تاجدارِ کلیرؒ

تاجدارِ کلیرؒ
تاجدارِ کلیرؒ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

جشنِ ولادتِ مصطفی ؐسے اگلے دِن حضرت سید مخدوم علاؤالدین علی احمد صابرؒ کا عرس مبارک منعقد ہوا۔دُنیا بھر سے عشاق صابر پیا، نہ صرف کلیر شریف میں کھنچے چلے آئے، بلکہ اہل خبر و نظر نے جگہ جگہ کمال نیاز مندی سے امر محبت و عمل عقیدت کا اظہار کیا۔

صابر پیاؒ ابتدا ہی سے اہلِ محبت کی آنکھوں کا نور اور دِل کا سرور ہیں۔ختم الارواح، سلطان الاولیاء حضرت سید مخدوم پاکؒ کے فیوض و برکات، کرامات اور تقرفات، عجب نہیں، عجوبہ ہیں۔

آپؒ کے عہد میں ہندوستان گویا ایک جادو نگر تھا، اور اس پر جن بھوتوں کا فرضی یا حقیقی ر اج! دیوؤں کے خوف سے قطع نظر سانپوں، بچھوؤں اور پاگل کتوں کے کاٹنے سے اژدہام مرگ اور باولا پن عام!! ہر جگہ جنتر منتر اور چل چلنتر کا غلبہ تھا۔ جوگیوں، سنیاسیوں اور دیو داسیوں نے ہر شعبے میں مخلوقِ خدا کا جینا دوبھر کر رکھا تھا۔ عوام چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے منحوس چرنوں میں بیٹھتے اور ہر جائز و ناجائز حکم بجا لاتے تھے۔ اکثریتی کلمہ گو بھی گرفتارِ بلا! گویا چہار سو گھپ اندھیرا تھا کہ یکایک آفتابِ عالم تاب کا ظہور ہوا اور ہر طرف روشنی مسکرانے لگ پڑی!
صابر پیاؒ ، کو بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں، رشتے میں محبوب سبحانی غوث صمدانی سیدنا حضرت عبدالقادر جیلانی ؒ کے حقیقی پڑپوتے ہوتے ہیں۔ آپؒ کے والد گرامی شاہ عبدالرحیمؒ کی نسبت سے قادری ہیں، اور خود صابریہ سلسلے کے بانی مبانی! چشتی صابریہ سلسلۂ طریقت آپؒ ہی سے منسوب و مربوط ہے۔آپؒ پر خالق اکبر کی قہاری و جباری صفات کا بطورِ خاص نزول ہوا تھا۔

آپؒ کا جلال، اللہ اللہ۔ بھارت پر دیوتاؤں اور بلاؤں کے وہم یا حقیقت سے ’’سحرستان‘‘ کا گمان ہوتا تھا۔ اِن حالات میں صابر پاکؒ کی ولایت کا آغاز ہوا۔

آپؒ نے بے بس و بے کس لوگوں کا دامن، جادوگروں اور عاملوں سے تو چھڑوایا ہی، ساتھ یہ اعلان بھی برملا فرما دیا تھا کہ اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے میرے سلسلے میں داخل یا شامل ہو نے والے پر کسی قسم کا زہر، جادو اور سفلی عمل اثر نہیں کرے گا۔

اس عنایت پر لوگ جوق در جوق مشرف بہ اسلام ہوئے، اور پہلے سے موجود مسلمانوں میں اعتماد بڑھا۔ یہ ایک طرح سے معرکۂ حق و باطل تھا، جس میں آپؒ کے دامن و بیعت سے وابستہ افراد سرخرو ہوئے۔ صابر پیاؒ عالم تکوین میں ایک اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔

عالم تکوین؟ وہ دُنیا جس کی غایت سے ہم اللہ تعالیٰ کے ایک خاص بندے حضرت خضر علیہ السلام کو جانتے ہیں۔قرآن مجید فرقانِ حمید میں برگزیدہ پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں نام لئے بغیر ان کا تذکرہ موجود ہے! ہم نے دیکھا کہ یہ فیضِ نگاہ و زبان اب تک جاری چلا آتا ہے۔
صابری سلسلے سے وابستگان، خواہ! عام ہوں یا خاص، بشرطیکہ اخلاص پایا جائے، پر زہریلی و سفلی قوتیں غیر موثر ٹھہر گئی ہوئی ہیں۔ ایک طرف دُنیا کے مشاہدات و واقعات، آپؒ کے فیوض و برکات پر گواہ ہیں۔آپؒ کا جلال و کمال ہمیشہ اسلام کے بہت کام آیا۔ ایک زمانہ ہوتا ہے، جب ہمارے ایک سُنی مکتئ فکر کے اکابر محض فقہ کی حد تک حنفی رنگ میں رنگے ہوئے نہیں،بلکہ صوفیانہ مسلک پر کار بند تھے۔تب ان کا مشرب بھی صابری تھا۔

حضرت امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے فیض صحبت سے سرشار اور سرحدِ معرفت کے ترجمان! یہ الگ بات کہ بتدریج اس راہ سے ہٹ اور کٹ کر کافی سے زیادہ بیگانہ از تصوف ٹھہر گئے ہیں۔ اب ایسے لگتا ہے جیسے صوفیانہ خُوبو کبھی ان کی آرزو اور جستجو ہی نہیں رہی!اِسی طرح صابر پیاؒ کے سلسلۂ طریقت میں بھی دھیرے دھیرے علم و عمل کی حدت کم ہوتی چلی گئی، وگرنہ خود صابر پاکؒ کا تو یہ حال تھا کہ برسوں عالم سُکر میں رہنے کے باوجود جب اذان دی جاتی تو فوراً حالتِ صحو میں لوٹ آتے اور فرماتے:’’ شمس الدین نماز بھی کیا چیز ہے، جو حضوری سے دربار میں لے آتی ہے‘‘۔ حضور صابر پاکؒ کی حضوری سے دربار تک کا یہ سفر بہت ہی مبارک اور روح پرور ہے!

مزید :

رائے -کالم -