شہباز شریف کے شہر میں آدم خور

شہباز شریف کے شہر میں آدم خور
شہباز شریف کے شہر میں آدم خور

  

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے شہر میںنئی نئی سڑکوں، اوورہیڈ برجوں اور انڈر پاسز کی بہار ضرور آئی ہو گی، یہاں وزیروں اور بڑے بڑے بیوروکریٹوں کی کرپشن کے سامنے بند بھی ضرورباندھا گیا ہو گا، صحت کے شعبے میں پچھلے پینسٹھ سالوں کے بگڑے ہوئے کام سنوارے جا رہے ہوں گے، کھیل اور تعلیم کے میدان میں انقلابی اقدامات کی بنیاد ضرور رکھی جا رہی ہو گی مگر یہ امر بھی حقیقت ہے کہ وزیراعلیٰ اپنے صوبے میں پولیس کو نتھ نہیں ڈال سکے، تھانہ کلچر میں دس فیصد بہتری بھی نہیں لا سکے۔ پولیس کا وہ ادارہ جسے آئینی طور پر شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے بنایا جاتا ہے وہی عوام کے جان و مال کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ایک عام آدمی گناہ کرے تو بری بات لیکن اگرعالم گناہ گار ہو تو وہ بدتر ہے، عام آدمی اگر جاہل ہو تو کوئی بات نہیں لیکن اگر استاد جاہل ہو تو وہ بدتر ہے ، اسی طرح عام آدمی کسی کی جان لے لے توبری بات ہے لیکن وہ پولیس جسے عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری دی گئی ہے، جان لے تو بدترین ہے۔

