مسلم لیگ (ن)،پی ٹی آئی اور میڈیا

مسلم لیگ (ن)،پی ٹی آئی اور میڈیا
 مسلم لیگ (ن)،پی ٹی آئی اور میڈیا

  

کیا پاکستان ناقابل حکمرانی ہونے جا رہا ہے؟۔ توقع تو یہ تھی گذرے برسوں کی غلطیوں کا ازالہ کیا جائے گا، اکیسویں صدی سے ہم آہنگ اقتصادی، ادارہ جاتی اور سماجی پالیسیاں انقلابی انداز میں متعارف ہوں گی۔ اپوزیشن عظیم پاکستان کی خاطر ان ریفارمز کو مزید بہتر کرنے پر زور دے گی۔

میڈیا کے شرارتی عناصر مایوس روش چھوڑ کر معاشرے کا مثبت رخ بھی دکھائیں گے اور فوج عظیم پاکستان کے واسطے جدید ریاستی تعریف کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے تمام تبدیلیوں کو تحفظ فراہم کرے گی۔

الیکشن کے بعد، ابتدائی چند ماہ میں حکومت، اپوزیشن، میڈیا اور فوج کا یہ خوبصورت امتزاج نظر بھی آیا۔ چاروں عناصر کی یکجہتی نے دنوں ، ہفتوں میں پاکستان کی عالمی ساکھ کو بہتر کیا۔ ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے جنوبی ایشیاء کو منتقل ہوتے پانچ ہزار ارب ڈالرز میں سے پاکستان کے حصے پر بھی سوچ و بچار شروع ہوگئی۔

لیکن۔۔۔پھر انہی شرارتیوں کے گروہ دوبارہ اپنی وحشت گاہوں سے باہر نکلے جنہیں رتی بھر احساس نہیں تھا کہ تہذیبیں، معلومات کے میدانوں میں شکست تسلیم کر رہی ہیں۔ جرم کی نوعیت بدل چکی ۔ فوڈ نئے مذہب کے طور پر متعارف ہوگیا۔

تھری ڈی پرنٹرز بڑی صنعتوں سے لے کر کاٹیج انڈسٹری تک کی مصنوعات کو کوڑیوں کے بھاؤ کرنے پر تل گئے۔ نینو ٹیکنالوجی خلیوں کی مرمت کے ذریعے انسانی عمر میں پچاس سال اضافے کے قریب پہنچ چکی اور سماج ایسی کروٹ بدل چکے جہاں دنیا اگلے کئی سو سال تک کے لئے مالک، مزدور کی نئی تعریف میں جکڑنے والی ہے۔ چند خطے، اپنی سرحدوں سے نکلے بغیر بقیہ خطوں پر حکمرانی کریں گے اور اس ’’نرم غلامی‘‘ کی زد میں آنے والوں میں سب سے اوپر جنوبی ایشین ممالک ہوں گے۔

پاکستانی حکمرانوں نے بدلتی دنیا کا بروقت ادراک کیوں نہیں کیا ؟۔ بڑی اصلاحات کے بغیرپاکستان رینگ تو سکتا ہے لیکن ترقی دیوانے کا خواب رہے گی۔ حکومتی محاذ پر کیا ہو ا؟۔ وزراء کی بے حسی، پالیسی میکروں کے لو پروفائل منصوبے اور سماج کو درپیش اصلاحاتی پیکج سے چشم پوشی۔

حکومت کی اگر اقتصادی محاذ پر کارکردگی اچھی تھی بھی تو افواہوں کی وجہ سے عوامی تائید سے محروم رہی ۔ کیا حکومت بے خبر تھی عالمگیر تبدیلیاں صرف فیشن، خوراک تک محدود نہیں ہوتیں؟۔ سماج سب سے پہلے اداروں کو اپ گریڈ کرتے ہیں، یہی ادارے بڑی تبدیلیوں کے نفاذ میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

کہاں گیا فرینڈلی پولیس کا تصور؟۔ کہاں ناپید ہوگئے محکموں کے سبجیکٹ سپیشلسٹ سیکرٹریز؟ کس پاتال جیسی گہرائیوں میں دفن ہوگئیں اپ ٹو سٹینڈرڈ طبی و تعلیمی سہولیات؟۔ کیا پورے پاکستان میں کوئی ایک یونین کونسل، قصبہ، ٹاؤن یا شہر ایسا ہے جسے سٹیٹ آف دی آرٹ قرار دیا جا سکے؟۔

ایسا بانجھ پن۔۔۔ایسا فکری دیوالیہ پن۔۔۔اور ایسی مجبوریاں۔۔۔وفاقی حکومت نے کسی طور مکمل اتھارٹی سے کام نہیں کیا یا کرنے ہی نہیں دیا گیا۔ گرپ آف رٹ میں کوتاہی نے پولیس کو بدمعاش بنا دیا۔

پچھلی صدی کے طرز حکومت نے سیکرٹریز کو بدستور چراغ کے جن کے عہدے پرفائز رکھا۔ جنگلات کا سیکرٹری آئی ٹی کے محکمے کا چارج سنبھالنے کے بعد فائل ورک تو کر سکتا ہے لیکن ٹینگو،وی چیٹ،وی ٹرانسفر کے متعلق خاک بھی نہیں جانتا ہوگا۔

اس بیمار طرز حکومت سے جان کیوں نہیں چھڑوائی جا سکی؟۔ کیا یہ آسمانی حکم ہے متروک، عوام دشمن سول سرونٹ سروس سٹرکچر کو اکیسویں صدی سے ہم آہنگ نہیں کیا جا سکتا؟۔حاکم اپنی شطرنج کی چالوں میں مصروف اورادارے عوام کو دھتکارنے پر کمر بستہ رہے۔

بڑی دیر کر دی بالا دست طبقات نے، اب تو شائد کوئی معجزہ ہی ہو اگر سماج کو عظیم ہلچل کی جانب بڑھنے سے بچایا جا سکے۔ یہ معجزہ بھی تبھی ہوگا اگر پسے، کچلے اور مظلوم طبقات کے تحفظ کی خاطر نئے قوانین کا اجراء کیا جائے۔ کیا دودھ کی قیمتوں میں سالانہ دس روپے اضافے کو روکا نہیں جا سکتا؟۔

یہاں گھسا پٹا جواب ملتا ہے، چارہ مہنگا ہوگیا ۔ مویشی چارہ کھاتے ہیں کوئی پٹرول نہیں پیتے۔ کیا آٹے، ڈبل روٹی اور بیکری اشیاء کی قیمتوں کو کم نہیں کروایا جا سکتا؟ آٹے میں ملاوٹ سے منافع دو سو گنا، ڈبل روٹی اور بیکری اشیاء کی قیمتیں اس سٹینڈرڈ پر سیٹ ، جب چینی ایک سو پچیس روپے کلو تک پہنچی تھی۔ جناب آج چینی کتنے روپے کلو ہے؟۔ پھر کہتے ہیں مجسٹریٹ قیمتیں کنٹرول کریں گے۔

کون سے مجسٹریٹ، وہ جو دکانوں پر جاتے تو قیمتیں کم کروانے ہیں مگر اپنی منتھلی سیٹ کرنے کے بعد عوام کو منافع خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ تمام بے حسی عام فرد کے دل میں ریاست کے خلاف نفرت پیدا کررہی ہے اور نفرت ہمیشہ انڈے دیتی ہے۔

ایسی بے بس حکومت کہ جس کے میڈیا ایڈوائزرز کا سرکاری ٹی وی کے پروڈیوسرز ببانگ دہل مذاق اڑاتے رہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہئے بیوروکریسی نے حکومتی رعب و دبدبے کو عوام کی نظروں میں جان بوجھ کر گرایا۔

یہ کس خوشی میں شہر ’’مستقلًا ‘‘سی پی اوز کے حوالے کر دیے گئے ۔ ذرا تھانوں پر نظر ڈالئے۔ ایس ایچ او حضرات کی ریپوٹیشن دیکھئے۔ چن چن کر ایسے ظالم اور رشوت خور انسپکٹر لگائے گئے جن کے کارناموں کی بدولت عام فرد کے ذہنوں میں حاکموں کے خلاف نفرت کے جذبات ابھرے۔ آئی بی ، انٹی کرپشن والے کیا کرتے رہے؟۔ کوئی ایک ایس ایچ او ایسا بتا دیں جو کروڑوں میں نہیں کھیل رہا۔ فیکٹریوں، شوروموں ، اور پٹرول پمپوں کے مالک ایس ایچ اوز اسی سسٹم کا تحفہ ہیں۔

