چیئرمین تعلیمی بورڈ کو 9سالہ بچی کو نویں جماعت میں داخلہ دینے کا حکم

چیئرمین تعلیمی بورڈ کو 9سالہ بچی کو نویں جماعت میں داخلہ دینے کا حکم

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے 9 سالہ بچی کو نویں جماعت میں داخلہ نہ دینے کے خلاف درخواست پر چیئرمین لاہور تعلیمی بورڈ کو درخواست گزار کو عدالتی حکم کے مطابق داخلہ دینے کا حکم دے دیاہے۔مسٹر جسٹس عابد عزیز شیخ نے نو سالہ سحر خالد کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کے وکیل خالد محمود نے کمسن بیٹی سمیت پیش ہو کر موقف اختیار کیا کہ ان کی بیٹی سحر خالد پرائمری ایجوکیشن کمیشن سے آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کر چکی ہے اور اس کے نویں جماعت میں داخلے لئے متعدد سکولوں سے بھی رجوع کر رہا ہوں لیکن سکولوں کے پرنسپل صاحبان عدالتی حکم کے باوجود طالبہ کو اگلی جماعت میں داخلہ نہیں دے رہے، درخواست گزار کے والد نے مزید موقف اختیار کیا کہ بیٹی کے داخلے کے لئے چیئرمین لاہور تعلیمی بورڈ سے بھی رجوع کیا مگر چیئرمین نے اگلی جماعت میں داخلہ دینے کے لئے 40ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے، عدالتی استفسار پر انہوں نے آگاہ کیا کہ چیئرمین تعلیمی بورڈ نے عدالتی حکم کا فائدہ صرف عدالت سے رجوع کرنے والے طلباء کو دینے کا کہہ کر 9 سالہ سحر خالد کو اگلی جماعت میں داخلہ دینے سے انکار کر دیا ہے ،درخواست گزار کی بیٹی کو نویں جماعت میں داخلہ دینے کا حکم دیا جائے، عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد درخواست نمٹاتے ہوئے 9 سالہ بچی کو نویں جماعت میں داخلہ نہ دینے کے خلاف درخواست پر چیئرمین لاہور تعلیمی بورڈ کو درخواست گزار کو عدالتی حکم کے مطابق داخلہ دینے کا حکم دے دیاہے۔

داخلہ کا حکم

مزید : صفحہ آخر