2018ء کے انتخابات میں کسی بھی سیاسی اتحاد میں شامل نہیں ہوں گے :پرویز خٹک

2018ء کے انتخابات میں کسی بھی سیاسی اتحاد میں شامل نہیں ہوں گے :پرویز خٹک

نوشہرہ (بیورورپورٹ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا کہ پاکستا ن تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان 2018 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی سمیت کسی بھی سیاسی اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے اور نہ ہی تحریک انصاف کسی اتحاد میں شامل ہوگی۔اگر ملک کی تمام پارٹیاں اکھٹی بھی ہوجائیں تب بھی تحریک انصاف ان کااکیلے مقابلہ کرے گی۔تحریک انصاف کاکئی مہینوں سے مطالبہ ہے کہ الیکشن وقت سے پہلے ہونے چائیں۔وفاق میں کوئی حکومت نظر نہیں آرہی ہے۔وفاقی حکومت اپنے مسئلوں اور کرپشن کے گناہوں میں الجھ گئی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ ماڈل ٹاؤن میں جو قتل عام ہوا تھا۔اس میں ہم طاہر القادری کے ساتھ کھڑے ہیں۔کیونکہ انسانیت سوز اور چنگیزی ایک ظلم ہوا ہے اور ظالم کو سزاملنی چاہیے ۔ظالم کے خلاف تحریک انصاف ہمیشہ کھڑی رہے گی۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ایک اور تاریخی قدم اٹھارہی ہے صوبے میں تیس ہزار پیش امام صاحبان کو دس ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دے گی۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے بدرشی اور کوتر پان میں شمولیتی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایم این اے ڈاکٹر عمران خٹک ، ضلع ناظم لیاقت خٹک، تحصیل احد خٹک ، گل ریز حکیم خان خان، فراست خان ،سید علی خان،ضلعی جنرل سیکرٹری ملک ابرار، آصف حمید ، سلیم مجاہد،تحصیل ممبر محمد اسماعیل، جنرل کونسلر محمد زبیر ، نوید خان اور دیگر مقامی نمائندوں اور رہنماؤں نے جلسوں خطاب کیا ۔ اس موقع پربدرشی سے انور خان، عمر، عبدالغنی، فضل ربی، شاکر اﷲ، شفیع اﷲ، سردار حسین، کامران خان، عطاالرحمن، نعمان شاکر، شیراز خان، حضرت عمر، سیلمان خان، محمد شعیب اﷲ جبکہ کوتر پان میں حاجی عمران ، رفیع اﷲ، اختیار علی، عارف اقبال، اسفندیار ، نوید شہزاد، سید عمران، سید علی شاہ، ولی بہادر، جواد خان، حاجی رحمت، منور خان، شاہد خان اور دیگر نے اپنے خاندان او رساتھیوں سمیت اے این پی ، مسلم لیگ ، پی پی پی سے مستعفی ہوکر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے تحریک انصاف میں نئے شامل ہونے والوں کا خیر مقدم کیا۔ جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ وفاقی حکومت کی رٹ قائم نہیں رہی۔وفاقی حکومت کو خود سوچنا چاہیے کہ جب ان کی رٹ ختم ہوگئی ہے تو ان کو حکومت سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔ اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ انتخابات وقت سے قبل ہونے چاہیے کیونکہ ملک کی معیشت اور لاء اینڈ آرڈر تباہ ہورہا ہے۔اگر وفاقی حکومت کو ملک سے محبت ہو تو وہ انتخابات کا اعلان کرے ۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کا بہت شکر گزار ہوں کہ میری حکومت کاآخری سال ہے۔ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبہ بھر سے لوگ جو ق در جوق تحریک انصاف میں شامل ہورہے ہیں۔ حالانکہ پہلے جب حکومت کا آخری سال آتا تھا تو لوگ پارٹیاں چھوڑ کربھاگتے ہیں۔اس وقت منتخب لوگوں سمیت صوبے کے تمام عوام ، اہم سیاسی کارکن اور رہنما تحریک انصاف میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ یہ میری وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کی مہربانی ہے۔ہم نے اپنے منشور میں عوام سے وعدہ کیاتھا کہ ہم نظام میں تبدیلی لائیں گے۔کرپشن کے خلاف جہاد کریں گے۔اور اسی وجہ سے ہم نے تعلیم اور پولیس میں ریفامز کئے۔اداروں کو اپنا کام کرنے کے لیے ایک نظام دیا۔ انھوں نے کہا کہ اسی اعتماد کی بنا پر عوام سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف نے اپنے منشور پر عمل کیا۔ جس کی وجہ سے عوام تحریک انصاف میں شامل ہورہے ہیں۔عوام کا تحریک انصاف اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خا ن پر بھر پور اعتماد ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ملک میں کرپشن کرنے والے لوگ بڑے ماہر ہوتے ہیں۔ وہ اپنے پیچھے کوئی ثبوت چھوڑ کر نہیں جاتے۔نوازشریف پر اللہ کی طرف سے ایک عذاب آیا کہ وہ پھنس گیااور اس کے بعد نوازشریف پر ایک اور عذاب آیا جب اس نے آئین میں ترمیم کی اور دین کو نقصان پہنچایااور حلف نامے میں تبدیلی کی۔اللہ تعالی کا نظام ہے کہ غلط لوگوں کو اس دُینا میں بھی سزا ملتی ہے۔اور آخرت میں بھی ۔یہ لوگ اس دنیامیں تو پکڑ ے گئے ہیں اور انشاء اللہ آخرت میں بھی ان کا ساتھ حساب کتاب ہوگا۔اللہ کے نظام سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ انھوں نے کہا کہ جو لوگ اچھا کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو صلہ دیتا ہے اور جو لوگ غلط کام کرتے ہیں اللہ ان کوسزا دیتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم نیک نیتی سے کام کررہے ہیں اور ہمارے ارادے صحیح ہیں۔انشاء اللہ ، اللہ ہماری مدد کرے گا۔ملک بھر کے سارے نوجوان تحریک انصاف میں ہیں۔ حتیٰ کے مخالف لیڈروں کے بچے بھی تحریک انصاف میں ہیں۔ تحریک انصاف میں نوجوان کے جنون کامقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔یہ لوگ خواب خرگوش میں ہیں اور اسی میں رہیں گے۔ان کا دورختم ہوچکا ہے۔جہاں پر بھی ظلم ہوگا۔ تحریک انصاف اور عمران خان وہاں پر کھڑے ہوں گے۔وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کہا کہ تحریک انصاف کی نظام کی تبدیلی کیلئے جملہ کاؤشوں کا بنیادی مقصد ایک ایسے نظام کی تشکیل ہے جس میں ادارے عوام کو خدمات کی فراہمی کیلئے آزاد اور مکمل طور پر فعال ہوں تاکہ عوام کو سیاستدانوں کے پیچھے بھاگنا نہ پڑے۔تحریک انصاف نے ساڑھے چار سال کے مختصر عرصے میں خیبرپختونخوا میں اس نظام کی بنیادیں رکھ دی ہیں۔ پاکستان کو ترقیافتہ دُنیا کے مقابلے میں لانے کیلئے مرکزی اور قومی سطح پر نظام کی اصلاح ضروری ہے۔پاکستانی عوام خصوصاً نوجوانوں کو اس میں بنیادی کردار ادا کرنا ہے۔جو سسٹم گزشتہ 70 سالوں میں عوام کو تعلیم ، صحت ، روزگار اور انصاف جیسی بنیادی سہولیات نہ دے سکا اُس سسٹم سے مزید توقعات وابستہ کرنا دانشمندی نہیں ۔سوچنے کی بات ہے کہ دُنیا ترقی میں کتنی آگے نکل گئی اور ہم آج تک عوام کو بنیادی ضروریات زندگی بھی فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔یہی وہ محرکات ہیں جن کی وجہ سے تحریک انصاف نے روایتی سیاست و حکومت کے برعکس نظام کی تبدیلی کا نعرہ لگایا ہے ۔اگر پاکستان کے ادارے ٹھیک ہوجائیں اور ایماندار قیادت میسر آئے تو بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔ ہمارے اپنے وسائل کافی ہیں۔انہوں نے کہاکہ حالات کا تقاضا ہے کہ عوام مفاد پرست عناصر کی غلامی سے نکلیں اور اپنے مستقبل کی فکر کریں جو لوگ باربار حکمرانی کے باوجود غریب کو خدمات کی فراہمی کا سسٹم نہیں دے سکے اُن سے نجات حاصل کرنے میں ہی عوام کی بھلائی ہے۔وزیراعلیٰ نے تحریک انصاف کو خیبرپختونخوا میں نظام کی اصلاح کیلئے مطلوبہ جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ سابق صوبائی حکومتوں نے عوام کی بھلائی کیلئے کچھ نہ کیاجن عوام نے اُن کو حکمرانی کا مینڈیٹ دیا تھا اُن کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔اقتدار میں آنے سے پہلے حکمرانوں کے اپنے مکان کھنڈرات کی شکل پیش کررہے تھے بغیر کوئی کاروبار کئے اُنہوں نے محلات کیسے بنا لیے یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ سابق صوبائی حکومت نے دو نمبر عمارتیں اور سڑکیں تعمیر کیں جو سب ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں۔اگر سڑک ایمانداری سے بنائی جائے تو کم ازکم 10 سال تک صحیح و سلامت رہتی ہے مگر جب ہم حکومت میں آئے تو پورے صوبے کا انفراسٹرکچر تباہ حال تھا کیونکہ سابق حکمران کمیشن کھا کر دو نمبر کام کرتے تھے ۔موجودہ صوبائی حکومت نے کمیشن کلچر کا خاتمہ کیا اور تعمیراتی منصوبوں کی شفاف تکمیل یقینی بنائی ۔ صوبائی حکومت ای ٹینڈرنگ شروع کر چکی ہے جبکہ عنقریب ای بڈنگ کا بھی اجراء کیا جارہاہے ۔ہمارے منصوبوں کا ماضی کے منصوبوں سے موازنہ کریں تو بہت فرق نظر آئے گا۔ شعبہ تعلیم میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ جب وہ حکومت میں آئے تو 28 ہزار پرائمری سکولوں میں سے 14 ہزار سکولوں میں پانی ، بجلی، کرسی اور چاردیواری جیسی سہولیات میسر نہ تھیں۔ چھ کلاسوں کیلئے دو کمرے اور دو اُستاد ہوا کرتے تھے ۔وہ بھی اکثر غیر حاضر رہتے یعنی غریب کی تعلیم کا سارا سسٹم ہی تباہ حال تھا۔ ہم نے ہنگامی بنیادوں پر اساتذہ کی بھرتیوں سمیت سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ شروع کیا۔ آج صوبہ بھر میں قابل اور اہل اساتذہ موجود ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت سرکاری سکولوں میں بیک وقت جدید اور دینی علوم کے فروغ کیلئے اقدامات اُٹھارہی ہے۔پرائمری کی سطح پر انگلش میڈیم شروع کر چکے ہیں جبکہ بارہویں کلاس تک قرآن کی تدریس نصاب کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ہم ایک ایسی قوم پیدا کرنا چاہتے ہیں جو دور پر فتن میں دینی اور عصری دونوں محاذوں پر چیلنجز سے نمٹنے کے قابل ہو اور ابہامات اور شکوک سے پاک مطمئن زندگی گزار سکیں۔ اُنہوں نے یاد دلایا کہ ایم ایم اے نے بھی اسلام کے نام پر حکومت بنائی مگر کوئی ایک کام بھی اسلام کیلئے نہیں کیا۔ موجودہ صوبائی حکومت نے جہیز اور سود کے خلاف قوانین بنائے ، مساجد میں شمسی توانائی کاکام شروع ہے جبکہ جامع مساجد کے آئمہ کو وظائف کا اجرا شروع کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ خیبرپختونخوا کا شعبہ صحت بھی نئے خطوط پر استوار ہو چکا ہے ۔ڈاکٹرز کی تعداد 3500 سے بڑھا کر 7000 تک کر دی گئی ہے۔پیرا میڈکس ، نرسز اور ڈاکٹرز سمیت تمام عملہ صوبہ بھر میں موجود ہے۔ایمر جنسی سمیت خطرناک بیماریوں کا علاج مفت کیا گیا ہے جبکہ نادار خاندانوں کیلئے صحت انصاف کار ڈ کا اجراء کیا جو صحیح معنوں میں غریب دوست اقدام ہے۔