    پولیس نے لاہور میں پھروہی ڈرامہ ترتیب دیا جس کا سکرپٹ انہیں ازبر ہو چکا، جس کی ریہرسل بار بار کر چکے۔ چکوال کے محسن نامی نوجوان کو غالب مارکیٹ پولیس نے رات کے اندھیرے میں گولی ماردی، ایس پی ماڈل ٹاو¿ن ملک اویس نے میڈیا کو رٹی رٹائی پوری کہانی سنا دی کہ یہ دوڈکیٹ تھے، جنہوں نے خالد کلینک کے قریب پولیس سے مقابلہ کیا، اس نوجوان کی پسلیوں میں دو گولیاں لگیں جس کے بعد اس سے خالد کلینک سے زبردستی علاج کروانے کی کوشش کی مگر بعد میں فرار ہونے کی کوشش میں پولیس نے اسے دھر لیا، اس نے پولیس کے سب انسپکٹر پر بھی گولی چلائی مگروہ اسی طرح محفوظ رہا جیسے جعلی مقابلوں میں ہمیشہ پولیس والوں کو خراش تک نہیں آتی ۔ یہ مقابلہ بھی اسی طرح رات میں ہوا جیسے اکثر جعلی پولیس مقابلے سورج ڈوبنے کے بعد ہی ہوتے ہیں جیسے پولیس والے سورج سے شرمندہ ہوں۔ مگر اس اندھیرے میں بھی وہاں لگے ہوئے سی سی ٹی وی کیمرے نے پولیس والوں کی پوری کارستانی اپنے اندر محفوظ کر لی، اس ویڈیو کے سامنے آنے پر علم ہوا کہ نوجوان محسن کو پولیس نے دوڑ لگوائی کہ بھاگ جاو¿، وہ بھاگا اور قریب ہی جھاڑی میں چھپ گیا، پولیس کا ہر طرف سے گھیرا تھا،وہاں ایک کار آئی تو اسے واپس بھیج دیا گیا اور ایک موٹرسائیکل کی روشنی میں محسن کو ٹریس کیا گیا اور اسے گولیاں مار دی گئیں۔ قریب ہی سادہ کپڑوں میں پولیس اہلکار کھڑا تھا جس نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا پستول زمین پر وہاں پھینک دیا جہاں محسن کی نعش کو پہنچایا گیا۔ میں حیرت زدہ ہوں کہ وہ سب انسپکٹر اسد اور وہ ایس پی ملک اویس کس طرح اپنے بچوں، اپنے رشتے داروں اور اپنی سماجی محفلوں میں لوگوں کے سامنے جائیں گے جن کے ہاتھوں پر ایک بے گناہ کا خون لگا ہوا ہو گامگراس سوال پر مجھے سبزہ زار کے مبینہ پولیس مقابلے میں مرنے والے شہباز بٹ کی آواز سنائی دے رہی ہے ، وہ کہہ رہا ہے کہ اسی طرح یہ ایس پی بھی گرج برس کے نوکری کرے گا جس طرح اسے قتل کرنے والا ڈی ایس پی ریاست باجواہ افسری کر رہا ہے، میجر ریٹائرڈ مبشر نے ہائی کورٹ کو پیش کی جانے والی انکوائری میں اسے قاتل قرار دیا تھا اوراس پر قتل عمد کا مقدمہ درج ہو گیا تھا۔ فوجداری وکیل آفتاب باجواہ بتاتے ہیں کہ اگر کوئی پولیس والا ایسے کسی مقدمے میں پھنس جائے تولاہور کے تمام تھانوں سے بیس سے تیس ہزار روپے اکٹھے کر کے اسلامی قانون ” دیت“ کا مذاق بنا دیا جاتا ہے، ورثاءکو رقم کے ساتھ ساتھ دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں اور قاتل افسر عین اسلامی طریقے سے معافی حاصل کرتے ہوئے نوکری پر بحال ہوجاتا ہے۔ شہباز بٹ کے ساتھ مجھے اس نوجوان کی آواز بھی سنائی دی جسے ستوکتلہ کے علاقے میں اس کی ماں کی موجودگی میں پولیس اہلکاروں نے قتل کر دیا تھا، ماں کے ساتھ جناح ہسپتال سے اپنے عزیز کی عیادت کر کے سائیکل پر آنےو الے کو پولیس اہلکاروں نے روکا، موج مستی کرتے ہوئے اس نوجوان سے کہا گیا کہ تم اس عورت کے ساتھ رنگ رلیاں منانے جا رہے ہو، انیس سالہ نوجوان غصے میں آگیا اور کہا کہ اس کی ماں ہے، پھر ان اہلکاروں نے ماں کی شان میں گستاخی کی، نوجوان کی برہمی پر اسے موت کی سزا دے دی گئی اور پھر ان پولیس اہلکاروں نے اپنے افسروں کو ساتھ ملاتے ہوئے اس ماں کو صلح پر مجبور کر دیا ۔۔۔ یہ میرے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا شہر ہے جس پر ان کے سابق دور حکومت میں سبزہ زار میں پولیس مقابلے کی ذمہ داری عائد کی گئی تھی، وہ جلاوطنی ختم کر کے آئے تھے تب بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں حاضر ہو تے رہے تھے، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ان کی بریت کے خلاف درخواست سماعت کے لئے منظور ہو چکی ہے مگر ان کی طرف سے اس الزام کو عدالت میں بھگتنے کے باوجود سیاسی مخالفین یہی کہتے ہیں کہ پولیس مقابلے انہی کی ہدایت پر ہوتے ہیں تاکہ ان جرائم پیشہ افراد کا دھرتی سے وزن کم کیا جا سکے جن کے خلاف عدالتوں میں گواہیاں اور ثبوت پیش نہیں ہو پاتے اور ۔۔۔ وہ بری ہوجاتے ہیں، اور انہی کی نام لیتے ہوئے پولیس جعلی مقابلوں میں بے گناہوں کو پار کرنے لگتی ہے، سپاریاں لینے اور بکنگیں کرنے لگتی ہے۔

