پاک چین دوستی باہمی احترام، اعتما د کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے،ایازصادق

پاک چین دوستی باہمی احترام، اعتما د کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے،ایازصادق

اسلا م آباد(سٹاف رپورٹر)سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے مابین مثالی تعلقات باہمی احترام اوراعتماد پر مبنی ہیں اورپاکستان موجود ہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسسٹنٹ منسٹر آف انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ آف سنٹرل کمیٹی آف کیمونسٹ پارٹی آف چائنہ وانگ یاجون کی سر براہی میں ملاقات کرنے والے اعلی سطحی چینی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے پیر کے روز اسلام آباد میں سپیکر سے ملاقات کی۔قومی اسمبلی میں پا ک ۔چین فرینڈ شپ گروپ کے کنو ئیر رانا محمد افضل خان اور پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جنگبھی اس موقع پر موجود تھے ۔وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ پاک۔چین تاریخی دوستی تعاون اور شراکت داری کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے ۔انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ چینی وفد کا حالیہ دورہ پاکستان موجود ہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم پیش رفت ثابت ہو گا ۔سر دار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان ہر آزمائش پر پورا اترنے والے دوست ملک چین پر بھر پور اعتماد کرتا ہے اور دونوں دوست ممالک علاقائی معاملات پر یکساں موقف کے حامل ہیں ۔سپیکرنے کہا کہ پاک۔چین اقتصادی راہداری منصوبہ جو ایک بڑا اور انتہائی اہم منصوبہ ہے پاکستان اس پر موثر انداز میں عمل درآمد کو ممکن بنانے اور اس کی بروقت تکمیل کے لیے پر عزم ہے ۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک مشترکہ اقتصادی اور تر قیاتی منصوبوں کے ذریعے خطے کے عوام کی خوشحالی کے لیے مصروف عمل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان رابطو ں کو فروغ دے کرچین کے علاقائی اور عالمی انضمام کے و یژن کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے کے ابتدائی شر اکت داروں میں ہے ۔وفد کے شرکا ء کو 23سے 26دسمبر تک اسلا م آباد میں منعقد ہو نے والی سپیکر ز کا نفرنس سے آگا ہ کر تے ہو ئے سپیکر قومی اسمبلی سر دار ایاز صادق نے کہا کہ مذکو رہ کا نفرنس سے مضبو ط شراکت داری کے ذریعے خطے کے ممالک میں تر قی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا اور یہ کا نفرنس دہشت گردی کے نا سور پر قابو پا نے میں بھی معاون ثابت ہو گی ۔انہو ں نے مزید بتایا کہ کا نفرنس میں شر کت کے لیے چین ،روس،ترکی ،ایر ان اور افغانستان کے سپیکر ز کو مدعو کیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ منسٹر آف انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ آف سنٹرل کمیٹی آف کیمونسٹ پارٹی آف چائنہ وانگ یاجون نے کہا کہ چین کے اسٹرٹیجک شماروں میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت حاصل ہے اور دونو ں ممالک کی قیادتیں موجودہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے پر عزم ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پاک۔چین تعاون خطے اور اس سے باہر چیلنجوں سے نمبٹنے کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے ۔وانگ یاجون نے کہا کہ چین پاکستان کی اقتصادی تر قی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے پر عزم ہے ۔انہوں نے چین کی طر ف سے ٹیکنالوجی ،بنیادی ڈھانچے کی تر قی اور توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ شر اکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے پر عزم ہے اور موجودہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کی خواہش رکھتا ہے ۔ دریں اثناء سر دار ایاز صادق نے کہا ہے کہ پاکستان فرانس کو اپنا قریبی دوست سمجھتا ہے اور پارلیمانی اوردیگر شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ د ے کر موجودہ تعلقات کو مزید مستحکم بناناچاہتا ہے ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار فرانس کی پا رلیمنٹ میں پاک۔فرانس فرینڈ شپ کے صدر جین برنارڈ سیمپاسٹسکی سربراہی میں فرانس کے 5رکنی پارلیما نی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے پیر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں سپیکر سے ملاقات کی ۔پاکستان کی قومی اسمبلی میں پاک۔فرانس فرینڈ شپ گروپ کے کنوینر محمد جنید انور چوہدری اور پاکستان میں فرانس کے سفیرمارک باریٹی بھی اس موقع پر موجود تھے ۔پاک۔ فرانس تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے سپیکر نے دو طر فہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اراکین پارلیمنٹ کے کردار کی ضرورت پر زور دیا ۔انہوں نے کہا کہ پاک۔فرانس فرینڈ شپ گروپ کا دونوں ممالک کی پالیمانوں میں قائم ہونا انتہائی حوصلہ افزاء ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی فرینڈ شپ گروپس دونو ں ممالک کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ترقی اور خوشحالی کی حقیقی منزل کی طر ف گامزن ہے ۔انہوں نے کہا دہشت گرد انسانیت کے کھلے دشمن ہیں اور پاکستان میں دہشت گردی اور انتہا ء پسندی کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم اس ناسور کے خاتمے کے لیے پر عزم ہے اور اس سلسلے میں پا کستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کے مشترکہ فیصلوں کی بدولت بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ دہشت گردی اور انتہاپسندی دنیا کے امن اور استحکام کے لیے بڑا خطرہ ہے اور اس کا خاتمہ تمام اسٹیک ہو لڈرزکے مابین قریبی تعاون کے ذریعے ممکن ہے ۔انہوں نے کہاکہ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کا قیام مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر ممکن نہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن اور استحکام افغانستان میں امن واستحکام سے منسلک ہے ۔سپییکر نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیاء میں فرانس کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شر اکت دار ہے اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو عوامی سطح پر رابطوں کو فروغ دے کر مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے ۔انہوں نے دونوں ممالک میں تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور پاک۔فرانس بزنس الائنس کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔انہوں نے سائنسی تحقیق ،توانائی ،ماحول اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔فرانسیسی وفد نے پاکستان کی پارلیمنٹ کے کردار کو سر اہا اور اپنے ملک کی طرف سے پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ انہو ں نے کہا کہ فرانس پاکستان میں جمہوریت کا فروغ اور جمہوری اداروں کا استحکام چاہتا ہے ۔ پاک۔فرانس فرینڈ شپ کے صدر جین برنارڈ سیمپاسٹسنے کہاکہ فرانس پاکستان کے ساتھ تمام معاشی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور اس نا سور کے خا تمے کے لیے پاکستان کا کردار انتہائی قابل ستائش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کی خدمات قابل تحسین ہیں اور فرانس اس مشترکہ مقصد کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گا ۔انہوں نے توانائی ،تعلیم ،ماحول اور زراعت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا ۔انہوں نے کہا کہ فرانس اور پاکستان کے ما بین قریبی تعاون خطے اور اس سے باہر چیلنجوں سے نمبٹنے کے لیے نا گزیر ہے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول