قومی اسمبلی ، فاٹا اصلاحات بل مزید مشاورت سے دوبارہ ایوان میں پیش کیا جائیگا : حکومت

قومی اسمبلی ، فاٹا اصلاحات بل مزید مشاورت سے دوبارہ ایوان میں پیش کیا جائیگا ...

اسلام آباد (این این آئی) قومی اسمبلی اجلاس کے دوران وفاقی وزیر شیخ آفتاب احمد نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاٹا اصلاحات کا بل مزید مشاورت کے بعد دوبارہ ایوان میں لایا جائے گا، سوالات کے جوابات نہ آنے پر سپیکر سردار ایاز صادق کا اظہار برہمی، سیکرٹری سیفران کو تین دن کیلئے معطل کرنے کی سفارش ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایجنڈے پر موجود فاٹا اصلاحات کا بل نکالنے سے متعلق ارکان کی جانب سے توجہ دلانے پر کیا۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی فاٹا اصلاحات کی حمایت کرتی ہے۔ فاٹا ریفارمز کے حوالے سے بل ایجنڈے پر لا کر پھر نکال دیا گیا یہ افسوسناک ہے۔ وزیر سیفران بتائیں کہ یہ ایجنڈے سے کیوں نکالا گیا۔ ڈپٹی سپیکر نے بتایا کہ اس بارے میں وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے وضاحت کی ہے کہ تکنیکی وجوہات کی بناء پر بل چندروز کیلئے واپس لیاہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ غلطی ہو گئی ہے تو ازالہ ہونا چاہئے۔ وزیر سیفران لیفٹیننٹ (ر) جنرل عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ اس بل کو زیادہ وقت کیلئے موخر نہیں کیا گیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایجنڈے پر بل موجود ہے۔ اس کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا،فاٹا اصلاحات پر سب کا اتفاق ہے تاہم حکومت ایک یا دو شخصیات کی بنیاد پر پورے ملک کا ماحول خراب کرنا چاہتی ہے۔ ڈپٹی سپیکر نے ایوان سے ارکان کی درخواستوں کی منظوری شروع کی تو اپوزیشن ارکان نے ڈیسکوں پر کھڑے ہو کر احتجاج شروع کر دیا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ بل واپس لینے کی وجہ بتا دیں۔ ہم اس پر واک آؤٹ کرتے ہیں اور جب تک بل نہیں آتا یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ مسلم لیگ (ن) کے فاٹا سے رکن شہاب الدین بھی اپوزیشن کے ساتھ مل کر احتجاج کرتے رہے۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور پی پی پی کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے تاہم تحریک انصاف، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی کے ارکان نعرے بازی کرتے رہے اور بعد ازاں وہ بھی واک آؤٹ کر گئے۔جس کے بعد تحریک انصاف کے رکن امجد علی خان نے کورم کی نشاندہی کی ،گنتی کرنے پر کورم پورا نہ نکلا جس کے بعد اجلاس (آج) منگل کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔قبل ازیں وقفہ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا گیا کہ برآمدات کے فروغ کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ پاکستان اور ترکی نے 2015ء میں آزادانہ تجارت کے معاہدے کا اعلان کیا لیکن ابھی اس پر دستخط نہیں ہوئے۔ پاکستان میں 13 لاکھ 80 ہزار کے قریب رجسٹرڈ افغان پناہ گزین آباد ہیں جبکہ صرف کراچی میں 65 ہزار کے قریب غیر رجسٹرڈ افغان پناہ گزین رہ رہے ہیں، ملک میں ہاکی سمیت کھیلوں کے فروغ کے لئے جامع اقدامات کئے جا رہے ہیں۔پیر کو اجلاس میں پاکستان فرانس فرینڈ شپ گروپ کے وفد اور لورہ لائی بلوچستان کے کالج کے طالب علموں نے بھی قومی اسمبلی کی کارروائی دیکھی ۔ ایوان میں آمد پر اراکین نے ڈیسک بجا کر ان کا خیرمقدم کیا۔اجلاس میں سابق ارکان قومی اسمبلی ملک نعیم خان اور رقیہ خانم کے ایصال ثواب کیلئے رکن قومی اسمبلی جما الدین نے سپیکر کے کہنے پر فاتحہ خوانی کرائی ۔

قومی اسمبلی

مزید : صفحہ آخر