پی آئی سی ہنگامے میں 6 مریضوں کی موت کی اطلاعات لیکن دراصل ڈاکٹروں اور وکلاء کی ہنگامہ آرائی شروع کب اور کیسے ہوئی تھی ؟ وہ بات جو شاید آپ کو معلوم نہیں

پی آئی سی ہنگامے میں 6 مریضوں کی موت کی اطلاعات لیکن دراصل ڈاکٹروں اور وکلاء ...
پی آئی سی ہنگامے میں 6 مریضوں کی موت کی اطلاعات لیکن دراصل ڈاکٹروں اور وکلاء کی ہنگامہ آرائی شروع کب اور کیسے ہوئی تھی ؟ وہ بات جو شاید آپ کو معلوم نہیں

  



لاہور (ویب ڈیسک) چند روز قبل کچھ وکلا پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ایک وکیل کی والدہ کے ٹیسٹ کے لیے گئے، جہاں مبینہ طور پر قطار میں کھڑے ہونے پر وکلا نے اعتراض اٹھایا۔

روزنامہ دنیا کے مطابق اسی دوران وکلا اور ہسپتال کے عملے میں تلخ کلامی ہوئی اور معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا اور مبینہ طور پر وہاں موجود وکلا پر تشدد کیا گیا۔ مذکورہ واقعے کے بعد دونوں فریقین یعنی وکلا اور ڈاکٹرز کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور ایک دوسرے پر مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا، تاہم بعد ازاں ڈاکٹرز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

اس مقدمے کے اندراج کے بعد وکلا کی جانب سے کہا گیا کہ ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کریں پہلے ان دفعات کو شامل کیا گیا بعد ازاں انہیں ختم کر دیا گیا۔ جس کے بعد ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں مذکورہ واقعے پر معافی مانگ لی گئی اور معاملہ تھم گیا۔ تاہم گزشتہ روز ینگ ڈاکٹرز نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں مبینہ طور پر وکلا کا مذاق اڑایا گیا تھا، جس پر وکلا نے سوشل میڈیا پر ڈاکٹر زکے خلاف ایک مہم شروع کر دی۔

اس معاملے پر بدھ کو ایوان عدل میں لاہور بار ایسوسی ایشن کا اجلاس عاصم چیمہ کی سربراہی میں ہوا جس میں مزید کارروائی کے لیے معاملے کو جمعرات تک ملتوی کر دیا گیا، تاہم کچھ وکلا نے بدھ کو ہی ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پی آئی سی کا رخ کیا اور ہنگامہ آرائی کی۔

مشتعل وکلا ء نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی اور گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دئیے،اسپتال میں وکلاء کی توڑ پھوڑ کے بعد پی آئی سی ملازمین اور وکلا میں بھی تصادم ہوا،پولیس پہلے خاموش تماشائی بنی رہی مگر صورتحال بے قابو ہونے پر پولیس نے وکلا کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیااور آنسو گیس کی شیلنگ کی، وکلا نے پولیس موبائل کو آگ لگا دی۔پولیس کارروائی کے جواب میں وکلا نے ہسپتال کے اندر پتھراؤ شروع کر دیا اور پولیس کی ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔

صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے صوبائی وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان پی آئی سی کے باہر پہنچے جہاں وکلاء نے انہیں گھیر لیا اور تشدد کیا تاہم فیاض الحسن چوہان نے بھاگ کر جان بچائی،وزیراعلیٰ پنجاب نے وکلاء کی ہنگامہ آرائی کے واقعہ کا سخت نوٹس لیا اور واقعہ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی سربراہی میں واقعہ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دیدی، کمیٹی وکلاء کی ہنگامہ آرائی اورتوڑ پھوڑ کے واقعہ کی انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرے گی۔وزیراعظم نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی۔

