قوانین میں ترمیم تک ،ڈرگ انسپکٹروں کو چالانوں سے روک دیا گیا

قوانین میں ترمیم تک ،ڈرگ انسپکٹروں کو چالانوں سے روک دیا گیا

لاہور(جاوید اقبال) محکمہ صحت نے ڈرگ ایکٹ 2017میں ترمیم تک ڈرگ انسپکٹروں کو فارماسوٹیکل کمپنیوں فارمیسوں اور میڈیکل سٹوروں کی انسپکشن چھاپے مارنے چالان کرنے سے روک دیا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان فارما سوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن پنجاب کیمسٹ کونسل اس سے متعلقہ تنظیموں کی طرف سے ڈرگ ایکٹ میں سخت سزاؤ ں اور بڑے جرمانوں کو مسترد کردیاگیا تھا اور ان کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان بھی کیا تھا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی ممکنہ احتجاجی تحریک کے خوف سے ڈرگ انسپکٹروں کو نیا حکم نامہ جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ محکمہ صحت ڈرگ ایکٹ 2017کے قوانین میں ترمیم کرنے جا رہا ہے جس میں سزا اور جرمانوں میں نرمی کی جارہی ہے جب تک یہ عمل مکمل نہیں ہو جاتا تمام ڈرگ انسپکٹرز اپنی کارروائیوں میں نرمی رکھیں فارماسوٹیکل کمپنیوں فارمیسوں اور میڈیکل سٹوروں کی انسپکشن چھاپے مارنے اور چالان کرنے سے ہر ممکنہ حد تک گریز کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ انتشار نہ پھیلے ۔واضح رہے کہ ترمیمی ڈرگ ایکٹ 2017 کے قوانین میں سزائیں سخت کی گئیں تھیں اور ان میں بڑے جرمانے نافذ کئے گئے تھے جس کے تحت جعلی اور غیر معیا ری ادویات برآمد ہونے ایکسپائری ادویات ہونے کی صورت میں اڑھائی سے پانچ کروڑ تک جرمانہ پانچ سال سے عمر قید تک کی سزا یا پھر دونوں سزائیں بیک وقت دینے جیسے رولز بنائے گئے تھے ۔اس حوالے سے ڈرگ انسپکٹروں کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت کی یہ دوہری پالیسی سمجھ سے بالا تر ہے پرائیوٹ کمپنی ایس کے اے ایف کے پرائیوٹ ڈرگ انسپکٹرو ں کو انسپکشن کی اجازت دے رکھی ہے مگر سرکاری انسپکٹروں کو کارروائی سے روکا گیا ہے اس پر صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر کا کہنا ہے کہ معاملے کا علم نہیں تاہم یہ طے ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرکے ڈرگ ایکٹ میں ترمیم کی جائے گی ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے تاہم معاملے کا جائزہ لوں گا جعلی ادویات کے خلاف آپریشن جاری رکھا جائے گا۔

ڈرگ انسپکٹر

مزید : میٹروپولیٹن 1