سابق صوبائی حکومت کو اتنی توفیق بھی نہ ہوئی کہ وہ قاضی حسین احمد ہسپتال کو ہی مکمل کرلیتے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ پولیس کو سیاسی غلامی سے نجات دلا کر با اختیار فورس بنایا گیا ہے۔پرویز خٹک نے خیبرپختونخوا کے ممکنہ معاشی مستقبل کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا دیگر تمام صوبوں کے مقابلے میں بہت آگے جارہا ہے صوبہ بھر میں صنعتوں کے قیام پر کام ہو رہا ہے۔اُنہوں نے کہاکہ بیروزگار ی کے خاتمے کیلئے سرکاری نوکریاں کافی نہیں ہیں بلکہ اس کے لئے وسیع پیمانے پر کارخانوں کی ضرورت ہے اگر سابق حکومتوں نے اس طرف توجہ دی ہوتی تو آج حالات قدرے مختلف ہوتے۔اُن کی حکومت سی پیک کے تناظر میں صوبے کے وسائل کو معیشت کی بنیاد بنانے کیلئے پر عزم ہے اور اس سلسلے میں دُنیا بھر سے سرمایہ کار یہاں کارخ کر رہے ہیں کیونکہ صوبائی حکومت نے صنعتی پالیسی کے تحت پرکشش مراعات دے رکھی ہیں۔ صوبے میں پاکستان ایئر فورس کے تعاون سے تربیتی مراکز بنائے گئے ہیں۔ پاکستان کی پہلی ٹیکنکل یونیورسٹی قائم کی گئی ہے جبکہ ایئر فورس کے تعاون سے ہی ایئر یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جارہاہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ نوجوانوں کی فلاح تحریک انصاف کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے ۔صوبہ بھر میں تحصیل کی سطح پر کھیلوں کے میدان بنائے جارہے ہیں تاکہ نوجوانوں کو اپنی پوشید ہ صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کے مواقع میسر آسکیں۔ پرویز خٹک نے کہاکہ صوبائی حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کی فہرست طویل ہے تاہم عوامی خدمات کیلئے بنائے گئے قوانین اور اُٹھائے گئے اقدامات کو صحیح معنوں میں نتیجہ خیز بنانے کیلئے عوام کو اپنا کردار ایمانداری سے ادا کرنا ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُنہوں نے اصلاحاتی اقدامات کو قانون سازی کے ذریعے ناقابل شکن اور دیر پا بنادیا ہے۔اب عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود غلط راستے سے اجتناب کریں اور اگر کسی ادارے یا ذمہ دار سے متعلق شکایت ہو تو ثبوت کے ساتھ شکایت یقینی بنائیں۔ ہماری کتاب میں معافی کی کوئی گنجائش موجود نہیں نہ ہم خود کرپشن کرتے ہیں اور نہ ہی نظام کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی سرگرمی کی اجازت دے سکتے ہیں۔

پشاور(سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخوا پرویز خٹک نے محکمہ آبپاشی کو وادی پشاور میں آبپاشی پلان بشمول انڈس ریور کنال سسٹم میں بہتری، چھوٹے ڈیموں کی تعمیر اور ایریگیشن سکیموں کیلئے مزید پانچ ارب روپے کے انتظام کا یقین دلایا ہے۔انہوں نے کہا کہ پشاور ویلی کے عوام کئی بار سیلاب کی تباہ کاریوں سے دوچار ہوئے جنہیں بچانے کیلئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ پشاور،چارسدہ ، نوشہرہ ، مردان اورصوابی میں گذشتہ سیلابوں کے دوران کھربوں روپے کی املاک کو نقصان پہنچا تھا اور انتہائی قیمتی جانیں ضائع ہوئی تھیں ہم کسی قیمت پر اس طرح کے مزید نقصانات کا اعادہ نہیں چاہتے حکومت اگر چند ارب روپے خرچ کرکے پوری پشاور ویلی کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے محفوظ بنا دے تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں۔وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں دریائے کابل کے اطراف میں زرعی اراضی اور دیہات کی آبادیوں کوسیلاب کی دستبرد سے محفوظ بنانے اور دریا کو ملانے والے برساتی نالوں اور نہروں کے آبپاشی نظام کو جدید بنانے سے متعلق اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن میاں جمشید الدین کاکا خیل،سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات اور وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری سید شہاب علی شاہ، سیکرٹری آبپاشی طارق رشید، ڈائریکٹر آبپاشی صاحبزادہ محمد شبیر، ایکسین نوشہرہ ،چارسدہ و پشاوراور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ دریائے کابل کے دونوں اطراف میں 13 ارب روپے کی لاگت سے حفاظتی پشتوں کی تعمیراور آبپاشی کا نظام بہتر بنانے پر کام تیزی سے جاری ہے۔ دریائے کابل پر حفاظتی پشتوں پراب تک ساڑھے 3 ارب روپے سے زیادہ خرچ ہو چکے ہیں۔ جس کے لئے صوبائی حکومت 2 ارب روپے فراہم کر چکی ہے ۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر نوشہرہ اورچارسدہ کی حدود میں دریائے کابل سے ملحقہ بڑے برساتی نالوں اور جاری و نئی آبپاشی سکیموں کی جلد تکمیل اور سیلاب سے تحفظ کیلئے محکمہ آبپاشی کو درکار فنڈز کی فوری فراہمی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں کی زرخیز اراضی کو سیراب کرنے کا جدید نظام یقینی بنانے کے علاوہ انہیں سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانا ان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاہم انہوں نے محکمہ آبپاشی کے حکام کو پر یہ بھی واضح کیا کہ وہ آبپاشی کے نالوں اور نہروں کے دونوں کناروں پر سڑکوں کا معیار بہتر بنائیں بصورت دیگر وہ ان سڑکوں کی تعمیر کیلئے متبادل پلان سوچنے پر مجبور ہوں گے۔انہوں نے معیار کی بہتری کیلئے ایک مہینے کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے واضح کیا کہ صورت حال بہترنہ ہونے کی صورت میں صوبائی حکومت کیلئے یہ تلخ فیصلہ بھی ناگزیر بن جائے گا۔ اسی طرح انہوں نے کہاکہ آبپاشی کے نالوں اور نہروں کی صفائی کے دوران نکلنے والے ملبے کو فوری ٹھکانے لگانے کی ہدایت کی۔کیونکہ یہ ملبہ واپس نہروں میں چلا جاتا ہے اور وہ مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔انہوں نے دریائے کابل میں جانے والے ڈرین سسٹم کو مختلف جگہوں پر یکجا کرکے سانئسی خطوط پر کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے دریائے کابل پر پشتوں ، مختلف علاقوں کے ڈرین سسٹم کیلئے پورے پلان کی ریچ ون اور ریچ ٹو کی تفصیلات مانگیں ، پلان میں ممکنہ رکاوٹیں دور کرنے اور پشاور سے دریائے سندھ اور دریائے کابل کے سنگم تک پشتوں کی تعمیر میں اعلیٰ معیار اور مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کی ہدایت کی۔وزیر اعلیٰ نے نوشہرہ کلاں بریج کے نیچے نالے کی تکمیل، جبہ داؤد زئی ڈرین، موٹر وے سے ڈاؤن سٹریم، باڑہ ریور فلڈ کنٹرول، مومن گڑی ڈرین، چھلا نالہ ڈرین، بانڈہ محب ڈرین، امان گڑھ ڈرین، پھینڈے ڈرین، ڈاگئی ڈرین، چارسدہ، شاہ کریم ڈیم، اضا خیل فلڈ، ایریگیشن کی سڑکوں اور ماحولیاتی خوبصورتی کو درپیش رکاوٹوں سے متعلق مکمل تفصیلات طلب کیں اور متعلقہ ایم پی ایز کو ترقیاتی کاموں کو کوالٹی چیک کرنے کی ہدایت کی۔

۔۔۔۔

مزید : کراچی صفحہ اول