تجارت کو فروغ ،دہشت گردی کا خاتمہ ،پاک ،ترک ،افغان کانفرنس کا اتفاق،عوام کو انتہاپسندانہ سوچ کا سامنا ہے:زرداری

تجارت کو فروغ ،دہشت گردی کا خاتمہ ،پاک ،ترک ،افغان کانفرنس کا اتفاق،عوام کو ...
تجارت کو فروغ ،دہشت گردی کا خاتمہ ،پاک ،ترک ،افغان کانفرنس کا اتفاق،عوام کو انتہاپسندانہ سوچ کا سامنا ہے:زرداری

  

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان ،ترکی اور افغانستان کے مابین ساتویں سہ فریقی کانفرنس تجارتی تعلقات بڑھانے اور خطے سے دہشتگردی کے خاتمے پر اتفاق کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی۔ ترکی کی میزبانی میں ہونے والی اس کانفرنس سے خطاب میں صدر زرداری کا کہنا ہے کہ افغان انٹیلی جنس چیف پر حملہ پاک افغان اتحاد کو ناکام کرنے کی سازش ہے۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں ترک صدر عبداللہ گل کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں۔ ترکی افغانستان میں امن عمل کے حوالے سے پ±رعزم ہے۔ وہ کانفرنس میں شرکت کرنے پر صدر زرداری اور حامد کرزئی کے شکر گزار ہیں۔ افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا تھا خطے میں امن کی کوششوں سے مثبت اثرات ظاہر ہوں گے۔ پاک، افغان عوام کو دہشت گردی کی لعنت سے نجات دلانا ہوگی۔صدر زرداری کا کہنا تھا کہ افغان انٹیلی جنس چیف پر حملہ پاک افغان اتحاد ختم کرنے کی سازش ہے۔ دہشت گردی کی سوچ سے سب متاثر ہو رہے ہیں اسے شکست دینا ہوگی۔ پاک افغان عوام کو انتہا پسندانہ سوچ کا سامنا ہے۔ اس سے پہلے صدر زرداری نے ترک صدر اور وزیراعظم سے الگ الگ ملاقات کی جس میں پاکستان اور ترکی نے مشترکہ منصوبوں پر جلد عمل درآمد، دونوں ممالک کے نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی اور کاروباری افراد کیلئے آسان تجارتی طریقہ کار وضع اور مواقع پیدا کرنے پر اتفاق کیا گیا۔پاکستان اور ترکی کا مشترکہ منصوبوں پر جلد عمل درآمد، نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی اور کاروباری افراد کیلئے سہل تجارتی طریقہ کار وضع اور مواقع پیدا کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری کی ترک صدر اور وزیراعظم سے الگ الگ ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی امو ر پر گفتگو ہوئی۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے دونوں ممالک کے درمیان شاندار سیاسی تعلقات کو دونوں عوام کے باہمی مفاد کیلئے مضبوط اور دیرپا اقتصادی روابط میں ڈھالنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس موقع پر صدر آصف علی زرداری نے ترک قیادت کے ساتھ دوطرفہ علاقائی اور بین الاقوامی امور، افغانستان میں امن کے عمل اور مشرق وسطی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کی۔انہوں نے کہا کہ سہ فریقی سربراہ اجلاس میں ہماری موجودگی افغانستان اور خطہ میں امن و استحکام کے مشترکہ مقاصد کے حوالہ سے کردار ادا کرنے کی ہماری اجتماعی خواہش کی عکاس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وسیع تر رابطوں اور گل ٹرین جیسے مزید منصوبوں کا آغاز کرنے کے ساتھ ساتھ تجارت کے راستوں میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر زرداری نے علاقائی امن و استحکام میں تعمیری کردار پر ترک قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ افغانستان اور وسیع تر خطہ میں امن و استحکام کو یقینی بنانا پاکستان، افغانستان اور ترکی کیلئے فوری ترجیح کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہ فریقی سربراہ اجلاس میں ہماری موجودگی افغانستان اور خطہ میں امن و استحکام کے مشترکہ مقاصد کے حوالہ سے کردار ادا کرنے کی ہماری اجتماعی خواہش کی عکاس ہے۔ صدر نے کہا کہ پاکستان اس امر پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام ہمارے قومی مفاد میں ہے لہذا پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کیلئے تمام تر کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔MJ-Zardari-dec12

مزید : قومی