بھار تی ہائیکورٹ نے مرتد ہونے والے نوجوان کی ہندولڑکی سے شادی غیر قانونی قراردیدی

بھار تی ہائیکورٹ نے مرتد ہونے والے نوجوان کی ہندولڑکی سے شادی غیر قانونی ...
بھار تی ہائیکورٹ نے مرتد ہونے والے نوجوان کی ہندولڑکی سے شادی غیر قانونی قراردیدی

  

 کوچی( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ریاست کیرالہ کی ہائیکورٹ نے قراردیاہے کہ شادی کی سہولت کیلئے مذہب بدلنا قانون کی نظر میں کوئی وقعت نہیں رکھتا۔ فاضل عدالت نے یہ فیصلہ ایک ہندو لڑکی سے شادی کیلئے مرتد ہونے والے نوجوان کی درخواست پر صادر کیاہے اور لڑکی کو سپیشل میرج ایکٹ پر عملدرآمد تک والدین کے گھر رہنے کا حکم دیا ہے جبکہ لڑکی نابالغ بھی نہیں ہے ۔ بیس سالہ مسلم نوجوان شائجونے عدالت میں درخواست دئر کی تھی کہ اس نے مرتد ہو کر ہندوازم اختیار کرلیا ہے اور بیس سالہ اشوانتھی سے ایک مندر میں جاکر شادی کرلی ہے لیکن لڑکی کے ولدین نے اسے اپنے گھر میں محبوس کر رکھا ہے ۔ عداکلت کی ہدایت پر لڑکی کو پیش کیا گیا تو اس نے تسلیم کیا کہ ن ہوں نے چودہ نومبر کوشادی کی اور اس سے پہلے شائجو اسلام چھوڑ کر ہندو بن گیا تھا ۔ اس ضمن میں لڑکے اور لڑکی نے اپنے موقف کی تائید میں مندر کا شادی سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا لیکن لڑکی کے باپ نے لڑکے شائجو کی جانب سے ایک دن میں اسلام چھوڑ کر ہندو بننے پر اعتراض اٹھایا اور دونوں خاندانوں میں سماجی و مالی فرق کا معاملہ بھی اٹھایا جہاں عدالت نے قراردیا کہ لڑکی اگرچہ بالغ ہے لیکن لڑکے کا وشواہندو پریشد کی سرپرستی میں اسلام چھوڑ کر ہندو بننے پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا اور یہ محفوظ لگتا ہے ۔ عدالت نے قراردیا کہ محض شادی کی سہولت کیلئے مذہب بدلنے قانون کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔عدالت نے قراردیا کہ یہ لڑکی اس وقت تک والدین کے گھر رہے گی جب تک ان کی شدی خصوصی شادی ایکٹ کے تحتانجام نہیں پاتی ۔ واضھ رہے کہ فیصلہ سنانے والے ججوں میں سے کوئی بھی مسلمان نہیں تھا۔

مزید : بین الاقوامی