہ تنخواہیں بروقت ہیں اور نہ پینشن وقت پر ملتی ہے۔یہ ادارہ اپنے لئے وسائل خود پیدا کرنے کی بجائے حکومت کی امداد کی طرف دیکھتا ہے جو ظاہر ہے آسانی سے نہیں ملتی، اس کے علاوہ بھی بڑے بڑے سرکاری اداروں میں اعلیٰ ترین ملازمتوں سے لے کر معمولی ملازمتیں بھی سفارشوں یا پھر رشوت کے ذریعے ملتی ہیں،بعض اوقات تو سفارش کو موثر بنانے کے لئے بھی رشوت دینا پڑتی ہے۔یہ تو سرکاری شعبے کا حال ہے ،پرائیویٹ سیکٹر میں بھی ملازمتیں نہیں ملتیں، انرجی کے بحران کی وجہ سے وہ فیکٹریاں بھی بند ہورہی ہیں،جہاں سال ہا سال سے لاکھوں ہنر مند اور غیر ہند مند لوگ ملازمتیں کررہے تھے اور معقول تنخواہیں پا رہے تھے۔پہلے سے برسرروزگار لوگ بے روزگار ہورہے ہیں تو ہر سال جو لاکھوں نوجوان تعلیم حاصل کرکے عملی زندگی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں، انہیں روزگار کیسے ملے گا؟یہ سب سے اہم سوال ہے۔

ہر سال جو بچے میٹرک کا امتحان پاس کرتے ہیں، تمام سرکاری اور غیر سرکاری کالج مل کر بھی ان سب کو داخلہ نہیں دے سکتے، نتیجہ یہ ہے کہ ایک بہت بڑی تعداد پرائیویٹ طور پر ایف اے، بی اے اور ایم اے کے امتحانات کی تیاری کرتی ہے۔لیکن بیروزگاری کا عالم یہ ہے کہ کسی سرکاری ادارے میں کوئی معمولی نوکریاں نکلتی ہیں تو اس کے لئے ہزاروں ایسے لوگ بھی درخواستیں دے دیتے ہیں ، جن کی تعلیمی قابلیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔بیروزگاری کے ساتھ ساتھ اس کا ایک اور پہلو بھی ہے کہ ہماری تعلیم کا معیار بھی اتنا ناقص ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اپنی قابلیت کے حساب سے ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد معمولی ملازمتوں کے لئے ہاتھ پاﺅں مارتے ہیں اور اس میں بھی اکثر و بیشتر ناکام ہو جاتے ہیں۔

جو لڑکے اور لڑکیاں اچھے نمبروں سے ایف ایس سی پری میڈیکل یا پری انجینئرنگ کرتے ہیں ان میں سے بھی صرف ٹاپ کے لوگ انجینئرنگ یا میڈیکل کی تعلیم کے لئے منتخب ہوتے ہیں، ابھی حال ہی میں میڈیکل کالجوں میں داخلے کے وقت یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ان اداروں میں تعلیم کے لئے طالبات کی تعداد زیادہ ہے۔اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں طالبات نہ صرف طلباءسے زیادہ ذہین ہیں، بلکہ ان کے مقابلے میں زیادہ بہتر تعلیمی پوزیشنیں بھی حاصل کرتی ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ طالبات کو جب بھی تعلیم کا موقع ملتا ہے وہ طلباءسے مسابقت کرکے انہیں پیچھے چھوڑ جاتی ہیں، لیکن یہ سلسلہ صرف بڑے شہروں میں ہے۔سوات جیسے علاقے بھی ہیں، جہاں طالبات کو سکول جانے سے روکاجاتا ہے اور ملالہ یوسف زئی ایسے ہی ماحول میں سامنے آئی ہے جس نے اپنے اور اپنے جیسی بچیوں کے لئے حصول علم کا حق مانگا اور اس راستے میں رکاوٹ بننے والوں کے خلاف ڈٹ گئی، اسی جرا¿ت کی وجہ سے اسے عالمی شہرت ملی اور اسے تشدد کا نشانہ بھی اسی وجہ سے بننا پڑا، اب اس کی وجہ سے تعلیم کا ایک عالمی فنڈ قائم ہوا ہے جو فروغ تعلیم کے لئے استعمال ہوگا۔

 پاکستان میں وہ علاقے محدود ہیں جہاں لڑکیوں کی تعلیم کی راہ روکی جاتی ہے، لڑکیوں کے سکول بھی صرف ایک صوبے میں جلائے گئے، ورنہ پورے پاکستان میں ایسے علاقے بھی ہیں جہاں طالبات پڑھنا تو چاہتی ہیں، اُن کے والدین انہیں پڑھانا بھی چاہتے ہیں۔ اُن کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے والا بھی کوئی نہیں، لیکن سکول نہیں ہیں۔ یہ سکول کب قائم ہوں گے؟ حکومت پاکستان جنگی بنیادوں پر پہلے اِن علاقوں میں سکول بنائے اور تعلیمی ایمرجنسی لگا کر ایک ٹارگٹ مقرر کر کے100فیصد تعلیم کا حصول ممکن بنائے۔ دوسری اہم بات تعلیم یافتہ لوگوں کو سفارش اور رشوت کے بغیر نوکریاں دینا ہے۔ بصورت دیگر تعلیم کے ذریعے دہشت گردی ختم کرنے کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔

مزید : اداریہ