ڈاکٹری کے یونیفارم میں درویش

ڈاکٹری کے یونیفارم میں درویش
ڈاکٹری کے یونیفارم میں درویش

  

ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے توگویا جادو کی چھڑی گھمادی ، گنگا رام اسپتال کا ایمرجنسی وارڈ یکایک صحیح ڈگر پر آگیا، ایک ایک بیڈ پر جا کر پوچھا کہ دوائی کہاں سے لی ہے ، پٹی کے لئے سامان کہاں سے لیا، اپنا بخار چیک کروانے کے لئے تھرما میٹر کہاں سے لائے ہو لیکن ہر مریض اور اس کے تیماردار نے ایسے جواب دئیے جیسے گھڑے گھڑائے ہوتے ہیں کہ سب کچھ ہسپتال سے ملا ہے ، کچھ بھی باہر سے نہیں خریدنا پڑا، مجھے چاروناچار ڈاکٹر گوندل سے کہنا پڑا کہ مجھے لگتا ہے کل میں جس اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں آیا تھا ، وہ گنگا رام نہیں بلکہ کوئی اور اسپتال ہوگا!

بات کچھ یوں ہے کہ دفتر کے آفس بوائے کو 105بخار میں ایک روز پہلے گنگارام اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں لے کر گیا تو ڈاکٹروں نے سوائے زہر کے مریض کے لئے ہر شے اسپتال سے باہر سے لانے کا کہا، حتیٰ کہ یہ تک کہا گیا کہ تھرمامیٹر باہر سے لاؤں تاکہ مریض کا ٹمپریچر چیک کیا جا سکے ، کل ملا کر چار مرتبہ ڈاکٹروں نے کوشش کی کہ میں باہر کے میڈیکل سٹور سے دوا ئی اور پٹیاں لے کر آؤں اور آخر میں گیٹ پر کھڑے گارڈ کو چائے پانی بھی دے کر آؤں تو میرے پاس اپنی خجالت مٹانے کا اس کے سوا کوئی راستہ نہ تھا کہ کالم ہذا میں تفصیل سے ہر بات بیان کردوں۔

وہ جو کہتے ہیں کہ معاشرہ اس لئے چل رہا ہے کہ اس میں ابھی نیک نیت انسان موجود ہیں ، اس کا عملی نمونہ دیکھنا ہو تو ڈاکٹر خالد مسعود گوندل کو دیکھئے جو ڈاکٹر ی کے یونیفارم میں درویش ہیں ۔میں نے ان سے ایمرجنسی وارڈ میں موجود ابتر نظام کی بابت بات کی تو وارڈ کے معائنے کے لئے نکل پڑے جہاں وہ کچھ ہوا جو اوپر بیان ہو چکا ہے۔ واپسی پر ایم آر آئی وارڈ کے باہر درخت کے نیچے ایک نوجوان سگریٹ پی رہا تھا ، اس کے پاس رک گئے ، دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے کسی عزیز کی ایم آر آئی کروانے آیا ہے ۔ کہنے لگے کہ اگر تم مجھ سے سگریٹ نوشی ترک کرنے کا وعدہ کرو تو تمھارے مریض کا آؤٹ آف ٹرن ایم آر آئی کروادیتا ہوں، نوجوان نے ہنس کر وعدہ کیا اور ڈاکٹر گوندل درویشوں کی طرح وارڈ میں گئے اور اس کے مریض کے لئے فرشتہ ثابت ہو گئے۔

سرفراز شاہ صاحب سال میں ایک مرتبہ اپنے بزرگوں کے عرس کے موقع پر میانی صاحب میں لنگر کا اہتمام کرتے ہیں جس میں بار بی کیو کا اہتما م ہوتا ہے اور ہر خاص و عام گزرنے والا کھاتا اور انگلیاں چاٹتا ہے ۔ شاہ صاحب پی ٹی وی پر انٹرویو کے لئے آئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ لوگوں کو ایک دن کچھ نہ کئے بغیر باربی کیو کھانے کی ترغیب آپ دیتے ہیں ، مسکرا کر چپ ہو گئے ....میں نے ایسی ہی بات ڈاکٹر گوندل سے پوچھنے سے گریز کیا کیونکہ میں ان کا مہمان تھا جبکہ سرفراز شاہ صاحب میرے مہمان تھے!

