سیال شریف ۔۔۔تعارف و کردار

سیال شریف ۔۔۔تعارف و کردار
سیال شریف ۔۔۔تعارف و کردار

  

سرگودہا شہر سے جنوب کی جانب جھنگ روڈپر 38کلو میٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس کا نام سیال شریف ہے۔

جتنا بڑا نام ہے، اتنا چھوٹا گاؤں ہے، آج سے ڈیڑھ سو سال قبل یہ صرف ایک ڈیرہ تھا، جس کے ایک نوجوان شمس دین کو علم اور روحانیت کا شوق سینکڑوں میل کا سفر کروا کر تونسہ شریف خواجہ شاہ سلیمان تونسوی المعروف پیر پٹھان کی خدمت میں لے گیا جو نور محمد چشتی مہاروی کے مرید اور خلیفہ تھے اور شیخ کامل تھے، پیر پٹھان نے جب شمس دین سیال کے جذبے، شوق، ریاضت، خدمت شیخ اور عشق حقیقی کے معیار کو جانچا اور سمجھا تو پہلے تو اپنے خاص مریدوں میں شامل فرمایا، بعد ازاں خرقہ خلافت سے نوازا اور پھر شمس دین سیال جب خواجہ شمس العارفین بن کر ڈیرہ سیال پر واپس تشریف لائے تو ڈیرہ سیا ل ’’سیال شریف‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔

سیال شریف میں نہ صرف مغربی پنچاب کی پہلی دینی درس گاہ اور لائبریری قائم ہوئی، بلکہ طالبوں کے لئے روحانیت اور عاشقوں کے لئے دیدار عام ہوا تو سیال شریف کی شہرت چار دانگ عالم میں پھیلی اور پھر پیر مہر علی شاہ آف گولڑہ شریف، پیر حیدر شاہ آف جلال پور شریف، خواجہ معظم دین آف مرولہ شریف اور میاں پیر بخش آف خواجہ آباد شریف جیسی نابغہ روزگار ہستیاں اپنی علمی و روحانی پیاس بجھانے کے لئے اس آستانے پر حاضر ہوئیں اور اس قدر فیض یاب ہوئیں کہ دنیا کے لئے خیر و برکت اور دین اسلام کے لئے روشنی کا مینار بن کر ابھریں۔

1900ء میں ختم نبوت کی حفاظت اور مرز ا قادیانی سے مقابلے کے لئے اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام کی، جس ہستی کو منتخب فرمایا وہ آپ ہی کے مرید اور خلیفہ پیر مہر علی شاہ تھے۔ آپ نے ان جیسے 35خلفاء چھوڑے، پھر ایک عالم ہے جو ان سے فیض یاب ہوا اور تاقیامت ہوتا رہے گا،بقعول شاعر :

الہٰی تا ابد خورشید وماہی

چراغ چشتیاں را روشنائی

آج اُس آستانے پر خواجہ حمید الدین سیالوی سجادہ نشین ہیں، آپ حافظ و عالم ہونے کے ساتھ ساتھ سابقہ سینیٹر بھی ہیں۔

حالات پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے بزرگوں کی درخشاں روایات سے بھی بخوبی آگاہ ہیں ۔آپ کے والد خواجہ قمرالدین سیالوی اپنے زمانے کی جلیل القدر اور نابغہ روزگار شخصیت کے مالک تھے، آپ نے تحریک پاکستان میں انتہائی اہم کردار ادا کیا، جس پر قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے شکریہ کے خطوط ارسال کئے، آپ مسلم لیگ سرگودہا کے صدر تھے اور اس قدر لگن اور محنت سے مسلم لیگ کو بام عروج پر لائے کہ اُس وقت کا وزیراعلیٰ پنجاب خضر حیات ٹوانہ سیال شریف آیا اور اُس نے مسلم لیگ سے علیحدگی اور انگریزوں کی مخالفت ترک کرنے کے عوض ’’بلینک چیک‘‘ پیش کیا تو آپ نے وہ چیک قریب جلتی انگیٹھی (وہ آگ جو دیہاتوں میں سردی سے بچنے کے لئے جلائی جاتی ہے) میں پھینک دیا اور فرمایا ٹوانہ صاحب میں نے اللہ کے 99ناموں کا مطالعہ کیا۔ اُن میں خضر حیات کہیں نہیں آتا۔

