خیبر پختونخواحکومت کا قطری شہزادے کو تلور کے شکار کی اجازت دینے سے انکار

خیبر پختونخواحکومت کا قطری شہزادے کو تلور کے شکار کی اجازت دینے سے انکار

 پشاور(اے این این) خیبر پختونخوا حکومت نے قطری شہزادے کو تلور کے شکار کی اجازت دینے سے انکار کر تے ہوئے کہاہے کہ صوبے کو پنجاب کی طرز پر قطری شہزادوں کی شکار گاہ میں تبدیل نہیں کیاجاسکتا ،قطری شہزادہ ہو یا کوئی اور کسی کو بھی غیرقانونی شکار کی اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاہے کہ نایاب پرندے کا شکار غیر قانونی ہے۔میڈیارپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے قطری شہزادے کو تلور کے شکار کی اجازت دینے کے حوالے سے خیبر پختون خوا حکومت نے رابطہ کیا تاہم صوبائی حکومت نے نایاب پرندے کے شکار کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے قطری شہزادے کو شکار کی اجازت دینے سے معذرت کر لی ۔ مشیر وزیراعلی پختونخوا برائے ماحولیات اشتیاق ارمڑ نے کہاہے کہ وفاق نے صوبائی حکومت سے قطری شہزادے کے لئے ڈیرہ اسماعیل خان میں تلور کے شکار کی اجازت کے لئے رابطہ کیا تھا جسے صوبائی حکومت نے سختی سے مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پختونخوا حکومت نے اپنی صوبائی حدود میں تلور کے شکار پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے، ہم اپنے صوبے کو پنجاب کی طرز پر قطری شہزادوں کی شکار گاہ میں تبدیل نہیں کرسکتے، قطری شہزادہ ہو یا کوئی اور کسی کو بھی غیرقانونی شکار کی اجازت نہیں دی جائے گی اور 18 ویں ترمیم کے بعد اس حوالے سے فیصلہ کرنا ہمارا صوابدیدی اختیار ہے۔مشیر وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت چیئرمین تحریک انصاف کے وژن کی روشنی میں قانون کی عمل داری کو یقینی بنانے میں کوئی کوتاہی نہیں برتے گی، اس سے پہلے بھی صوبے کی حدود میں ایک قطری شہزادے نے تلور کا شکار کیا تھا جسے پکڑ کر 80 ہزار روپے جرمانے کی سزا دی گئی تھی اور اب بھی اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پراپنے پیغام میں کہا ہے کہ نایاب پرندے کا شکار غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کہاکہ نوازشریف کا اپنے ذاتی مفادات کے لئے پاکستانی شہریوں کو حراساں کرنا انتہائی حیران کن فعل ہے، کسی بھی جمہوری معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ میں خود خیبرپختون خوا کے وزیراعلی سے بات کروں گا کہ وہ کسی کو بھی نایاب پرندے تلور کے شکار کی اجازت نہ دیں اور پرندوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں کیونکہ یہ ایک غیرقانونی عمل ہے۔

انکار

مزید : صفحہ اول