’میں 9 ماہ کی حاملہ تھی، فوجی ہمارے گھر میں داخل ہوئے اور میرا ریپ کردیا، اس کے بعد میرا شوہر میرے پر بری طرح برس پڑا کیونکہ اس کے مطابق۔۔۔‘ روہنگیا خاتون کی وہ داستان جو غیر مسلموں کو بھی خون کے آنسو رُلادے

’میں 9 ماہ کی حاملہ تھی، فوجی ہمارے گھر میں داخل ہوئے اور میرا ریپ کردیا، اس ...
’میں 9 ماہ کی حاملہ تھی، فوجی ہمارے گھر میں داخل ہوئے اور میرا ریپ کردیا، اس کے بعد میرا شوہر میرے پر بری طرح برس پڑا کیونکہ اس کے مطابق۔۔۔‘ روہنگیا خاتون کی وہ داستان جو غیر مسلموں کو بھی خون کے آنسو رُلادے

  

ڈھاکہ(مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلہ دیش میں روہنگیا مسلمانوں کے کیمپوں میں پہنچنے والی لٹی پٹی لڑکیاں اور خواتین اپنے اوپر بیتے مظالم کی ایسی داستانیں دنیا کو سنا رہی ہیں کہ ہر سننے والا لرز کر رہ جائے۔ ایسی ہی ایک خاتون نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو اپنی کہانی سناتے ہوئے بتایا ہے کہ ”ایک صبح ہم ناشتے کی تیاری کر رہے تھے کہ یک دم ہمیں گھر کے باہر گاﺅں والوں کی چیخ و پکار کی آوازیں سنائی دیں۔میرا شوہر اور تین بڑے بچے بھاگ کر باہر نکلے۔ میں اس وقت 9ماہ کی حاملہ تھی اور میرے دو چھوٹے بچے تھے۔ ہم بھاگ نہیں سکتے تھے اس لیے گھر میں ہی موجود رہے۔“

اوبر کمپنی کا ڈرائیور مسافر کو لینے گیا، لیکن غلطی سے جسم فروش خاتون کو مسافر سمجھ کر بٹھالیا، پھر کیا ہوا؟ جان کر آپ بھی گھبراجائیں گے

”کچھ دیر بعد کچھ فوج اور بدھ ہمارے گھر میں گھس آئے اور مجھے گھسیٹ کر کمرے میں لے گئے۔ پہلے انہوں نے گھر میں موجود تمام زیورات اور نقدی چھینی اور پھر مجھے برہنہ کرکے میرے ہاتھ پاﺅں رسیوں سے باندھ دیئے۔ اس کے بعد انہوں نے باری باری مجھے زیادتی کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ ان میں سے ایک شخص مسلسل ایک چاقو کی نوک میری آنکھ کے اوپراور دوسرا بندوق کی نالی میرے سینے پر رکھ کر کھڑے رہے۔جب باقی دو لوگوں نے مجھ سے زیادتی کر لی تو وہ ان کی جگہ پر آ گئے اور پھر ان دونوں نے مجھے درندگی کا نشانہ بنایا۔ اس بربریت کی وجہ سے میرے جسم سے خون بہنے لگا اور میں بے ہوش ہو گئی۔ جب مجھے ہوش آیا تو وہ لوگ جا چکے تھے اور میرا شوہر اور بڑے بچے گھر میں واپس آ چکے تھے۔اس کے بعد میرا شوہر مجھے ہی موردالزام ٹھہرانے لگا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں بھاگی کیوں نہیں۔اس کے دو ہفتے بعد میں نے بچے کو جنم دیا اور پھر ہم وہاں سے فرار ہو کر بنگلہ دیش آ گئے۔“

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : ڈیلی بائیٹس