’’جیل کا دروازہ خود بخود کھل جائے‘‘قید سے رہائی کا ایسا عمل جو اللہ کے رسولﷺ نے بتایا

’’جیل کا دروازہ خود بخود کھل جائے‘‘قید سے رہائی کا ایسا عمل جو اللہ کے ...
’’جیل کا دروازہ خود بخود کھل جائے‘‘قید سے رہائی کا ایسا عمل جو اللہ کے رسولﷺ نے بتایا

  

بے قصور لوگ جب قید و مصیبت میں ڈال دئیے جائیں تو انہیں اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس آیت مبارکہ کا کثرت سے ورد کرنا چاہئے ۔اس وظیفہ کے ذاکرین جیل میں ہوں تو اللہ کے حکم سے ایسے اسباب بن جائیں گے کہ جیل کا دروازہ اس پر کھل جائے گا،باعزت رہا ہوگا۔

سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ حضرت عوف اشجعیؓ کے بیٹے حضرت سالمؓ جب کافروں کی قید میں تھے تو حضور پاک ﷺ نے فرمایا’’ان سے کہلوادو کہ بکثرت لاَحَوُلَ وَلاَ قُوْۃَ اِلابِاللہ پڑھتے رہیں‘‘۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک دن اچانک بیٹھے بیٹھے ان کے قید خانہ کا دروازہ کھلااور وہ باہر نکل آئے۔ سامنے ایک اونٹنی ان کے ہاتھ لگ گئی جس پر سوار ہو لئے۔ راستے میں ان کو اونٹوں کے ریوڑ ملے، انہیں اپنے ساتھ ہنکا لائے۔ان کاتعاقب کیا گیا لیکن یہ کسی کے ہاتھ نہ لگے ۔

ابن کثیر میں بھی اس کا ذکر ہے کہ قید سے رہائی کے لیئے یہ وظیفہ انتہائی تیز اور پُر اثر ہے۔

مزید : روشن کرنیں