سینکڑوں وکلا ہسپتال کا مرکزی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو گئے۔اس صورتحال کے باعث علاج معالجہ کے سلسلے میں آئے ہوئے مریض ہسپتال میں محبوس ہو کر رہ گئے۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی لیکن اہلکار خاموش تماشائی بنے رہے۔مشتعل وکلا نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے ہسپتال میں توڑ پھوڑ کیاور گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دئیے۔اسپتال میں وکلاء کی توڑ پھوڑ کے بعد پی آئی سی ملازمین اور وکلا میں تصادم بھی دیکھنے میں آیا اور وکلاء نے پولیس گاڑی کو آگ لگا دی۔

یہ سلسلہ جاری تھا کہ ڈی آئی جی آپریشنز رائے بابر ہسپتال پہنچے جن کے حکم پر ہسپتال میں موجود پولیس کی بھاری نفری نے وکلا پر لاٹھی چارج شروع کر دیا اور آنسو گیس کا بھرپور استعمال کیا۔پولیس کارروائی کے جواب میں وکلا نے ہسپتال کے اندر پتھراؤ شروع کر دیا اور پولیس کی ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔ وکلا پولیس کی جانب سے لگائی جانے والی تمام رکاوٹیں ہٹا کر ہسپتال میں داخل ہو گئے اور ڈاکٹروں کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ہسپتال کے اندر احاطہ میں دھرنا دے دیا اور جیل روڈ پر ٹریفک بند کردی۔

 صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے صوبائی وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان پی آئی سی کے باہر پہنچے جہاں وکلاء نے انہیں گھیر لیا اور تشدد کیا تاہم فیاض الحسن چوہان نے بھاگ کر جان بچائی۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے آیا تھا تاہم وکلاء نے اغوا کرنے کی کوشش کی، کسی سے ڈرنے والا نہیں ہوں، وکلاء کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی ہنگامہ آرائی کے واقعہ کا سخت نوٹس لیا اور واقعہ کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ کوئی قانون سے بالا ترنہیں، دل کے ہسپتال میں ایسا واقعہ ناقابل برداشت ہے، مریضوں کے علاج معالجے میں رکاوٹ ڈالنا غیر انسانی اور مجرمانہ اقدام ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی سربراہی میں واقعہ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دیدی ہے جس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد، انسپکٹرجنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن شامل ہیں، کمیٹی وکلاء کی ہنگامہ آرائی اورتوڑ پھوڑ کے واقعہ کی انکوائری کرکے رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کرے گی۔

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی جانب سے ڈاکٹرز اور مریضوں پر تشدد کے خلاف ینگ ڈاکٹرز نے (آج)جمعرات سے او پی ڈیز بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء اور ڈاکٹرز کے درمیان جھگڑا ہوا تھا جس پر وکلاء نے ڈاکٹرز کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے احتجاج کیا تھا۔ اس کے علاوہ وکلاء نے ڈاکٹرز پر اپنا مذاق اڑانے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا، بعدازاں یہ معاملہ بڑھتے بڑھتے سنگین صورتحال اختیار کرگیا اور نوبت ہسپتال پر وکلاء کے حملے اور مریضوں کے جاں بحق ہونے تک پہنچ گئی۔

وکلا کے احتجاج کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا، احتجاج کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔وکلا نے پی آئی سی کے بعد مال روڈ کا رخ کرلیا جہاں پر انہوں نے مال روڈ اور جی پی او چوک بند کر دیا۔ وکلا نے سول سیکریٹریٹ سٹاپ پر میٹرو بس کو روک لیا جس کے باعث امن وامان کے پیش نظر میٹرو بس کا روٹ بند کر دیا گیا جبکہ میٹرو بسیں شاہدرہ اور گجومتہ سٹاپ پر کھڑی کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔

ادھر پولیس نے ہسپتال کے باہر احتجاج کرنے والے 35 وکلا کو گرفتار کرلیا جن میں 6 خواتین وکلاء بھی شامل ہییں۔پی آئی سی کے ڈاکٹرز سے تنازع کے معاملہ پر وکلاء آج 12دسمبر کو پنجاب بھر میں ہڑتال کریں گے،ہڑتال کی کال پنجاب بارکونسل،لاہور ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن اورلاہور ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن نے دی ہے۔وکلاء نے احتجاجی ریلیاں نکالنے کا اعلان بھی کیاہے،گزشتہ روز پی آئی سی کے باہر ہنگامہ آرائی کے باہر پولیس نے وکلاء کو منتشر کرنے کے لئے طاقت استعمال کی تو لاہور ہائی کورٹ بار کے وکلاء بھی میدان میں آگئے،لاہور ہائی کورٹ کے وکلاء نے سہ پہر تین بجے کے قریب لاہور ہائی کورٹ کے باہر جی پی او چوک میں مال روڈ پر مظاہرہ شروع کردیا،وکلاء نے مال روڈ،سٹیشن،بابا موج دریااور انارکلی کو جانے والے راستے بند کردیئے۔

وکلاء نے ڈاکٹروں کے خلاف شدید نعرے بازی کی،اس موقع پر وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر چودھری حفیظ الرحمن نے کہا کہ وکلاء پر تشدد قابلِ مذمت اور ناقابل قبول ہے، آج کا دن انتہائی افسوسناک ہے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ سوشل میڈیا پر ویڈیو چلانے والے ڈاکٹر عرفان کو فوری گرفتار کیا جائے اوروکلاء پر تشدد کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔مظاہرے میں لاہور ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری فیاض رانجھا اور سپریم کورٹ بار کے نائب صدر چودھری غلام مرتضیٰ بھی شریک ہوئے،وکلاء نے آج 12دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ سمیت صوبہ بھر میں مکمل ہڑتال کااعلان کیا،دریں اثناء پنجاب بارکونسل کے وائس چیئرمین شاہ نواز اسماعیل گجر کی سربراہی میں ہنگامی اجلاس ہوا،جس میں آج 12دسمبر کو پنجاب بھرکے وکلاء کو ہڑتال کی کال دے دی گئی،دریں اثنارات گئے تک وکلاء اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے۔

سیکرٹری ہائیکورٹ بار کا کہنا ہے کہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے پولیس نے خواتین وکلا کو چھوڑنے کی یقین دہانی کروائی ہے مگر دیگر وکلا کو چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔مذاکراتسی سی پی او آفس میں ہوئے جس میں وزیر قانون راجہ بشارت بھی موجود تھے۔وکلا آج مکمل ہرتال کریں گے آج گیارہ بجے جنرل ہاؤس اجلاس بھی ہوگا،آج سیشن عدالت مکمل بند کی جائے گیرات گئے آئی جی پولیس پنجاب نے ایک اعلی سطحی اجلاس میں پنجاب بالخصوص لاہور کے وکلاء کے خلاف کر یک ڈاؤن کر نے کا حکم دیا ہے۔اجلاس میں سی سی پی او لاہور،ڈی آئی جی آپریشن اور دیگر پولیس افسران بھی شامل تھے اجلاس کے بعد سی سی پی او لاہورکی ہدایت پر شہر بھر میں تمام ایس ایچ اوز کو فوری طور پر اپنے اپنے تھانے پہنچ کر ا اپنے علاقے میں رہائش پزیروکلاء کی ہر صورت گرفتاریوں کو یقینی بنانے کا حکم دیا ہے جس کے بعد ایس ایچ اوز نے سیڑھیاں منگوا کر کریک ڈاؤن شروع کر دیا تھا۔

آخری اطلاع آنے تک کریک ڈاؤن جاری تھا۔کئی ایک وکلاء نے گرفتاریوں کی اطلاع ملنے کے بعد روپوشی اختیار کر لی ہے جبکہ کئی وکلا کو گرفتار کر لیا گیا۔

مزید : قومی