پیسہ نہیں بلکہ اس ایک چیز سے لوگوں کو زیادہ خوش رکھا جاسکتا ہے، جدید تحقیق میں حیران کن انکشاف

پیسہ نہیں بلکہ اس ایک چیز سے لوگوں کو زیادہ خوش رکھا جاسکتا ہے، جدید تحقیق ...
پیسہ نہیں بلکہ اس ایک چیز سے لوگوں کو زیادہ خوش رکھا جاسکتا ہے، جدید تحقیق میں حیران کن انکشاف

  


لندن (نیوز ڈیسک) کہتے ہیں کہ خوشیاں پیسے سے نہیں خریدی جاسکتیں اور برطانوی سائنسدانوں نے اب ایک سائنسی تحقیق کی بناءپر بھی اس بات کو واقعی سچ قرار دے ڈالا ہے۔ لندن سکول آف اکنامکس کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ انسانوں کو خوش کرنے کا راز پیسہ نہیں بلکہ اس کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ انہیں ذہنی سکون دیا جائے، جس کے لئے پریشانیوں سے نجات اور ذہنی امراض کاخاتمہ کرنا ضروری ہے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سائنسدان رچرڈ لیارڈ اور ان کے ساتھیوں کی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈپریشن اور ذہنی تناﺅ کا بہتر علاج میسر آجانے سے لوگوں کی پریشانی میں 20 فیصد کمی لائی جاسکتی ہے، جبکہ اس کے برعکس غربت دور کرنے سے لوگوں کی پریشانی میں صرف 5فیصد کمی ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا، برطانیہ، جرمنی اور امریکہ جیسے ممالک میں بھی لوگ خوش نہیں ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ جب لوگوں کی آمدنی بڑھتی ہے تو وہ اس کا موازنہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی آمدنی سے کرتے ہیں۔ جب زیادہ آمدنی والا شخص بھی دیکھتا ہے کہ دوسرے لوگوں کے پاس بہت پیسہ ہے تو افسردہ ہوجاتا ہے۔

وہ لڑکی جو اپنی ویڈیوز یوٹیوب پر اپ لوڈ کرکے اربوں روپے کماچکی ہے

اس تحقیق کے مطابق لوگوں کی افسردگی کی سب سے بڑی وجہ ذہنی بیماریاں اور پریشانیاں ہیں۔ اگر اس بات پر زیادہ توجہ مرکوز کی جائے کہ عوام کو ذہنی امراض کا بہتر علاج فراہم کیا جائے اور تعمیری سرگرمیوں کے ذریعے انہیں خوشی پانے کی ترغیب دی جائے تو معاشرے کی مجموعی خوشیوں میں باآسانی اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح بچوں کی بہتر تعلیم کو اگرچہ ضروری قرار دیا گیا لیکن اس سے بھی زیادہ ان کی جذباتی نشوونما اور دیکھ بھال کو قرار دیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بچوں کو شفقت اور پیار والا ماحول ملتا ہے اور ان کی جذباتی تسکین بہتر طور پر ہوتی ہے تو وہ متوازن سوچ کے حامل خوش باش شہری بنتے ہیں۔ ماہرین نے اس رپورٹ سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ریاست کو اپنی کوششیں معاشرے میں دولت کی فراوانی پر مبذول کرنے کی بجائے لوگوں کو جذباتی تحفظ اور اچھی ذہنی صحت فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس