کینٹ میں ڈاکٹر کا 11سالہ ملازمہ پر مبینہ تشدد

کینٹ میں ڈاکٹر کا 11سالہ ملازمہ پر مبینہ تشدد
کینٹ میں ڈاکٹر کا 11سالہ ملازمہ پر مبینہ تشدد

  

لاہور (ویب ڈیسک) گھروں میں کام کرنے والے ملازمین پر تشدد نہ رک سکا۔ کینٹ میں رہائش پذر میو ہسپتال کے سرجن ڈاکٹر سلمان نے مبینہ طور پر 11 سالہ سدرہ کو تشدد کا نشانہ بنادیا۔ ڈاکٹر سلمان دو ماہ قبل جھنگ کے علاقے سے 11 سالہ سدرہ کو کام کرنے کے لئے لائے تھے۔ بچی کا باپ انتقال کرچکا ہے، جس پر والدہ نے گھریلو حالات ٹھیک کرنے کے لئے سدرہ کو کام کرنے لاہور بھجوادیا۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

روزنامہ دنیا کے مطابق ڈاکٹر سلمان نے دو مہینے سے زائد بچی سے گھر میں کام کرایا جبکہ بچی کی والدہ کو اپنا گھر بھی نہ دکھایا۔ بچی سے زیادہ کام لیا جاتا تھا اور نہ کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بچی کی والدہ نے کہا کہ سدرہ کو گھر سے لے جاتے وقت ڈاکٹر سلمان نے گھر کا ایڈریس بھی نہیں بتایا۔ ایک ہفتہ پہلے سدرہ کو زخمی حالت میں گھر کے باہر پھینک گئے۔ بچی کو دو ماہ کی تنخواہ بھی نہ دی گئی۔ بچی کی والدہ تھانہ مناواں گئی، جس پر کینٹ ڈویژن پولیس نے فوریا یکشن لیتے ہوئے ڈاکٹر سلمان کے بھائی کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سلمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔ بچی کے میڈیکل کے بعد مزید تحقیقات کی جائیں گی۔ سدرہ کے جسم پر تشدد کے نشانات واضح ہیں جبکہ اس کا سر بھی پھٹا ہوا ہے۔ ایس ایس پی کینٹ محمد نوید نے کہا کہ اس قسم کے کسی واقعے کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

مزید : لاہور