عمران کو تولنے ماپنے کے لئے ترازو اور پیمانے الگ کیوں ؟

عمران کو تولنے ماپنے کے لئے ترازو اور پیمانے الگ کیوں ؟

  

تجزیہ:۔ ناصرہ عتیق

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے اگلے روز کوئٹہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نہایت دردمندی سے پاکستانیوں سے اپیل کی ہے کہ خدا کا واسطہ ملک سے محبت کریں، ایک سال دیں پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ یہی بات پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹرچودھری اعتزاز احسن نے بھی کہی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی اور ڈایرکیش کا پتہ بھی چلے گا لیکن اسے وقت تو دیا جائے۔آج ملک کے تمام سنجیدہ اور اعتدال پسند حلقے اس بات پر پوری طرح متفق نظر آتے ہیں کہ ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کے بجائے میڈیا اداروں اور حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں سمیت سب کو ملک سے محبت کا عملی ثبوت دیتے ہوئے اعتدال، توازن، میانہ روی کا رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ ذاتی خواہشات اور مقاصد کو وقتی طور پر ہی سہی ایک طرف رکھ دیں ۔بس یہ یاد رکھیں کہ کن حالات میں تحریک انصاف کو حکومت ملی یا دی گئی خالی خزانہ، ابتر معاشی صورتحال،ناکام خارجہ پالیسی، ہر طرف بدعنوانیوں اور کرپشن کا راج،سیاسی طور پر آلودہ پولیس اور افسر شاہی،دم توڑتی ہوئی مقامی صنعت اور بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر،تباہ حال ادارے اور سب سے بڑھ کرعوام کی امیدوں کے پہاڑ اور خواہشوں کے سمندر۔وہ کو شیش کر تو رہا ہے۔ مگر کیا کرے اس کی جیب میں کھو ٹے سکے ہیں جن کا، نظریہ،پارٹی منشور اور لیڈر شپ سے لگاؤ مثالی نہیں یہ تو نا جانے کہاں سے، کن حالات اور ضرورتوں کی بدولت اکھٹے کر کے اس کی جھولی میں ڈال دیئے گئے ہیں۔ پی پی 1970 اور ن لیگ کسی نہ کسی شکل میں 1977سے چلی آرہی ہیں انہوں نے کون سی دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں ؟ اندرون سندھ آ ج بھی خاک اڑتی ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر عمران خان کو تولنے اور ناپنے کے لئے ہمارے ترازو اور پیمانے الگ ہیں۔ سڑکیں اور پل میئر بناتے ہیں قومی لیڈر نہیں۔ کمیٹیاں تشکیل نہیں دی گئیں، قانون ساز ی نہیں ہوئی یہ نہیں ہوا وہ نہیں ہوا ایک طوفان بپا ہے عزیزو جو ہوا ہے وہ بھی تو دیکھیں، محض الزامات کا سامنا کرنے پر ڈاکٹر بابر اعوان اور اعظم سواتی سے استعفے لئے گئے،غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے پر وزیر اطلاعات پر سینٹ کے دروازے بند کردیے گئے۔ نو گھنٹے تک وزیر اعظم نے وزیروں سے ان کی سو دن کی کارکردگی پر باز پرس کی،خارجہ پالیسی کی سمت درست کی، کرتار پورسرحد کھولنے کی تیاریاں کیں اور بھارت کو بات چیت کی پیشکش کی، سرکاری امور میں سادگی بچت سمیت تمام شعبوں میں بہتری کے اقدامات جاری ہیں جن کے نتائج اور ثمرات جلد آنا شروع ہو جائیں گے۔ پیر کے روز سٹاک ایکسچینج مارکیٹ میں بڑی ریکوری ہوئی،اوپن مارکیٹ میں حالیہ دنوں میں پہلی بار روپے کی قدر میں 30 پیسے کا اضافہ ہوا نیز وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد نے اچھی خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک معاشی بحران سے نکالنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اور کل شام ایک ٹی وی پروگرام میں گورننس پر گہری نظر رکھنے والی تنظیم پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب بتا رہے تھے کہ سو دن میں حکومتی سمت متعین کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام ہوا ہے۔اہل وطن دھیرج رکھیں انشاء اللہ نیا پاکستان ضرور بنے گا ابھی تو آغاز ہے حکومت ابھی چوتھے مہینے میں داخل ہوئی ہے۔

ناصرہ عتیق

مزید :

تجزیہ -