کرپشن روکنا حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ ذمہ داری

کرپشن روکنا حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ ذمہ داری
 کرپشن روکنا حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ ذمہ داری

  

احتساب کرنے کا مطالبہ محض، چند لوگوں تک محدود کرکے فقط اپنا اُلو ہی سیدھا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان محض چند لوگوں سے مراد صرف وہی حضرات اور خواتین شمار کئے جاسکتے ہیں، جو مطالبہ کرنے والے لوگوں کے مقابلے میں آکر بطور حریف امیدواروں کی حیثیت سے انتخابی میدانوں میں سنجیدہ انداز سے آئینی اور قانونی شرائط پر نااہل ہو کرباہر نکل سکتے ہیں۔

ان کے علاوہ کرپشن اور خوردبرد کرنے کے ذمہ دار دیگر لاتعداد لوگوں کی مالی بدعنوانیوں اور قانونی غلط کاریوں کے ارتکاب پر مطالبہ کرنے والے حضرات کو اکثر اوقات کوئی اعتراض اور سروکار دیکھنے میں نہیں آتا۔

یہ گزارش اگر درست ہے تو واضح ہے کہ کسی تحصیل، ضلع، ڈویژن، صوبہ اور ملکی سطح پر کسی شعبے اور محکمے میں کرپشن کے حالات اور واقعات پر اکثر سیاسی راہنماؤں کو بھی کوئی فکر تشویش اور پریشانی لاحق نہیں ہوتی، جو قومی حب الوطنی کا اصل تقاضا ہے۔

اس طرح سب سیاسی راہنماؤں کی ایک اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ قومی دولت اور ملکی وسائل کی خوردبرد کے سدباب کے لئے خلوصِ نیت سے، حتیٰ المقدور مثبت کوششیں بروئے کار لائی جائیں۔ اس ضمن میں اکثر اوقات یہاں رشوت خور افراد کی غیر قانونی کارروائیوں کا تذکرہ بھی سننے اور پڑھنے میں آتا رہتا ہے۔

اینٹی کرپشن محکمے کی جانب سے گاہے بگاہے، بعض مقامات پر چھاپے مار کر رشوت خوری کے ملزمان کو موقع پر گرفتار کرنے کی خبریں، قومی اخبارات میں شائع ہوتی ہیں، لیکن ایسے افراد زیادہ تر ماتحت ملازمین ہوتے ہیں،جبکہ کئی افسران بھی اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرکے قومی وسائل میں لاکھوں، کروڑوں اور اربوں روپے کی خورد برد کرنے میں ملوث ہوتے ہیں۔

ان کی ایسی غیر قانونی کارروائیوں کا ان کے ماتحت اور بعض اوقات سینئر افسران کو بھی جلد یا بدیر پتہ چل جاتا ہے ،لیکن وہ بھی عموماً ملزمان کے خوف یا اپنے ہم پیشہ تعلق کی بنا پر خاموش رہنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

خوف کے حوالے سے قارئین کرام کو حیرت نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ کسی بدعنوانی میں نسبتاً معاشرے کے تگڑے اور طاقتور افراد ہی ملوث ہونے کی حماقت کرتے ہیں۔

انہیں اپنی گرفت کا احساس بھی ہوتا ہے، لیکن وہ بسااوقات اپنے زور بازو اور باثر افراد کی سفارش و اعانت سے کسی سرزنش اور سزا سے بچے رہنے کے زعم میں مبتلا ہو کر سرکاری رقوم کی لوٹ مار کے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔

عام تاثر یہ ہے کہ مجرم طبقے، آپس میں قریبی تعلق رکھتے اور تعاون کرتے رہتے ہیں۔ اُن کے پاس چونکہ حرام خوری کی جمع کی ہوئی دولت، اسلحہ اور گاڑیاں بھی ہوتی ہیں اور وہ اس بیگانے مال وزر سے رشوت دے کر تھانوں سے پرچے خارج کرانے یا عدالتوں میں شہادت دینے والے افراد پر اثر انداز ہوکر ڈسچارج یا بری ہونے کی بھی ممکنہ تگ و دو کرتے ہیں۔

بعض اوقات تگڑے ملزمان، جج صاحبان کی قیمتی جانوں کے لئے خطرات پیدا کرتے ہیں۔ چند سال قبل، نواب شاہ میں ایک جج صاحب کو قتل کرنے کی خبر بھی بڑے قومی اخبارات میں نمایاں انداز سے شائع ہوئی تھی۔ ایک سال قبل ایک ماڈل گرل کو ہوائی اڈے پر پانچ لاکھ ڈالر سے زائد رقم غیر قانونی طور پر لے جانے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

اس کا مقدمہ تاحال کراچی کی ایک عدالت میں زیرسماعت ہے، لیکن اس کیس میں تفتیش کرنے والے ایک کسٹم انسپکٹر کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ یہ کارروائی اس ملزم کی پشت پناہی کرنے والے تگڑے افراد کی حمایت ظاہر کرتی ہے۔

ملزمان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے تمام ممکنہ معاون وسائل بروئے کار لاکر کوئی عدالتی سزا ہونے سے بچے رہیں اس طرح قومی وسائل کی خیانت کاری وسیع پیمانے پر بھی ہوتی رہتی ہے اور اکثر ملزمان حرام خوری کا مال وزر، متعلقہ افسران کو دے کر اپنی جانوں کی سزاؤں سے خلاصی کرالیتے ہیں۔

تگڑے ملزمان کی اگر سیاسی رہنما بھی حمایت کے لئے میدان میں نکلتے رہے، تو پھر ملکی خزانے میں لوٹ مار کی روک تھام کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟ سیاست کار حضرات چونکہ اقتدار میں آکر حکمران بنتے ہیں یا اپوزیشن کی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں، انہیں بہرحال رشوت خور اور بدعنوان افراد کی سرکوبی کے لئے دیانتداری سے اپنا احتساب کا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ملک میں تعمیر و ترقی کے منصوبے اپنے پروگرام کے مطابق تکمیل کے مراحل سے سرخرو ہونے تک پہنچ سکیں۔ اگر حکمران طبقے یا اپوزیشن کے سیاسی رہنما، بدعنوانی کے مقدمات میں اپنے خاصی افراد کی حمایت کرکے ملزمان کو سزاؤں سے بچانے کی حمایت کرتے رہیں گے، تو وطن عزیز بدقسمتی سے خود انحصاری کے پُر وقار مقام کا درجہ جلد حاصل کرنے کی بجائے، غیر ملکی قرضوں اور امداد کی کڑی شرائط کا محتاج رہنے پر مجبور ہوسکتا ہے۔

مزید : کالم