پرویز خٹک بھائی اور بیٹے کی صوبائی کابینہ میں شمولیت پر بضد

پرویز خٹک بھائی اور بیٹے کی صوبائی کابینہ میں شمولیت پر بضد

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


عوام کو سستی اور تیز رفتار سفری سہولیات کی فراہمی کے لئے شروع کئے گئے منصوبے بی آر ٹی میں غیر ضروری تاخیر وبال جان بنتی جا رہی ہے، مقررہ مدت مسلسل بڑھتے جانے کے سبب جہاں تخمینے میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے وہاں شہریوں کے لئے آمد و رفت بھی ایک مصیبت سے کم نہیں۔ صوبائی دارالحکومت کی مرکزی شاہراہ یونیورسٹی روڈ سے گرد و نواح تک ٹریفک کا اژدھام اور مسلسل رکاوٹ روزانہ کروڑوں روپے کا ایندھن ضائع کرنے کا باعث بن رہی ہے، رات گئے تک سڑکوں پر ٹریفک بمپر ٹو بمپر رینگتی دیکھائی دیتی ہے جبکہ شہر میں جا بجا اڑنے والی دھول کھانسی اور دمے کا باعث بن رہی ہے۔ مریضوں کو لانے لیجانے والی ایمبولینسز اور باراتوں کا ٹریفک میں پھنسنا بھی معمول ہے۔ حکومتی سطح پر ہر روز اس قسم کے بیانات دے کر جان چھڑوا لی جاتی ہے کہ بی آر ٹی پر کام تیز کیا جائے، لیکن ان احکامات پر عمل درآمد ساڑھے تین ماہ کے موجودہ اور پانچ سال کے گزشتہ دور حکومت میں دیکھنے میں نہیں آیا۔ تحریک انصاف کے حالیہ دور اقتدار میں میٹرو بس سروس کے اس منصوبے میں ایک اضافہ ضرور ہوا ہے کہ چمکنی سے کارخانو مارکیٹ تک سکیورٹی کیلئے دونوں اطراف پر کلوز سرکٹ کیمروں کی تنصیب کاکام شروع کردیا گیا ہے، جس سے بی آر ٹی کے روٹ ، سٹاف اور مسافروں کی سکیورٹی کے ساتھ ساتھ ا ن کی نگرانی بھی کی جا سکے گی۔ انڈسٹریل سٹیٹ میں کام کرنیوالے ملازمین، یونیورسٹی روڈ، صدر، حیات آباد سمیت مختلف مقامات پرکام کرنے والی خواتین ملازمین کیلئے ریپڈ بس میں خصوصی طور پر انتظامات ہونگے‘ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شہر کے معروف تجارتی مراکز خیبر بازار، شعبہ بازار ، سول کوارٹر روڈ کو بھی ٹریفک کیلئے یکم جنوری سے کھول دیا جائیگا۔ اس سے قبل فردوس ، نوتھیہ روڈ اور گلبہار میں شاہراہوں اورپلوں کو بھی کھول دیا گیا تھا۔ اس حوالے سے صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم نے پشاور میں جاری بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کی جلد ازجلد تکمیل اور اسے بین الاقوامی معیار اور تقاضوں کے تحت مکمل کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے تاکہ عوام کو بین الاقوامی معیار کی سفری سہولیات کم سے کم کرایہ میں دی جا سکیں ‘ اس حوالے سے پراجیکٹ کے ترجمان کے مطابق کام 24گھنٹے جاری ہے جس کیلئے جدید مشینری استعمال کی جا رہی ہے۔ صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن اراکین سمیت کئی دیگر تنظیمیں بھی بی آر ٹی میں تاخیر کو زبردست تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ منصوبے کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔
ہم نے گزشتہ ہفتے کی ڈائری کے دوران یہ تحریر کیا تھا کہ نیب نے صوبائی وزیر اعلیٰ محمود خان، وزیر تعلیم عاطف خان اور سینٹر محسن عزیز کو مالم جبہ کیس میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ہماری یہ خبر درست ثابت ہوئی ہے اور ایک ہفتے بعد نیب نے اس امر کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ اسکینڈل اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک کیس ہے‘ جس میں قواعد و ضوابط کے خلاف سیاسی شخصیات اور بیوروکریسی نے ایک کمپنی کو مالم جبہ میں محکمہ جنگلات کی 270ایکڑ اراضی غیر قانونی طور پر الاٹ کر دی‘ قومی احتساب بیورو خیبرپختونخوا نے مالم جبہ ریزاٹ کے معاہدے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں شرکت کرنیوالے ایک صوبائی وزیرکو 14دسمبر کو طلب کیا ہے ‘جن پر الزام ہے کہ انہوں نے مالم جبہ ریزاٹ کے حوالے سے ایک اجلاس میں شرکت کی ‘ نیب ان سے اس حوالے سے پوچھ گچھ کرنا چا ہتا ہے‘نیب نے خیبر پختو نخوا بورڈ آف انوسٹمنٹ کے سابق سربراہ محسن عزیز کو بھی جمعہ کو طلب کرلیا‘ صوبائی حکومت نے معاملے کو دبانے کیلئے مالم جبہ کی پروٹیکٹڈ اراضی محکمہ جنگلات سے لے کر محکمہ سیاحت کے حوالے سے کرنے کی کوشش کی تاہم نیب نے انہیں اس اقدام سے روک دیا۔
ہم نے گزشتہ ہفتے یہ بھی تحریر کیا تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک اپنی جماعت ہی کی صوبائی حکومت پر کھلے بندوں یا نجی محافل میں تنقید کرتے دکھائی دے رہے ہیں، اب یہ اطلاعات ہیں کہ صوبائی کابینہ کی توسیع میں جو تاخیر ہو رہی ہے اس کے پس منظر میں بھی شاید پرویز خٹک کی وہ خواہش پوشیدہ ہے جس کے تحت انہوں نے اپنے بھائی لیاقت خٹک اور بیٹے ابراہیم خٹک کو کابینہ میں شامل کرنے کا کہا تھا۔ تحریک انصاف کے اپنے ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ کی طرف سے صوبائی بجٹ کے بعض نکات پر اعتراضات سمیت دیگر تنقیدی معاملات اسی سلسلے کی کڑی ہیں، یہ الگ بات ہے کہ دونوں مذکورہ افراد کی کابینہ میں شمولیت پر پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی اور مرکزی قائدین نے سخت تنقید کی جس کے بعد ان کی شمولیت مشکوک ہو گئی اور یہی معاملات ابھی تک صوبائی کابینہ کی توسیع میں تاخیر کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان خود اس معاملے کو حل کرنے کے لئے ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ آئندہ چند روز میں پرویز خٹک کو منا لیا جائے گا اور صوبائی کابینہ میں توسیع بھی ہو جائے گی۔
پشاور سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں بعض شہری مسائل نے بھی سر اٹھا لیا ہے، سردی کی آمد کے ساتھ ہی شہریوں کو کئی مقامات پر سوئی گیس کی بندش کا سامنا ہے ، بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی شروع ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں پانی بھی اکثر غائب رہتا ہے جبکہ تجارتی مراکز میں ٹریفک کا مسئلہ بھی لوگوں کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔ موسم سرما کی پہلی بارش کے باعث پشاور شہرکی سڑکیں تالاب بن گئیں، شہریوں کوآمدورفت میں شدید مشکلات کاسامناکرناپڑا۔ جی ٹی روڈپر ہشتنگری ‘فردوس‘نشترآباد ‘ بورڈبازار‘ تہکال‘ ارباب روڈ‘ گلبہار‘ لاہوری ‘صدرسمیت کئی علاقوں میں نکاس آب کے نالے ابل پڑے اورپانی سڑکوں پر آگیاجس کی وجہ سے سڑکیں جھیل کامنظرپیش کرنے لگیں۔
اب جبکہ قبائلی اضلاع سمیت خیبرپختونخوا میں سال کی آخری انسداد پولیو مہم شروع ہوگئی،مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر 8لاکھ 92ہزار471بچوں کو 4058 ٹیموں کی مدد سے پولیو قطرے پلائے جائیں گے جن میں 3741 موبائل ٹیمیں، 222 فکسڈ اور 95 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں۔ صوبائی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ گزشتہ سالوں کے دوران ہونے والے معاملات کے پیش نظر پولیو ٹیموں کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے اور شہریوں کو اس طرف راغب کرنے کے لئے مناسب تشہیری مہم بھی چلائی جائے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -