صرف یوم اقبال منانا مقصد نہیں اقبال کے افکار کو زندگی میں شامل کرنا ہوگا:عدنان ناصر

صرف یوم اقبال منانا مقصد نہیں اقبال کے افکار کو زندگی میں شامل کرنا ...
صرف یوم اقبال منانا مقصد نہیں اقبال کے افکار کو زندگی میں شامل کرنا ہوگا:عدنان ناصر

  


جدہ(محمد اسد اکرم) سعودی عرب میں قائم پاکستا ن انٹرنیشنل سکول کے پرنسپل عدنان اصغر نے کہا ہے کہ ہمیں فلسفہ خودی کو اپنا کر اقبال کا شاہین بننا چاہیے،صرف یوم اقبال منانا مقصد نہیں اقبال کے افکار کو زندگی میں شامل کرنا مقصد ہونا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عر ب میں قائم پاکستان انٹرنیشنل سکول کے سربراہ عدنان اصغر نے پی آئی ایس جے میں یوم اقبال کے موقع پر تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے آباو¿اجداد نے اس کرئہ عرض کے باسیوں کو تہذیب و تمدن سے آراستہ کیا، ریاضی ،کیمیا،طب اور طبعیات جیسے علوم سے آگہی عطا کی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہونا سکھایالیکن آج پسماندگی کی طرف جارہے ہیں،اگر پاکستانی نوجوان شمع علم کو دوبارہ تھام لیںتو اپنے اسلاف کی اعلیٰ روایات کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔یہی اقبال کا پیغام ہے۔ان کی شاعری کا مقصد قوم کی بیداری،عظمت رفتہ کا حصول اور فلاح ہے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ پاکستان انٹرنیشنل سکول ایک ایسی معیاری درسگاہ ہے۔جس کی ذمہ داری طالبعلم کو محض نصابی تعلیم دینا ہی نہیں بلکہ ان کی مکمل تربیت کرنا اور انہیں معاشرے کا فعال، کامیاب اور مثالی رکن بنانا ہ بھی ہے۔اس سکول کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں نصابی تربیت کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی یکساں توجہ دی جاتی ہے۔طلبا طالبات کو ایسے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں جن سے انکی مکمل نشونما اورشخصیت کی بھر پور تعمیر ممکن ہوسکے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کرسکیں اور بجا طور پر ملک و قوم کا سرمایہ افتخار کہلانے کے قابل ہوسکیں۔معماران مستقبل کی تربیت کا فریضہ سرانجام دینے کی غر ض سے یوم اقبال کے موقع پر پاکستان انٹرنیشنل سکول،انگلش سکیشن کے آڈیٹوریم میں ایک خصوصی پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔اس کا اہم مقصد طلبا طالبات کو علامہ اقبال کی شخصیت ، انکے فلسفے ، شاعری اور کار ہائے نمایاں کے بارے میں آگاہ کرنا تھا۔

سکول کے پرنسپل عدنان ناصر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقبال ایک شخص نہیں بلکہ ایک نظریے کا نام ہے۔یوم اقبال ہمارے لئے انتہائی اہمیت کاحامل ہے مگر اس دن کو منانا ہی کافی نہیں بلکہ اقبال کے افکار کو اپنی زندگی میں شامل کرنا ہمارا مقصد ہونا چاہئے۔ہمیں فلسفہ خودی کو اپنا کر اقبال کا شاہین بننا چاہئے۔اس مادر علمی میں پروان چڑھنے والی نسل نو کا ہر فرد کامیاب اور محب وطن پاکستانی بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتاہے۔آپ اپنے اہداف بلند رکھیں اور انہیں اپنی محنت،یقین اور اعتماد سے حاصل کرنے کی کوشش کریں تاکہ نہ صرف آپ کی مادر علمی کو بلکہ آپ کے والدین اور پوری قوم کو آپ پر فخر ہو۔ اس بات کوذہن نشین کر لیں کہ دنیا میں کوئی چیز ناممکن نہیں۔

تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔بعد ازاں پاکستان کا قومی ترانہ بجایا گیاجس کے بعد ” لب پہ آتی ہے دعابن کے تمنا میری“ ”پھر چراغ لالہ سے“ ہمدردی ایک پہاڑ ار گلہری“ جیسی نظموں کے علاوہ علامہ محمد اقبا ل کے دیگر اشعار پر مبنی خوبصورت ٹیبلوز پیش کئے گئے اور مقابلہ بیت بازی بھی منعقد کیا گیا۔ا س موقع پر طلبا طالبات نے اپنی تقاریر میں کہا کہ علامہ اقبال وہ ہستی تھے جنہوں نے سب سے پہلے برصغیر میں ایک آزاد مملکت کے قیام کا خواب دیکھا تھا۔علامہ اقبال نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے اشعار میں جوپندو نصائح کیں ان پر بھی روشنی ڈالی گئی۔اقبال قوم پرستی کے خلاف تھے۔وہ تمام مسلمانوں کو ایک ہی امت مانتے تھے۔انہوں نے ملت اسلامیہ کا نظریہ پیش کیا اور بعد میں یہی نظریہ قیام پاکستان کا محرک بنا۔

مزید : بین الاقوامی