اورنج لائن ٹرین کرپشن کیس،نیسپاک کے سابق سائیڈ انسپکٹر کی درخواست ضمانت خارج ،ہائی کورٹ سے گرفتار

اورنج لائن ٹرین کرپشن کیس،نیسپاک کے سابق سائیڈ انسپکٹر کی درخواست ضمانت ...
اورنج لائن ٹرین کرپشن کیس،نیسپاک کے سابق سائیڈ انسپکٹر کی درخواست ضمانت خارج ،ہائی کورٹ سے گرفتار

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائی کورٹ نے اورنج لائن ٹرین منصوبے میں مبینہ کرپشن کرنے والے نیسپاک کے سابق سائیڈ انسپکٹر کی قبل ازگرفتاری کی درخواست ضمانت خارج کردی جس کے بعدمحکمہ اینٹی کرپشن نے ملزم کو گرفتار کر لیاہے۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے عدالت میں اکشاف کیا کہ 22 پائلوں کی لمبائی میں تبدیلی کرکے کرپشن کرنے والے ملزم کا انکشاف نہ ہوتا تو ٹرین کسی بڑے حادثے کا شکار ہوسکتی تھی ۔

جسٹس یاور علی نے ملزم محمد آصف کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست گزار کے وکیل نے اورنج لائن ٹرین منصوبے میں لگنے والے کرپشن کے الزام کو جھوٹا قرار دیا اور عدالت سے عبوری ضمانت کی استدعا کی ،ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب عبدالصمد نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ ملزم نے ٹھیکیدار کمپنی مقبول کالسن کے مینیجنگ ڈائریکٹر عامر لطیف اور چیف ایگزیکٹوآفیسر مسعود حسین کے ساتھ مل کر2 کروڑ 62 لاکھ روپے کی کرپشن کی جبکہ کمپنی کے دونوں ملزمان کو اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے ،سرکاری وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ملزمان نے چوبرجی سے علی ٹاﺅن تک 22 پائلوں کی لمبائی میں تبدیلی کی عدالت کو آگاہ کیا گیا ہے ،کاغذات پر پائیلوں کی لمبائی زیادہ اور حقیقت میں کم رکھی گئی سرکاری وکیل نے انکشاف کیا کہ ملزمان کی کرپشن کی نشاندہی نہ ہوتی تو اورنج لائن ٹرین کسی بڑے حادثے کا شکار ہو سکتی تھی ،عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر ملزم محمد آصف کی درخواست ضمانت خارج کر دی۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں پر کلک کریں

مزید : لاہور