    آئی جی پنجاب حاجی حبیب الرحمان بارے بھی کہا جاتا ہے کہ وہ پولیس مقابلے کرنےو الے افسروں کو انعامات سے نوازتے ہیں۔ وہ پولیس افسروں کو کہتے ہیں کہ انہیں خوش خبریاں چاہئیں اور خوش خبری کا مطلب پولیس مقابلے ہی لئے جاتے ہیں۔ یہ وہ پولیس ہے جس کے ایک ونگ نے ایک ہی ماں کے پانچ بیٹے مقابلوں میں مار دئیے اور ماں سلمیٰ بی بی باقی چار بیٹوں کی جان بچانے کے لئے عدالت میں پیش ہو گئی، یہی وہ پولیس ہے جو ایک دن میں چوہنگ میں تین بندوں مارنے کے ساتھ صوبے بھر میں نو ، نو آدمیوں کا خون پی جاتی ہے مگر اپنے دامن پر کوئی داغ،خنجر پر کوئی چھینٹ تک نہیں آنے دیتی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس پولیس پر کسی کا کوئی کنٹرول نہیں، وہ پولیس جو کمیونٹی پولیسنگ تک کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں، جس کے ڈی ایس پیز اور ایس پیز نے ہمارے تاجروں، نام نہاد سماجی رہنماو¿ں کو اپنا ٹاو¿ٹ اور سیاسی رہنماو¿ں کو اپنا” کانا “بنارکھا ہے۔ یہ سندھ میں وزیراعظم کے بھائی کو مار کے بھی محفوظ ہے اور پنجاب میں عوام کو گاجر مولی کی طرح کاٹنے کے بعد بھی۔

    مجھے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے بہت احترام کے ساتھ کہنا ہے کہ آپ پولیس میں اصلاحات میں مکمل طور پر ناکام ہو گئے، آپ کا صوبہ ہی نہیں آپ کامثالی شہر تک ایک پولیس سٹیٹ ہے۔ یہ پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں اضافہ، یہ اس کے ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن سمیت تمام اقدامات پانی پر لکھے ہوئے لفظوں کی طرح رہے ہیں۔آپ کے شہر میں ہر ایس ایچ او ایک کرائے کے قاتل کی مانند ہے جسے کسی بھی وقت ہائر کیا جا سکتا ہے۔ وہ پولیس جو دعویٰ کرتی ہے کہ اس سے لاہور شہر میں کوئی مافیا نہیں بننے دیا، وہ اس ایک کروڑ آبادی کے شہرکا سب سے بڑا مافیا بن گئی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ پولیس افسران کیا منہ لے کر خانہ کعبہ اور روضہ رسول صلی اللہ و علیہ وسلم پر حاضر ہوتے ہوںگے،کیا ان کی زبانو ں سے انسانی خون کے ٹپکتے قطرے ،کیا ان کے دانتوں میں انسانی بوٹیوں کے ریشے وضو کرنے سے نکل جاتے ہوں گے۔ کیا طواف کرتے ہوئے ان کااحرام سفید ہی رہتا ہوگا۔ شہباز شریف کے شہر میں ایک اور نوجوان کو صرف ایک محکمانہ سرٹیفیکیٹ، صرف آئی جی کی طرف سے ایک سفارش اور ایک پروموشن کے لئے قتل کر دیا گیا۔ اب پولیس اس فوٹیج کو غلط ثابت کرنے کے لئے زور لگا رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ضمیر فروشوں کے ہجوم میں پولیس والوں کو ایسے بے شمار گواہ مل جائیں گے جو فوٹیج کو غلط ثابت کرتے ہوئے بتائیں گے کہ انہوں نے محسن کو گولیاں چلاتے ہوئے خود دیکھا، پسلیوں میں گولیاں لگنے کے بعد بھی کئی کلومیٹر دور تک بھاگتے دیکھا ۔۔۔ مگر جو مجھے ایک عام شہری ، ایک عام صحافی ہوتے ہوئے نظر آ رہا ہے کیا شہباز شریف ، پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے نہیں دیکھ رہے۔۔۔ جو جانور آدم خور ہوجائے پھر وہ یہ نہیں دیکھتا کہ وہ غریب آدمی کا بچہ کھا رہا ہے یا کسی امیر آدمی کا۔ ہماری پولیس آدم خور ہو چکی ہے، ابھی تک اس شہر میں یہ غریبوں کے بچے کھا رہی ہے، مجھے یہی درخواست کرنی ہے کہ اس آدم خور کو کسی بڑی تباہی سے پہلے کسی آئین، کسی قانون اور کسی تہذیب کے پنجرے میں بند کر دیا جائے۔

مزید : کالم