تجاوزات مافیا ،کرپشن و بدمعاشی

تجاوزات مافیا ،کرپشن و بدمعاشی
 تجاوزات مافیا ،کرپشن و بدمعاشی

  

پنجاب بھر کے ہر شہر میں تجاوزات مافیا نے اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا ہے، اس مافیا کو کرپشن اور بدمعاشی کنٹرول کرتی ہے۔ تمام دکانوں کے آگے فٹ پاتھوں پر قبضہ ہو چکا ہے، جس مقصد کے لئے فٹ پاتھ بنائے گئے تھے کہ ان پر عوام سفر کریں گے، یہ تمام بھتہ مافیا نے فروخت کر دیئے ہیں۔

ماہانہ وصول ہو رہا ہے، قبضہ مافیا اور تجاوزات مافیا نے صرف فٹ پاتھوں پر ہی قبضہ نہیں کیا، بلکہ سڑکوں پر دکانیں بنا لی ہیں، پھٹے لگا لئے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے بیجنگ انڈر پاس کا افتتاح کیا،اربوں روپے خرچ کر کے اس علاقے والوں کو سہولت بہم پہنچائی ہے، مگر حال یہ ہوا کہ وزیراعلیٰ نے انڈر پاس کا افتتاح کرنا تھا تو دو گھنٹے پہلے ہی تقریباً آٹھ دس کلومیٹر پنجاب یونیورسٹی پل انڈر پاس سے کینال روڈ (نہر) پر ٹریفک بند کر دی گئی۔

عوام نے تقریباً 4 گھنٹے شدید پریشانی کے عالم میں گزارے۔ عوام وزیراعلیٰ کو گاڑیوں سے باہر نکل کر کیا کہہ رہے تھے لکھنا مشکل ہے۔ انڈر پاس کے افتتاح سے پنجاب یونیورسٹی سے نہر کے کنارے والی ٹریفک کو بند کرنا کون سی پالیسی تھی اصل موضوع کی طرف آتا ہوں، اس پالیسی کی طرح لاہور کی تمام سڑکوں کا حال ہے، لاہور میں گاڑیاں بہت زیادہ ہو گئی ہیں، موٹر سائیکلیں بہت زیادہ ہو گئی ہیں، گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چلانے والے قانون اور اصول کا خیال نہیں رکھتے، اگر یہ ٹھیک بھی ہے تو وزیراعلیٰ صاحب کیا یہ بڑے بڑے ادارے صرف فٹ پاتھوں اور سڑکوں سے تجاوزات مافیا سے ماہانہ وصولیوں کے لئے بنائے گئے ہیں؟ لاہور کے ہر ٹاؤن میں روزانہ بازاروں، سڑکوں، بڑی بڑی گلیوں کی تجاوزات سے 40 سے پچاس لاکھ اکٹھے کئے جاتے ہیں اور یہ حصے لفافوں میں بند کر کے اوپر تک جاتے ہیں۔

تمام تھڑے ریڑھی والے، فٹ پاتھوں پر کھوکھے بنائے ہوئے، سڑکوں کے ساتھ ناجائز دکانیں تعمیر کی ہوئی، روزانہ کی بنیاد پر ماہانہ کی بنیاد پر بھتہ دیتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب سابق گورنر میاں اظہر کی طرح ایک آرڈر پاس کر دیں کہ اتنے دنوں میں لاہور کی تمام تجاوزات ختم کردی جائیں۔

میرا خیال ہے کہ اگر وزیراعلیٰ کے حکم سے شادیوں، شادی ہالوں میں کھانوں میں ون ڈش اور ٹائم کی پابندی پر عمل ہو سکتا ہے تو عوام کے حقوق، جن پر تجاوزات مافیا نے قبضہ کیا ہوا ہے اور ان کو سرکاری اہل کاروں کی حمایت حاصل ہے، عوام کے حقوق پر ڈاکہ ختم کیا جا سکتا ہے۔

بڑی سڑکیں ہیں، ٹاؤن شپ، فیصل ٹاؤن، گرین ٹاؤن، جیل روڈ،اچھرہ، مزنگ، فلیمنگ روڈ، لنڈا بازار، مصری شاہ، دھرم پورہ، اردو بازار، ہال روڈ ،ایبٹ روڈ، منٹگمری روڈ، اندرون شہر تو پہلے ہی تقریباً تنگ گلیوں میں موجود ہیں، لیکن جو بڑے بڑے بازار ہیں، وہ بھی چھوٹی چھوٹی گلیوں کا نقشہ پیش کر رہے ہیں۔

سرکلر روڈ بہت بڑی سڑک ہے، اس پر تجاوزات کی بھرمار ہے، آخر حکومت اور قومی نمائندوں کو سرکاری خزانے سے اربوں روپے کے فنڈز ان منصوبوں پر خرچ کرنے کا کیا فائدہ ہے اگر عوام کو اس سے سہولت میسر نہیں آتی۔

ایل ڈی اے عوام سے اس قدر زیادہ فنڈز مختلف مدوں (مختلف ناموں) سے وصول کر رہا ہے جو فنڈز ایل ڈی اے کو عوام کی سہولتوں پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے اس سے ایل ڈی اے کے سفید ہاتھی پل رہے ہیں شہر میں تمام تجاوزات کی بھرمار کے ذمہ دار ایل ڈی اے اور سٹی گورنمنٹ کے اہل کار ہیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ آپ شہر میں کسی ریڑھی والے سے، فٹ پاتھ پر کھوکھے والے سے، ٹاؤن شپ میں ہائی سکول کے ساتھ ساتھ تمام دکانداروں سے، ٹاؤن شپ میں لال سکول کے ساتھ ساتھ تجاوزات والوں سے، ٹاؤن شپ کے مین بازار کے دکان داروں سے اور ٹاؤن شپ کے سرکلر روڈ المدینہ روڈ، ابوبکر روڈ غرضیکہ ہر سڑک اور بازار میں تجاوزات کی بھر مار ہے، اس کے ساتھ ساتھ چنگ چی رکشوں نے تجاوزات کے بعد لینوں میں رکشے کھڑے کئے ہوتے ہیں اور تجاوزات کرنے والے رکشوں والے دھونس اور بدمعاشی سے عوام کو ڈراتے ہیں اور بالکل راستہ نہیں دیتے۔

وارڈنز کو کیا کہوں انہوں نے روزانہ کی بنیاد پر چالان کرنے ہوتے ہیں، وہ پورے کر لیتے ہیں، اس کے بعد ٹریفک بحال ہو یا نہ ہو،ان کی بلا سے۔ میں نے بذات خود تمام علاقے کا وزٹ کیا، شہر کے مختلف علاقوں میں گیا، خدا کی پناہ دوسرے مسائل کی طرح تجاوزات کی بھر مار نے لاہور میں رہنے والوں یا سفر کرنے والوں کے لئے مشکلات پیدا کر دی گئی ہیں۔

یہاں یہ مثال فٹ آتی ہے کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب اپنی انگلی کھڑی کریں اور انتظامیہ، ذمہ داروں کو حکم صادر کریں کہ پنجاب سے، خصوصاً لاہور سے ہر قسم کی تجاوزات کا خاتمہ کریں، کہیں اس طرح نہ ہو کہ کراچی کی طرح کوئی لاہور کا شہری ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں تجاوزات کے خلاف چلا جائے۔

مزید : کالم