فاطمہ جناح میڈیکل کالج مادر ملت کی خدمات کو ہدیہ تبریک پیش کرنے کے لئے بنایا گیا تھا لیکن ڈاکٹر گوندل کی تعیناتی سے قبل اس میڈیکل کالج کی حالت ناگفتہ بہہ ہو چکی تھی اور صحیح معنوں میں چلی جا رہی خدا کے سہارے کی عملی تصویر بنی ہوئی تھی۔ اب ڈاکٹر گوندل نے ہر شے کو سیدھا کرنا شروع کیا ہے ، میرا خدشہ یہ ہے کہ جب تک وہ میڈیکل کالج اور اسپتال کو درست سمت میں ڈالیں گے ، تب تک ان کا تبادلہ ہو چکا ہوگا یا پھر ان کی جگہ کوئی اور لے چکا ہوگااور ان کی ساری محنت اکارت چلی جائے گی۔

یاد آیا کہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق پاکستان ریلوے کو درست سمت میں ڈال چکے تو پریس کانفرنس کا اہتمام کرلیا اور بتایا کہ کس طرح انہوں نے خسارے میں چلنے والے ادارے کو منافع بخش بنادیا ہے ، ریلوے اسٹیشنوں کی حالت درست کر رہے ہیں اور نئے انجن اور بوگیاں خرید رہے ہیں وغیرہ وغیرہ تو انہی کالموں میں تحریر کیا تھا کہ نون لیگ کچھ نیا ایجاد نہیں کرتی ، بس سسٹم کو درست سمت میں ڈال کر کریڈٹ سمیٹ لیتی ہے اور اگلی بار کوئی اور حکومت آکر دوبارہ سے اس کو الٹ دے گی ، یعنی الٹی سیدھی چیزوں کو سیدھا کرکے رکھتے جانا اگرچہ ایک کام ہے مگر بس کام ہے ، اس کی مثال گھر میں پڑی چیزوں کی جھاڑ پونچھ سے دی جا سکتی ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر سامان چمکتا تو رہتا ہے مگر گھر کی ہئیت میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی ہے لیکن گنگا رام اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کی جس حالت زار کے ہم راوی ہیں اگر اس کو روزانہ کی بنیاد پر چمکانے کا کام بھی بخوبی سرانجام دے دیا جائے تو بڑی بات ہے کیونکہ A blind woman is lying there یعنی اوتھے انی پئی ہوئی اے!....یا پھر ظفر اقبال کے الفاظ میں وہاں

چھت پہ پنکھا چل رہا ہے

اور ......الٹا چل رہا ہے !

ڈاکٹر گوندل طبیعتاًانقلابی نہیں ہیں وگرنہ گنگا رام اسپتال کو الٹا کر سیدھا کیا جا سکتا ہے ، لیکن کیا کریں کہ ڈاکٹر گوندل انسان دوست لکھاری ہیں جو اپنی یادداشتوں کا بوجھ بانٹتے پھرتے ہیں ۔ان یادداشتوں میں دین و دنیا سبھی کچھ ہے ، ان میں خدا بھی ملتا ہے اور وصال صنم بھی ہوتا ہے ، ڈاکٹر گوندل نے فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی حالت سدھارنے کا کام بھی کاغذی طور پر شروع کیا ہے ، یعنی جملہ خرابیوں کو احاطہ تحریر میں لائے ہیں اور تحریر کے ذریعے ان خامیوں کو خوبیوں میں بدلتے جا رہے ہیں ، اللہ ا س نیک کام میں ان کا مددگار رہے، آمین!

مزید : کالم