ہم آپ کی کوئی بات ماننے کے لئے تیار نہیں، اُنہوں نے تحریک ختم نبوت میں اہم کردار ادا کیا اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی۔ جمعیت علمائے پاکستان اور انجمن طلبائے اسلام کی بنیادیں رکھنے میں بھی خواجہ قمرالدین سیالوی کا بنیادی کردار تھا اور اِن دونوں جماعتوں نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا، آپ شیخ الحدیث تھے اور بڑے بڑے علمی اور فقہی مسائل چند لمحوں میں حل فرماتے، شاید اسی لئے علمائے حرمین شریفین نے بھی آپ کوشیخ الاسلام کا لقب دیا:

تیری صورت سے نہیں ملتی کسی کی صورت

ہم تیری تصویر جہاں بھر میں لئے پھرتے ہیں

خواجہ حمید الدین سیالوی کے داد ا خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی تھے، جن کا تحریک خلافت میں لگن، جذبہ اور کردار دیکھ کر مولانا محمد علی جوہر جیسے لوگوں نے انہیں مجاہد ملت کا خطاب دیا۔ آپ نے انگریزکے خلاف نفرت کی تحریک چلائی، آپ انگریزوں کی تختیاں، جہاں بھی دیکھتے فوراً اُکھڑوا دیتے اور فرماتے یہ ترقیاتی کام ہمارے علاقے کی کمائی سے بنے ہیں، آپ انگریز وں سے یہاں تک نفرت فرماتے کہ ایک دفعہ وائسرائے کا گزر سیال شریف کے قریب سے ہوا، آپ کا خادم آپ کے پسندیدہ گھوڑے کو چرا رہا تھا، وائسرائے نے گھوڑے کی گردن پر ہاتھ پھیرا اور کہا بہت اچھا گھوڑا ہے اور چلاگیا، جب آپ نے سنا تو فرمایا کہ اس کو بیچ دو، اب یہ ہمارے کام کا نہیں رہا اور جب ایک مسلمان کپتان، جو آپ کا عقیدت مند بھی تھا، وائسرائے کی طرف سے یہ پیغام لے کر آیا کہ ہم آپ کو 20 مربع زرعی اراضی دیتے ہیں اور آپ صرف انگریز حکومت کی مخالفت کم کردیں تو آپ نے اسے فرمایا کہ تجھے میر ے پاس آنے کی بجائے انگوٹھی اور بیج اُتارکر استعفا دے دینا چاہیے تھا۔

یہی وہ پیران سیال شریف کا بے داغ کردار تھا کہ اس آستانے کو اللہ پاک نے زمانے بھر میں ایک خاص مقام عطا فرما یا۔یہاں ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ پیر کرم شاہ الازہری جیسی کھلی آنکھیں رکھنے والی ہستیاں جب حاضری دینے کے لئے آیا کرتی تھیں تو بس جب سیال شریف کے سٹاپ پر رکتی توجسٹس صاحب پہلے اپنی جوتیاں اُتار کر بغل میں دبا لیتے، بعد میں گاڑی سے نیچے اُترتے تاکہ سیال شریف کی سرزمین پر ہمارے قدم پڑیں تو ان میں جوتے نہ ہوں۔تو ایسے خاندان کے چشم و چراغ اور زیب آستانہ ہونے کی بنیاد پر خواجہ حمید الدین سیالوی کی دینی و ملی ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں، کیونکہ آپ جن روایات کے امین ہیں، وہ انتہائی اعلیٰ کردار کی متقاضی ہیں۔

اسی لئے سجادہ نشین آستانہ عالیہ اپنے مقام و مرتبے کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو کما حقہ پورا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔نہ کبھی آپ نے اپنی ذمہ داریوں سے رو گردانی کی، نہ ہی کبھی کوتاہی برتی اور آج جب ختم نبوت کے مسئلے پر ڈٹ جانے کا وقت آتا ہے تو آپ مولانا ظفرعلی خان کے اس شعر کی عملی تصویر نظر آتے ہیں:

نماز اچھی روزہ اچھا حج اچھا زکوٰۃ اچھی

مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی حرمت پر

خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

خواجہ سیالوی نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ ایم این اے یا ایم پی اے شپ سے استعفا دے دینا تو کوئی بڑی بات نہیں، ہم تو یہ خواہش رکھتے ہیں کہ حضور پاکؐ کی ناموس پر جب جان دینے کا وقت آئے تو سب سے پہلا سینہ میرا ہو ۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پیر صاحب آف سیال شریف کو ثابت قدم رکھے، علم اور عمل میں برکت دے اور دیگر علماء ومشائخ کو بھی ایسی مجاہدانہ روش اختیار کرنے کی توفیق عطاء فرمائے :

خدا آباد رکھے یہ میخانہ محمدؐؐؐؐ کا

مزید :

کالم -