امن اور ترقی نبی پاکﷺ کے نقوش پر چلنے سے ملے گی، مہذب معاشرے کی پہلی اینٹ انسان کا احترام، 3 سال کی مسلسل کوشش سے فساد کا دروازہ بڑی حد تک بند ہو گیا: وزیراعظم

امن اور ترقی نبی پاکﷺ کے نقوش پر چلنے سے ملے گی، مہذب معاشرے کی پہلی اینٹ ...
امن اور ترقی نبی پاکﷺ کے نقوش پر چلنے سے ملے گی، مہذب معاشرے کی پہلی اینٹ انسان کا احترام، 3 سال کی مسلسل کوشش سے فساد کا دروازہ بڑی حد تک بند ہو گیا: وزیراعظم

  


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ امن اور ترقی کی منزل نبی پاکﷺ کے نقوش پر چلنے سے مل سکتی ہے ۔ مہذب معاشرے کی پہلی اینٹ انسانیت کا احترام ہے۔ گزشتہ سالوں میں اختلاف رائے کی بنیاد پر گلے کاٹے گئے مگر اللہ کا شکر ہے کہ ہماری 3 سال کی مسلسل کوشش سے فساد کا دروازہ بڑی حد تک بندہو گیا ہے۔

نبی کریم ﷺ کی آمد کا جشن مذہبی عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے ، ملک بھر میں گلیاں بازار اور گھر روشنیوں میں نہا گئے

تفصیلات کے مطابق قومی سیرت النبی ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی تشریف آوری اس بات کا اعلان تھا کہ آسمان سے نازل ہونے والی ہدیت اپنے درجہ کمال کو پہنچ چکی ہے اور ان کی آمد نبوت کے سلسلے میں آخری پڑاﺅ تھا جس کا آغاز حضرت آدم ؑ ہوا تھا۔ اس دوران انسانی زندگی نے ارتقاءکے بہت سے مراحل طے کئے، تہذیب نے بہت سے رنگ بدلے، علم کی دنیا میں نئے نئے خیالات اور نظریات نے جنم لیا، اس ارتقائی سفر نے انسان میں وہ صلاحیت پیدا کر دی کہ اب وہ آسمانی ہدایت کو پوری گہرائی کے ساتھ سمجھ سکتا تھا اور اس کی روشنی میں ایک نئی دنیا کو تعمیر کر سکتا تھا۔

تاریخ کے اس مرحلے پر اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ میں نے دین کی تکمیل کر دی، میری نعمت اب تمام ہو گئی، یہ تاریخ ساز واقعہ رحمت العالمین حضرت محمد ﷺ کی ذات مبارکہ سے حقیقت بنا،یہی وجہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی تشریف آوری کو مومنوں پر اپنا احسان قرار دیا، اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانوں پر اس سے بڑا کوئی احسان نہیں ہو سکتا تھا، انہیں دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت کا راستہ دکھا دیا گیا۔ اب قیات تک ہدایات اور نجات آپ کے نقوش قدم میں سمٹ آئی ہے اور جو اپنا کا قدم آپﷺ کے قدم پر رکھے گا، نجات اسی کا مقدر ہو گی۔

اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ نے اس امت پر حق کی شہادت دی، پھر یہ ذمہ داری امت کو سونپ دی گئی کہ وہ اس حق کی گواہ بن کر کھڑی ہو جائے، صحابہ کرام اور اہل بیت نے یہ گواہی دی، پھر ہمارے اصلاف اور بزرگوں نے یہ ذمہ داری اٹھائی اور آج تاریخ نے یہ فرض ہمیں سونپ دیا ہے، ہم جو خود کو مسلمان کہلاتے ہیں، کیا ہم جانتے ہیں کہ ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ اس سوال کے جواب کیلئے رحمت العالمینﷺ کی سیرت پاک کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔

جشن عید میلاد النبی ﷺ، دن کا آغاز صو بائی دارلحکومت میں21,21جبکہ وفاقی دارلحکومت میں 31توپوں کی سلامی سے ہوا

جب آپﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو ہدایت اور رہنمائی میں پہلا معاشرہ قائم ہوا اور پھر ریاست قائم ہوئی، اس معاشرے میں مسلمان اور دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی تھے۔ آپﷺ نے سب کے ساتھ معاہدے کئے، سب نے آزادانہ مرضی کے ساتھ انہیں قبول بھی کیا، تاریخ اسے میثاق مدینہ کے نام سے جانتی ہے، بہت سے سکالر زاور اہل علم اسے دنیا کی تاریخ کا پہلا تحریری آئین قرار دیتے ہیں۔ پھر فتح مکہ کا مرحلہ آیا، آپﷺ کا برپا کیا ہوا انقلاب منزل مراد پر پہنچا، دنیا سے پردہ فرمانے سے چند ماہ پہلے آپﷺ نے اپنا پہلا اور آخری حج کیا اور تاریخی خطبہ فرمایا جس میں باہمی تعلقات کیلئے انسانی حقوق کا عالمی چارٹر پیش کیا۔ آپﷺ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے ریاست کو آئین سے روشناس کرایا اور عالمی تعلقات کیلئے انسانی حقوق کا چارٹر پیش کیا۔ آج 1400 سال بعد تہذیب کے ارتقاءنے انسان کو وہیں لا کر کھڑا کیا اور پوری دنیا متفق ہے کہ جدید ریاست کو قائم رکھنے کیلئے آئین کی ضرورت ہے۔

