سینیٹ ، خیبر پختونخوا اسمبلی میں امریکی صدر کے فیصلے کیخلاف قرار دایں منظور

سینیٹ ، خیبر پختونخوا اسمبلی میں امریکی صدر کے فیصلے کیخلاف قرار دایں منظور

اسلام آباد، پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں ) ایوان بالا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دا ر ا لحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد کی اتفاق رائے سے منظوری دی ہے جس میں حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں لائحہ عمل وضع کرنے کیلئے پارلیمان کا مشتر کہ اجلاس بلائے۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں قائد ایوان سینیٹر راجہ ظفر الحق نے ارکان کی طرف سے اس معاملہ پر پانچ گھنٹے کی بحث کے بعد قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کے اعلان کی شدید مذمت کرتی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے امریکی صدر کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں سمیت تمام بین الاقوامی قوانین اوراخلاقیات کی خلاف ورزی ہے،سینیٹ آف پاکستان اس فیصلے پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس کا معاملہ کا نوٹس لے اور اپنی قراردادوں پر عمل کروائے جو اس نے ماضی میں منظور کی ہیں۔ امریکی صدر کے اعلان نے امریکہ کی طرف سے امن کی کوششوں کی قلعی کھول دی ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس مسلمانوں اور عیسائیوں کیلئے بھی مقدس مقام کا درجہ رکھتا ہے۔ امریکی صدر کے اعلان سے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کے تاریک باب کا آغاز ہوگا۔ بین الاقوامی برادری نے بھی امریکہ کے اس فیصلے کو مسترد کیا ہے جس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ قرارداد میں نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ ادھر خیبرپختونخوا اسمبلی نے امریکی صدر کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارلحکومت قرار دیے جانے کیخلاف اور بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے حوالے سے د و قر ا ر دادیں منظورکرلیں ۔پیر کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کی صدا ر ت میں ہوا، اجلاس میں امریکی سفارتخانے کی یروشلم منتقلی کے حوالے سے سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے تحریک پیش کی ، جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا قواعد کو معطل کر کے آج اجلاس میں صرف اسی تحریک پر بحث ہوگی ، جس پر انہوں نے قائد ایوان راجہ ظفرالحق اور قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن کی مشاورت سے باقی ایجنڈا مؤخر کردیا ۔قراداد پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔دوسری خیبرپختونخوا اسمبلی میں امریکی کی جانب سے اسرائیلی دارلحکومت قرار دیے جانے کیخلاف اور بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے حوالے سے دوقراردادیں منظورکرلی گئیں۔ سپیکر اسد قیصر کی جانب سے ایجنڈا موخر کرنے پر اپوزیشن اراکین نے واک آوٹ کیا، جس پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین میں تندو تیز جملوں کا تبادلہ ہوا۔ٹرمپ کے فیصلہ کیخلاف قرارداد پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی فخر اعظم ، بیرونی ممالک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے حوالے سے قراردار حکومتی رکن مہر تاج روغانی نے پیش کی ۔ اجلاس میں پچھلے سیشن کے رہ جانے والے ایجنڈے پر صوبائی وزیر شاہ فرمان حکومتی رد عمل دینا چاہتے تھے۔پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی فخر اعظم وزیر کی جانب سے کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی تو صوبائی وزیر شاہ فرمان اور فخر اعظم وزیر کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا، جس پر ایوان مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا۔ سپیکر نے اجلاس دس منٹ کیلئے موخر کر دیا،وقفے کے بعد دوبارہ اجلاس میں کورم پورا نہ ہونے پر سپیکر نے اجلاس آج تک ملتوی کر دیا۔

سینیٹ اجلاس

مزید : صفحہ اول