بھارت میں بوسہ لینے کا انوکھا مقابلہ تنازعے کا باعث

بھارت میں بوسہ لینے کا انوکھا مقابلہ تنازعے کا باعث
بھارت میں بوسہ لینے کا انوکھا مقابلہ تنازعے کا باعث

  

نئی دہلی(این این آئی)بھارت کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں منعقدہ ایک دیہی میلے میں بوسہ لینے کے ایک انوکھے مقابلے کا انعقاد کیا گیا جو کہ بعد میں تنازعے کا شکار ہو گیا ہے۔

بھارتی اخبار کے مطابق جھارکھنڈ کے پاکڑ ضلع میں یہ روایتی میلہ منعقد ہوا جس میں مقامی سیاسی پارٹی جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے دو ممبرانِ اسمبلی بھی شریک تھے جہاں قبائلی شادی شدہ جوڑوں کے لیے بوسہ لینے کا مقابلہ منعقد ہوا تھا۔ریاست میں حکمران جماعت بی جے پی نے دونوں ممبران اسمبلی کو برطرف کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کی یہ دلیل ہے کہ ان دونوں ممبرانِ اسمبلی نے مقامی روایت کی توہین کی ہے۔

دوسری جانب اس مقابلے کو منعقد کرانے والے جے ایم ایم کے رکن اسمبلی سائمن مرانڈی نے کہا کہ قبائلی سماج میں شادی شدہ جوڑوں میں محبت پیدا کرنے اور طلاق کی روز بڑھتی ہوئی تعداد کو روکنے کے لیے اس مقابلے کا انعقاد کیا گیا ہے جبکہ بوسہ لینے کے اس مقابلے میں تقریباً 18 شادی شدہ جوڑوں نے شرکت کی۔واضح رہے کہ مرانڈی گذشتہ 37 سال سے ڈمریا میلہ کا اہتمام کرتے رہے ہیں جس میں روایتی قبائلی رقص، تیر اندازی اور دوڑنے کے مقابلے ہوتے رہے ہیں۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں پر کلک کریں

مزید : ڈیلی بائیٹس