قبروں کی جگہ فروخت کرنے والوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

قبروں کی جگہ فروخت کرنے والوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

کراچی (خصوصی رپورٹ )کراچی میں قبروں کی جگہ فروخت کرنے والوں کے خلاف پولیس حرکت میں آگئی ، عزیز آباد میں قبروں کی جگہ فروخت کرنے کے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ، پولیس نے قبرستانوں کی مانٹرینگ کے لیے کمیٹی بھی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی میں قبروں کی جگہ فروخت کا مکروہ دھند کرنیوالوں کے خلاف گھیرا تنگ کر نے کے لیے پولیس نے تحقیقات انٹیلی جنس کے شعبہ کو دے دی ، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کروہ اور گھناؤنے کارروبار میں کوئی نہیں بچے گا یہ ہمارے ایمان کا تکاذہ ہے ۔ قبرستانوں کی مانیٹرینگ کی جائے گی جس کے لیے کمیٹیاں قائم کی جائیں گی اور اس بات کا فیصلہ کیا ہے ، کمیٹی قبرستانوں میں ہونے والی جگہ کی کٹنگ کے حوالے سے بھی تفصیلات جمع کرے گی ۔ پولیس نے قبروں کی جگہ فروخت کرنیوالے اور مردوں کی باقیات کو فروخت کرنے والے گروہوں کے کارندوں کی تلاش کا ٹاسک پولیس کی انٹیلی جنس کے اداروں کے سپر کر دیا ہے اس ضمن میں گزشتہ دنوں یاسین آباد قبرستان میں قبروں کی جگہ فروخت کرنے والے گروہ کے سرغنہ اعجاز کی تلاش میں بھی چھاپے مارے جارہے ہیں ملزم کے ایم سی کا ملازم اور غیر علانیہ طور پر کالعدم سیاسی جماعت کا کارندہ ہے ۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں قبرستانوں میں گھناؤنے کاروبار میں ملوث گروہوں کی بیخ کنی کے لیے گینگ کی سرپرستی کرنے والے اہلکاروں گرفتاری کے لیے کے ایم سی کے حکام سے رابطہ کیا جائے گا ۔ اس حوالے سے مذکورہ کے ایم سی کا ملازم اعجاز کے خلاف شواہد اکھٹے کئے جارہے ہیں کہ وہ قبروں کی فروخت میں رشوت کی رقم کے ایم سی کے کن ملازمین میں تقسیم کرتا تھا ۔ گرفتار ملزم نعیم عرف کالو نے ڈیڑھ ہزار سے زائد قبروں کی جگہ فروخت کرنے کا اعتراف کیا ہے اس ہم انکشاف کے بعد پولیس نے شہر میں بڑے پیمانے پر کارراوائی کا فیصلہ کیا ہے ۔ ملزمان قبریں فروخت کرنے اور جادو گروں سمیت دیگر میڈیکل کی ہڈیا ں فروخت کر نے والے افراد کو قبروں سے نکالی گئی باقیات کو فروخت کرنے کا مکروہ دھندا کافی عرصے سے جاری رکھے ہوئے تھے ، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ایک ماہ میں ڈیڑھ سو قبریں کھودیں ۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قبرستان جائیں اور اپنے پیاروں کی قبروں کا جائزہ لیں ، کوئی مشکوک حرکت محسوس ہو تو پولیس کو اطلاع دیں ۔

مزید : کراچی صفحہ اول