اُسامہ احمد وڑائچ کی جدائی کا زخم کبھی نہیں بھرے گا،والدہ

اُسامہ احمد وڑائچ کی جدائی کا زخم کبھی نہیں بھرے گا،والدہ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)طیارہ حادثے میں شہید ہونے والے ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد وڑائچ شہید کی والدہ نے پہلی بار بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے اُسامہ کی تربیّت کرتے ہوئے دو باتوں پر بہت زور دیا سب سے پہلے دیانتداری اور رزقِ حلال پراور دوسری، آخرت میں جوابدہی کا احساس۔ میں اُسامہ کو کہا کرتی تھی کہ تمہاری کمائی یا کھانے پینے میں ایک پیسہ بھی حرام کا شامل نہیں ہونا چاہئے اور تمہیں یہ احساس رہنا چاہئے کہ ہم نے اپنے ایک ایک فعل کا اپنے مالک کے سامنے جواب دینا ہے، اﷲ کا شکر ہے کہ اُسامہ نے ان باتوں کو ایمان کا حصّہ بنالیا۔ وہ کھانے اور کپڑوں کا بالکل شوقین نہیں تھا میں جو سلواتی پہن لیتا تھا۔ اسے ایک ہی شوق تھا کہ میں لوگوں کیلئے زیادہ سے زیادہ کام کرجاؤں۔ وہ شائد جلدی میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اُسامہ بہت فرمانبردار بیٹاتھا ہمارا بہت خیال رکھتا تھا، مجھے اپنی تمام سرگرمیوں سے آگاہ رکھتا تھا۔ اسکے آنے پر گھر میں رونق اور خوشیاں آجاتی تھیں، میں اسکے لئے طرح طرح کے کھانے پکاتی تھی۔ اس روز بھی میں نے اسکے لئے گاجروں کی کھیر بنائی تھی۔ ڈرائیور اسے لینے ائر پورٹ چلاگیا تھا۔ میں بار بار فون پر پتہ کرتی رہتی تھی۔ پہلے اُسامہ کو فون کیا تو فون بند ملا، پھر ڈرائیور کو فون کیا تو بھی بند ملا، اچانک ٹی وی لگایا تو طیارہ غائب ہونے کی خبر سر پر بجلی بن کر گری۔ میں نے ہمّت کرکے اُسامہ کے ابّو کو بتایا ۔ پھر بھائی کو فون کیا ۔ بھائی نے تسلّی دینے کی کوشش کی مگر میں جان چکی تھی کہ ہماری دنیا لُٹ چکی ہے۔ اُسامہ کی جدائی میرے لئے ناقابلِ برداشت ہے کبھی سوچتی ہوں یہ زخم کبھی نہیں بھرے گا، اب کس کے لئے جیونگی۔ مگر پھر جب بڑے بڑے سکالرز نے یہ بتایا ہے کہ اُسامہ شہادت کے مرتبے پر فائز ہوا ہے تو سہارا ملا ہے، تسلّی ہوئی ہے انشااﷲمیرا شہید بیٹا ہماری بخشش کا بھی سبب بنے گا"۔ اُسامہ کے والد ڈاکٹر فیض احمد جو نسٹ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں ، کہا کہ صدمہ تو ناقابلِ برداشت ہے مگر یہ جان کر بہت تسلّی ہوتی ہے کہ اُسامہ نے چند سالوں میں ہی قابلِ فخر کارنامے سرانجام دیئے اسی لئے ایبٹ آباد، پشاور اور چترال کے لوگ اس سے اتنی محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ چترال سے لوگ بیس بیس گھنٹے کا سفر کرکے ہمارے پاس افسوس کیلئے آئے ہیں وہ اُسامہ کو اپنا محسن قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اُسامہ اپنے ماموں ذوالفقار کو اپنا آئیڈیل سمجھتا تھا اور سروس میں آنے کے بعد ان سے راہنمائی لیتا تھا۔ مجھے شہید کا والد ہونے پر فخر ہے۔ ایبٹ آباد، پشاور اور چترال سے ہر روز عام لوگ کئی کئی گھنٹے کا سفر کرکے اُسامہ شہید کے والد اور والدہ کے پاس آتے ہیں اور اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُسامہ ہمارا محسن اور ھیرو تھا۔ اُسامہ ہمارا غمگسار اور مددگار تھا، چترال کے لوگ شہیدکے والد صاحب کو بتاتے رہے کہ چترال کے ہر گھر میں اپنے محسن اُسامہ شہید کیلئے لوگ رورہے ہیں اور دعا کررہے ہیںَ چترال کے عام لوگوں کا کہنا تھاکہ چترال میں انگریزوں کے بعد اگر کسی افسر نے عوام کی خدمت کی ہے تو وہ اُسامہ شہید تھا۔

مزید : صفحہ اول