اب چلتے ہیں اپوزیشن کی جانب۔دوسروں کو چھوڑیں پہلے اکیسویں صدی کے انقلابی عمران خان کی بات کرتے ہیں۔ اس حقیقت کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا عمران خان کو استعمال کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ پرائی لڑائی، زود رنج کوئی دوسرا ، اور بیچ میں کود پڑتے ہیں عمران خان۔

خود پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں کیا کر رہی ہے؟ جو وژن انتخابات سے قبل دیا گیا وہ صرف پولیس ریفارمز تک محدود رہا۔ چار پانچ ’’حکومتی انقلابی‘‘ کسی پرسکون گوشے میں اکٹھے ہوتے ہیں۔

کوئی کہتا ہے پشاور انٹرنس پر ایسا وسیع و عریض چڑیا گھر بنایا جائے ہر دیکھنے والا پی ٹی آئی کے گن گانے ۔۔۔ابھی بات درمیان میں ہی ہوتی ہے دوسرا انقلابی بول اٹھتا ہے، اگر ہاتھی چوری ہوگیا تو اس قومی خزانے کے زیاں کا کون ذمہ دار ہوگا؟ چڑیا گھر کا منصوبہ ٹھس اور پھر اگلے ہفتے نئے خیالی منصوبے کی تک بندی کے وعدے پر نشست برخاست۔ کیا کر رہے ہیں خان صاحب؟ اتنی وسیع عوامی سپورٹ کو معمولی افراد پر نکتہ چینی کی نذر کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی اپنے دیوانگی کی حد تک مر مٹنے والے کارکنوں کو دو کوڑی کے ایشوز کی خاطر سڑکوں پر دوڑاتی پھر رہی ہے۔ نہ خان صاحب نہ اس طرح نہ کیجئے۔ خیبر پختونخوا میں حکومت سنبھالنے کے بعد آپ بھی سٹیٹس کو کی حامی قوتوں کے ہم خیال بن گئے ہیں۔

اگر ایسا نہ ہوتا تو آج آپ ٹی وی چینلوں پر اپنی احتجاجی تحریک کا محرک ’’جاگیرداریت کا خاتمہ ‘‘ قرار دیتے۔ عمران خان صاحب اپنی جلسوں تک محدود اور ایشوز سے محروم سیاست کی بناء پر ’’کسی‘‘ اور کا راستہ تو ہموار کر سکتے ہیں لیکن اپنے لئے اگلی مرتبہ خیبر پختونخوامیں بھی کچھ نہیں حاصل کر پائیں گے۔

اب چلتے ہیں میڈیا کی طرف۔ سچ کی تلاش۔۔۔حقیقت کی جستجو۔۔۔کھرے منظر نامے۔۔۔پہلے یہ تو بتائیں یہ کن بلاؤں کے نام ہیں جنہیں تلواریں سونت کر اسٹوڈیوز میں ڈھونڈا جاتا ہے۔ تمام بڑے چینلز اپنی ساکھ داؤ پر لگا چکے ہیں۔ لوگ کسی پر بھی اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔

اندھا دھند سچ اور قینچی کی مانند کپل کپل کرتی بحثوں کو سن کر لوگوں کے ہاتھ پاؤں شل ہو چکے ہیں۔ قومی لیڈروں کی شکل و صورت اور لہجوں کو مزاحیہ نہیں بلکہ تذلیل آمیز انداز میں پیش کرکے لوگوں کی نظروں میں مزید بے وقعت کر دیا گیا ہے۔

اگر کسی نے ہلکا سا احتجاج کرنے کی کوشش کی تو جواب ملا جیسا رنگ ، روپ ہوگا ویسا ہی نظر آئے گا۔ پاکستانی الیکٹرانک میڈیا اک طویل عرصے سے سرحد کے اندر بیٹھ کر اپنے ہی بھرم کی دیواروں پر بمباری کر رہا ہے۔ بیشتر اینکر رینٹ اے کار کی مانند بے تحاشہ دوڑتے چلے جا رہے ہیں۔