معاہدے پہلے بھی ہوئے، ریاست کا تصور بھی موجود رہا لیکن آپﷺ نے اسے ایک ضابطہ اخلاق کا پابند بنایا، آج جدید دنیا اس بات پر مجبور ہے کہ وہ بھی ضابطہ اخلاق کے تحت رہے۔ میثاق مدینہ نے انسانوں کو سکھایا کہ ریاست اور شہریوں کے مابین حقوق کا تعین کیسے ہوتا ہے ۔خطبہ حجة الوداع نے سکھایا کہ معاشرہ کن بنیادوں پر قائم ہوتا ہے۔ مہذب معاشرے کی پہلی اینٹ انسان کا احترام ہے۔ ایک مرتبہ جنازہ گزرا تو آپﷺ جناے کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ صحابہ کرامؓ نے کہا کہ یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا جس پر آپ ﷺنے فرمایا کہ کیا وہ انسان نہیں تھا ۔

خطبہ حجة الوداع میں آپ ﷺ نے واضح کیا کہ کسی عجمی کو عربی اور کسی عربی کو عجمی پر، کسی گورے کو کالے اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضلیت نہیں ۔ آپ ﷺکا پیغام انسانی تعلقات کی وہ بنیاد ہے جس نے رنگ و نسل کے تمام بتوں کو توڑ ڈالا۔ اسی خطبہ میں آپﷺ نے انسانی جان و رتبے کو بیت اللہ کے برابر قرار دیا ۔ یہ آپﷺ ہی تھے جنہوں نے معاشرے میں باہمی تعلقات کو اعلیٰ اخلاق پر استوار کیا، الزام تراشی اور تہمت کو جرم قرار دیا، بیہودہ گفتگو کو ناپسند فرمایا، ایسے نام رکھنے سے منع فرمایا جس سے کسی کی دل آزاری ہو، معاشرے کو اخلاقی اقدار پر کھڑا کیا۔ بڑوں کا احترام، چھوٹوں پر شفقت، والدین کی عزت، غریبوں اور محروموں کی تکریم بھی آپﷺ نے سکھائی اور اس بنیاد پر ایک معاشرہ تشکیل دے کر عملی مثال رکھ دی۔

یہی اسوہ حسنہ وہ پیمانہ ہے جس کی بنیاد پر ہمیں اپنے آپ کو پرکھنا ہے۔ حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہے اور عوام کو اپنے فرائض پر نظر رکھنی ہے۔ قومی رہنماﺅں کو سوچنا ہے کہ وہ معاشرے کو کیا دے رہے ہیں اور علماءکو سوچنا ہے کہ اسوہ حسنہ کی روشنی میں ایک جدید معاشرے کیسے بن سکتا ہے ۔ کیا ہم نے دوسرے مذاہب اور اقوام کے ساتھ اس چارٹر کی بنیاد پر تعلقات استوار کئے ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے آخری حج کے موقع پر عطاءفرمائے۔

قائداعظم اور علامہ اقبال نے پاکستان کو جدید اسلامی ریاست بنانے کا خواب دیکھا اور سیرت پاک سے جڑے رہنے کا درس دیا۔ علامہ اقبال نے ہمیں بتایا کہ وحی کی اصل اوریجن قدیم ہے لیکن اس کی روح جدید ہے، انہوں نے سیرت رسولﷺ سے روشنی لیتے ہوئے ایک آئینی ریاست کا تصور پیش کیا جس میں حق پارلیمینٹ کو دیا گیا اور آج ضرورت ہے کہ ہمارے علماءاور سکالرز ریاست اور معاشرے کی رہنمائی کریں کہ اسوہ حسنہ کی روشنی میں کیسے ایک جدید مسلم ریاست قائم کی جا سکتی ہے۔ ہم کیسے ان اخلاقی روایات کو زندہ کر سکتے ہیں جو آپﷺ کی عطاءہے ۔کیسے، سیاسی، سماجی اور معاشی اداروں کی تشکیل نو کر سکتے ہیں۔

قومی سیرت النبیﷺ کانفرنس، وزیراعظم کی شرکت، کانفرنس سے مذہبی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا: سردار یوسف

ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم دین سے کچھ سیکھنے اور رہنمائی لینے کے بجائے اسے عصبیت بنا دی اور پوری انسانیت کیلئے رہنمائی والے دین کو خوف بنا دیا۔ رحمت العالمین، جن کی رحمت تمام عالموں کیلئے ہے، اس رحمت کو محدود کر دیا ۔ گزشتہ سالوں میں اختلاف رائے کی بنیاد پر گلے کاٹے گئے مگر اللہ کا شکر ہے کہ ہماری 3 سال کی مسلسل کوشش سے فساد کا دروازہ بڑی حد تک بندہو گیا ہے۔ حکومت، قومی قیادت، علماءمشائخ عزائم، افواج پاکستان، پولیس اور دوسرے ریاستی اداروں کے تدبر اور قربانیوں سے دہشت گردی کے مراکز تقریباً ختم کر دئیے گئے ہیں تاہم اس بات کی ضرورت باقی ہے کہ اس انتہاءپسندی کا دروازہ بھی بند کر دیا جائے جس کی بنیاد دہشت گردوں نے رکھی ہے اور علماءکرام اس میں مدد کریں۔ ہم نے آگے بڑھنا ہے اور اپنی شناخت کو قائم رکھنا ہے تو ہمیں اس اسوہ حسنہ سے رہنمائی لینا ہو گی جس نے ہمیں قرآن مجید کے ساتھ میثاق مدینہ اور خطبہ حجة الوداع جیسی دستاویزات عنایت فرمائیں۔

مزید : قومی /اہم خبریں