ضمنی انتخابات، دھاندلی کے الزام، کسی نے تحریری شکایت نہیں کی

ضمنی انتخابات، دھاندلی کے الزام، کسی نے تحریری شکایت نہیں کی
ضمنی انتخابات، دھاندلی کے الزام، کسی نے تحریری شکایت نہیں کی

  

صوبائی الیکشن کمشن کی طرف سے کی جانے والی وضاحت نے نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے کسی بھی امیدوار نے کمشن سے تحریری شکایت نہیں کی۔ کمشن کے مطابق کوئی شکایت باقاعدہ کی جاتی تو یقیناً تحقیقات ہوتی، دوسری طرف چیف الیکشن کمشن کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) فخر الدین جی ابراہیم نے دھاندلی کے الزامات کا نوٹس لیا اور رپورٹ طلب کر لی۔ حالیہ ضمنی انتخابات مسلم لیگ ن کا پلہ بھاری رہا، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ق کے اتحاد کے مقابلے میں مسلم لیگ ن نے سات میں سے پانچ نشستیں جیت لیں ان میں قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی تین نشستیں شامل ہیں، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ق نے ایک ایک نشست جیتی ہے، انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی پنجاب(وسطی) کے صدر میاں منظور وٹو نے کھل کر الزام لگایا کہ ضمنی انتخاب دھاندلی سے جیتا گیا ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ ق کی طرف سے بھی یہ الزام لگایا گیا اور عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا گیا تاہم الیکشن کمشن کے وضاحتی بیان نے فی الحال ان حضرات کے دعوﺅں کی نفی کر دی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ق اپنے دعوﺅں کو سچ ثابت کرنے کے لئے الیکشن کمشن سے رجوع کرتی ہے یا پھر انتخابی عذر داری کا سہارا لیا جاتا ہے کیونکہ کامیابی کا نوٹیفیکیشن تو ہو چکا، اب تو ارکان کے حلف اٹھانا ہے۔ حلف کے بعد تو صرف انتخابی عذر داری ہی رہ جاتی ہے اور انتخابی عذر داریوں کے فیصلے جلد ہونا ممکن ہی نہیں ۔ بہتر طریقہ یہ تھا کہ دھاندلی کے جو ثبوت پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ق کے پاس تھے ان کی بناءپر الیکشن کمشن سے فوراً رجوع کر لیا جاتا ۔

اب صورتحال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن ان ضمنی انتخابات کی کامیابی کو عام انتخابات کا ٹریلر قرار دیتی ہے اور میاں محمد نواز شریف نے تو اب دو تہائی اکثریت پر نگاہ لگا لی۔ گزشتہ روز نو منتخب اراکین اور پارٹی راہنماﺅں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کارکن تیاری کریں مسلم لیگ ن آئندہ انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرے گی۔ مسلم لیگ ن 1996ءکے انتخابات میں یہ معرکہ سر کر چکی ہوئی ہے۔ ان کی حکومت کو جنرل(ر) پرویز مشرف نے گرایا تھا، دوسری طرف پیپلزپارٹی ان نتائج کی بنیاد پر آئندہ انتخابات کی کامیابی تسلیم نہیں کرتی قمر زمان کائرہ کے مطابق مسلم لیگ ن نے اپنی جیتی ہوئی نشستیں ہی واپس لی ہیں۔

ایک طرف یہ صورتحال ہے تو دوسری طرف تیسری قوت کی مداخلت کو دعوت دینے والے طبقہ فکر کے نمائندہ ایک صحافی اب ہاتھ دھوکر عام انتخابات کے پیچھے پڑ گئے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انتخابات میں تاخیر ہو گی اور مجبوراً تیسری قوت کو مداخلت کرنا پڑے گی۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین اور حکومت موجودہ اسمبلیوں کی معیاد کے بعد عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے پرامید ہیں اور ان کی کوشش یہی ہے کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہوں ۔ اگر ایسا نہ ہوا تو زیادہ خرابی ہوگی۔ حالات پہلے ہی اچھے نہیں ، مزید خراب ہوں گے اور کسی تحریک کے نتیجے میں خون خرابا ہو سکتا ہے۔ یہی وہ خدشہ ہے جس کی بنیاد بنا کر حکومت مخالف گروپ حکومت ختم کرانے کے لئے ایسی صورتحال کو بھی دعوت دے رہا ہے۔ حالانکہ الیکشن کمیشن نے بھی واضح کر دیا ہے کہ ووٹوں کی تصدیق مقررہ وقت میں ہو گی اور اس کا الیکشن پر اثر نہیں پڑے گا۔ جہاں تک ایم کیو ایم کے اعتراض کا تعلق ہے تو یہ عذر عدالت عظمیٰ کے بینچ کے سامنے پیش کیا گیا جو نہیں مانا گیا ووٹوں کی تصدیق کے لئے عدالت عظمیٰ نے حکم دے دیاہے اور عمل الیکشن کمشن نے کرنا ہے، حکومت اسے روک نہیں سکے گی جہاں تک حالات میں نئے محرکات اور موڑ کا تعلق ہے تو وہ معاملہ پاکستان کے اندر کا نہیں ، برطانیہ کا اندرونی مسئلہ ہے کہ اس کا شہری قتل ہوا تھا۔

مزید : تجزیہ