نہ پانی چیک کرنے کی فرصت، نہ پہیوں میں ہوا کا اندازہ اور نہ ہی انجن سیلز ہونے کا ڈر۔ سوموار والے دن اینکر سیاسی گتھیوں کو سلجھا رہا ہوتا ہے، منگل کو وہ سماجیات کا ماہر بن کر چہرے پر گہری تشویش سجا لیتا ہے، بدھ کو اس پر خارجہ امور کی باریکیاں نازل ہونا شروع ہوجاتی ہیں، جمعرات کو وہ ملٹری افئیرز کا ایکسپرٹ بن جاتا ہے اور جمعے والے دن دعائیں دیتا سوموار کو ملنے کا وعدہ کر جاتا ہے ۔

خدارا مالکان رحم کریں اینکرز پر، اگر وہ بیچارے مختلف سوانگ بھرنے سے انکار نہیں کرتے تو کم از کم بندے کو خود ہی سمجھ جا نا چاہئے ۔ کئی اینکر مہمانوں کو لڑا کو خود عالم لاہوت میں چلے جاتے ہیں۔ باقی بچتے ہیں بی اے ، ایم اے پاس رپورٹر نما اینکر تو وہ جی بھر کر وربل ابیوز کر رہے ہیں۔ جوش و جنون کی رو میں بہتے ہوئے وہ ذاتیات پر ایسا ایسا خوفناک حملہ کر رہے ہیں دیکھنے والے انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔

درحقیقت الیکٹرانک میڈیا بھی سٹیٹس کو کی قوتوں کا حامی نکلا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو معصوم لڑکیوں کے ذریعے اشتہاریوں کی زندگی پر ڈاکومینٹری بنانے کی بجائے جاگیرداریت کے خلاف فضاہموار کی جاتی۔اگر ایسا نہ ہوتا تو کالا باغ کی افادیت بتاتے ہوئے خیبر پختونخوا اور سندھی عوام کو باور کروایا جاتا ، ڈیم نہ بنا تو صرف بارہ سال بعد ان کے پاس مردے نہلوانے کو بھی پانی نہیں بچے گا اور اس تاثر کو بھی رد کرتا کہ اگر کالا باغ ڈیم بن گیا تو سندھیوں، پختونوں کے پرکھوں کی قبریں ڈوب جائیں گی، میڈیا باور کرواتا دنیا میں تیل کی مانند پانی کے ذخائر کی بھی بولیاں لگنا شروع ہو گئی ہیں۔ اب یا پرکھوں کی قبریں بچا لیں یا آنے والی نسلوں کو ایک بوند پانی کی خاطر سسک سسک کر مرتا ہوا دیکھنے کے لئے تیار رہیں۔

پاکستان کا مسئلہ دو چار سیمنٹ کے پلوں کی تعمیر نہیں، بلکہ مسئلہ ان عظیم اقتصادی اور سماجی ریفارمز کا ہے جو اگر فوری طور پر نافذ نہ کی گئیں تو انارکی نمودار ہو جائے گی۔ اگرچہ پارلیمنٹ نے عظیم ریفارمزسے ہمیشہ انکار کیا۔

لیکن شائد اب بھی کوئی جماعت پہل کرنے پر تیار ہو جائے۔ اگر پارلیمنٹ ان عظیم ریفارمز سے بدستور ہچکچاتی رہی تو پھر کشمکش شروع ہوگی ان سرکاری اور غیر سرکاری مسلح گروہوں کی جو اپنی اپنی مرضی کی ریفارمز تھوپنے کے آرزومند ہوں گے۔

یہ کشمکش جنم دے گی ایک نئے مشرق وسطی کو موجودہ حکومت وہ کام کر سکتی تھی جو شہید ذوالفقار علی بھٹو سے بھی نہ ہو سکا، جس کا سوچ کر عظیم انقلابی عمران خان بھی کنی کترا کر نکل جاتے ہیں۔ وہ کام زرعی پیداوار ڈبل کر دے گا۔ کروڑوں افراد کو گھر بنانے کے لئے رقبہ دستیاب ہو جائے گا۔

کوئی تو آگے بڑھتا۔ یہ پاکستان کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ آپ نہیں تو کون؟ اگر اتنے بڑے مینڈیٹ کے ساتھ جاگیرداریت کے بت کو توڑا نہیں جا سکتا تو پھر ہمیں تیار رہنا چاہئے اس بے چینی کا جہاں کروڑوں لوگ اجتماعی پاگل پن کی طرف بڑھ جائیں گے۔لوگوں نے ریاست کی خاطر بہت کچھ قربان کردیا اب ریاست کے لئے پے بیک کرنے کا وقت ہے۔

مزید :

کالم -