ظلمی انتخابات

ظلمی انتخابات
ظلمی انتخابات

  

ضمنی انتخابات تو حکومت اور اس کے اتحادیوں کے لئے ظلمی انتخابات ثابت ہوئے ہیں، سب کچھ کا سب کچھاچٹھا کھل گیا ، کھر ا کھوٹا الگ ہوگیا، اسی لئے تو ہر ایک نے دوڑ لگادی ،پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے فیصل آباد میں بھرپور جلسے کا انعقاد ضمنی انتخابات میں متاثر ہونے والی ساکھ کو بحال کرنے کا ایک بہانہ تھا ، فیصل آباد کبھی پیپلز پارٹی کا گڑھ تھا، اب پیپلز پارٹی کا گڑھا بن چکا ہے، یہاں نظریاتی کارکنوں کی کمی نہیں ہے، یہاں سے پیپلز پارٹی کے بڑے بڑے نام پیدا ہوئے ، مگر ایک ایک کرکے پارٹی قیادت کی بے رخی کا شکار ہو تے گئے ، آج بھی کئی مختار رانے لند ن کی گلیوں میں کھوئے ہوئے خواب ڈھونڈتے پھرتے ہیں اور سال دو سال بعد آ کر جنم بھومی کا نظارہ کر جاتے ہیں، یہ شہر اب نواز لیگ کی حمایت میں مرے جا رہا ہے! صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں ق لیگ کی قیادت بھی ضمنی انتخابات کے بعد بولنا شروع ہوئی ہے اور دوبارہ سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ عام انتخابات میں ق لیگ بھرپور اکثریت حاصل کرے گی، ضمنی انتخابات کا نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ انتخابی حلقے کی سطح پر مسلم لیگ کانظریاتی ووٹ ،جو ہر انتخاب میں سب سے پاپولر مسلم لیگی دھڑے کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے ، پندرہ سے بیس ہزار کی تعداد میںواپس ن لیگ کو رجوع کرگیا ہے ، اسی طرح ہر حلقے میں تقریباً دس سے پندرہ ہزار ووٹ پیپلز پارٹی کا بھی ایسا ہے جو گزشتہ پانچ سالوں میں اپنی جماعت کی کارکردگی سے مایوس ہوا ہے اور کسی صورت بھی پولنگ بوتھ پر جانے کو تیار نہیں، اس اعتبار سے تقریباً ہر حلقے میں لگ بھگ پچیس سے تیس ہزار ووٹ شفٹ ہوگیا ہے ، جو پنجاب میں ن لیگ کی کامیابی کا سبب بنا ہے! اندریں حالات اگر عام انتخابات میں ن لیگ کو کسی مقابلے کا سامنا ہو سکتا ہے تو وہ تحریک انصاف سے ہو سکتاہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف ہر حلقے میں اپنے لئے پیدا ہونے والے نئے ووٹ کے علاوہ شفٹ ہونے والے ووٹوں کا نصف توڑسکتی ہے یا نہیں ، اگر ایسا ہوگیا تو تحریک انصاف بلاشبہ انتخابات میں ایک قابل ذکر ووٹنگ پیٹرن بنا سکے گی، تاہم اس بار ے میں قطعی طور پر جنوری کے بعد ہی کچھ کہا جا سکے گا جب عمران خان عوامی جلسوں سے خطاب شروع کریں گے اور بڑے بڑے حلقوںمیں خود جا کر عوام کو اپنی جماعت کے امیدواروں کے حق میں ووٹ کے لئے تیار کریں گے، یو ں اگلے انتخابات میں ن لیگ کی اصل حریف تحریک انصاف ہی ہوگی اور پیپلز پارٹی اور ق لیگ میں اتنا دم خم نہیں ہوگا کہ ن لیگ کی مقبولیت کے آگے بندھ باندھ سکے! دوسری جانب جس انداز میں ایم کیو ایم اور اے این پی ن لیگ پر حملہ آور ہوئی ہیں ، اس سے فی الوقت یہی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ جماعتیں ن لیگ کے سحر کو توڑنے کے لئے سرگرداں ہیں، اے این پی کا کہنا ہے کے اسفند یارولی کا کہنا ہے کہ وہ تن تنہا الیکشن لڑیں گے لیکن ساتھ ساتھ انتخابی اتحاد کے لئے بھی تیار نظر آرہے ہیں ،کچھ ایسا ہی انداز ایم کیو ایم کا ہے جس کے بارے میں افواہیں ہیں کہ جلد ہی پیپلز پارٹی کے اتحاد سے الگ ہو جائے گی، ایم کیو ایم کو اس بات کا بھی قلق ہے کہ کراچی میں ووٹر لسٹوں کی ازسرنو تیاری اور نئی حلقہ بندیوں کے معاملے پر ن لیگ نے کھل کر اس کی مخالفت کی ہے ، اسی لئے ضمنی انتخابات کے دوران پنجاب میں اسلحے کی کھلے بندوں نمائش اور دھاندلی کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات پر ایم کیو ایم بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے الیکشن کمیشن کی غیرت کو للکار رہی ہے ، یہی نہیں سپریم کورٹ کی غیر جانبداری پر بھی سوالیہ نشان لگارہی ہے ، دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ اس پر کس ردعمل کا اظہار کرتے ہیں، یا پھر کرتے بھی یا نہیں کیونکہ ابھی تک کی صورت حال میں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ ضمنی انتخابات میں حکومت اور اس کی حلیف جماعتوں کے شوروغوغا سے چنداں متاثر نہیں ہوئے اور صلاح دے رہے ہیں کہ اگر کسی کو شکایت ہے اور ٹھوس شواہد ہیں تو باقاعدہ کاروائی کی درخواست دے! مذہبی جماعتوں کے علاوہ اے این پی واحد جماعت ہے جس نے ضمنی انتخابات کے نتائج پر شوروغوغا نہیں کیا، اگر کیا تو کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے فیصلے پر لاہور ہائی کورٹ کے خلاف کیا، تاہم نواز شریف کی محتاط بیان بازی نے نوشہرہ والوں کا غصہ ٹھنڈا کردیا، یوں بھی اے این پی کے گلے میں تحریک انصاف ہڈی کی طرح پھنس گئی ہے ، اگر ن لیگ اور بڑی مذہبی جماعتیں خیبرپختونخوا میں آزاد حیثیت میں انتخابی معرکے میں اتریں تو اے این پی تحریک انصاف کے سامنے زمیں بوس ہو جائے گی ، اس لئے خیبر پختونخوا میں اے این پی اور کراچی میں ایم کیو ایم ایک ہی جیسی صورت حال کا شکار ہیں، یہ دونوں اسلام آباد میں کبھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے تھے ، اب ان دونوں کے خلاف فیصلہ کن وار ہونے والا ہے، اگلا انتخاب کہیں واقعی معلق پارلیمنٹ پر منتج نہ ہو!

مزید : کالم