کوہاٹ شہر میں ٹریفک کانظام تباہی کے دہانے پر

کوہاٹ شہر میں ٹریفک کانظام تباہی کے دہانے پر

کوہاٹ(بیورو رپورٹ) کوہاٹ شہر میں ٹریفک کانظام تباہی کے دہانے پر‘ ریڈزون کے قیام سے وابستہ تواقعات دم توڑ گئیں ضلعی انتظامیہ ‘ٹریفک پولیس بے بس‘ ایم پی ایز بلند وبانگ دعوؤں کے باوجود عوام کی مشکلات پر خاموش تماشائی بن بیٹھے صبح اور شام کے اوقات میں شاہ فیصل گیٹ کے سامنے مین روڈ‘ ایوب چوک ‘پرانا لاری اڈہ چوک‘گلوبیرہ چوک‘ بیرون تحصیل گیٹ ‘ گرلز ڈگری کالج روڈ‘ جھنڈی سٹیشن موڑ‘ تیراہ بازار ‘بنوں گیٹ چوکی‘ پی اے ایف سینما چوک میں روزانہ ٹریفک جام رہنے لگی ‘ تفصیلات کے مطابق کوھاٹ شہر کے مختلف مقامات پر ٹریفک جام سے جہاں پیدل چلنے والے مردوخواتین کومشکلات کاسامناکرنا پڑرہاہے وہاں اکثر سکول جانے والے طلبہ وطالبات اورسرکاری ملازمین اکثر لیٹ ہوجاتے ہیں بیشتر مقامات پر ایمبولینس گاڑیوں کے گزرنے کے لئے بھی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں جس پر عوامی ‘سماجی اورکاروباری حلقوں نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ریڈزون کے قیام سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں وہ دم توڑ چکی ہیں ریڈزون کے باوجود بنوں گیٹ چوکی ‘بیرون شاہ فیصل گیٹ روڈ‘ ایوب چوک‘ پرانالاری اڈہ چوک ‘ گلوبیرہ چوک پشاورچوک‘گرلز ڈگری کالج روڈ ‘بیرون تحصیل گیٹ ‘ پی اے ایف سینما چوک ‘جھنڈی سٹیشن موڑ‘ تیراہ بازار اور شہر کے دیگر مقامات پر ہروقت ٹریفک جام رہتی ہے اور لوگوں کو شدید ذہنی اذیت سے دوچار ہونا پڑتاہے ۔ان حلقوں کاکہنا تھاکہ ضلع ناظم نسیم آفریدی نے ضلعی نظامت کاعہدہ سنبھالنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ ہم کوھاٹ میں ایک جامع ٹریفک پلان تشکیل دے رہے ہیں جس سے عوامی مشکلات کا ازالہ ممکن ہوگامگر ان کے دور اقتدار کے چھ ماہ میں بھی اس پلان کا کوئی حصہ سامنے نہ آسکا ایم این اے کی طرف سے فلائی اوورز کا منصوبہ بھی شاید ریت کی دیوار تھا کینٹ حکام سے بیرون شاہ فیصل گیٹ روڈ کے کنارے واقع جائیداد حاصل کرکے اس سڑک کی توسیع کی خوشخبری بھی اپنی موت اپ مرگئی اور عوام کو ٹریفک جام کی صورتحال سے کوئی تدبیر نہیں نکال سکتی عوامی حلقوں کی تجویز ہے کہ سڑک کے کنارے گاڑیوں کے خود ساختہ اڈوں کو ختم کیاجائے ٹریفک پولیس بھائی بندی کے بجائے قانون کی حکمرانی کو مقدم رکھے رش والی جگہوں پر رکشوں کا داخلہ بند کیاجائے۔کہ ٹریفک جام زیادہ تر موٹرسائیکل اور رکشہ کی وجہ سے ہوتی ہے سڑک کے کناروں پر موٹرسائیکل اور رکشہ کے کھڑا ہونے پر چالان کیا اور سب سے اہم بات یہ کہ لوکل سوزوکیوں کے لئے پرانا لاری اڈہ میں جگہیں مختص کی جائیں موٹرسائیکل اوررکشہ کے لئے مختلف مقامات پر پارکنگ بنائی جائیں اور خلاف ورزی پر بھاری جرمانے کئے جائیں ورنہ ٹریفک کا یہ اژدہام برسوں میں بھی کنٹرول نہیں کیاجاسکے گا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر