ویڈیو میں وکلاءکو پی آئی سی جانے کیلئے اکسانے والی خاتون وکیل دراصل کون ہیں ؟ آخر کار تفصیلات سامنے آ گئیں

ویڈیو میں وکلاءکو پی آئی سی جانے کیلئے اکسانے والی خاتون وکیل دراصل کون ہیں ؟ ...
ویڈیو میں وکلاءکو پی آئی سی جانے کیلئے اکسانے والی خاتون وکیل دراصل کون ہیں ؟ آخر کار تفصیلات سامنے آ گئیں

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )گزشتہ روز وکلاءنے پنچاب انسٹی ٹیوٹ آ ف کارڈیالوجی پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی جس کے باعث ڈاکٹرز اور عملے کو ہسپتال چھوڑ کر جانا پڑا اور طبی سہولیات میسر نہ ہونے کے باعث چھ مریض جان کی بازی ہا ر گئے ، حالات کشیدہ ہونے پروکلاءپر آنسو گیس کی شیلنگ کرتے ہوئے منتشر کیا گیا تاہم وکلاءسرعام سڑکوں پر اسلحہ لہراتے اور دندناتے ہوئے دکھائی دیئے ۔

تفصیلات کے مطابق واقعہ کے بعد اب سوشل میڈیا پر وکلاءکی ویڈیوز وائر ل ہو رہی ہیں جس میں وہ ڈاکٹر ز کو دھمکیاں دیتے ہوئے مارچ کرتے ہوئے آتے دکھائی دیتے ہیں تاہم اب ایک خاتون وکیل کی ویڈیو تیزی کے ساتھ مقبول ہو رہی ہے جس میں وہ ایک ہال میں وکلاءکو پی آئی سی جانے اور ہنگامہ آرائی کیلئے اکساتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں ۔

اس ویڈیو میں دکھائی دینے والی خاتون لاہور بار کی نائب صدر کی امیدوار ہیں جن کا نام ” ثمینہ رانا “ ہے جو کہ ویڈیو میں وکلاءکو پی آئی سی پر حملہ کرنے اور اپنا بدلہ لینے کیلئے اکسا رہی ہیں ۔خاتون وکیل کا ویڈیو میں کہناتھا کہ ”میں یہاں آپ سے ووٹ مانگنے نہیں آئی ہوں ، بلکہ اپیل کرنی آئی ہوں ، یہ مسئلہ ان نوجوانوں کا نہیں ہے ،یہ مسئلہ وکیلوں کا ہے ، یہ مسئلہ کالے کوٹ کا ہے ، وہ ہاتھ وکیل پر نہیں بلکہ پوری کمیونٹی پر اٹھا ہے ۔آج بھی کہتی ہوں ، پی آئی سی کی طرف جائیں ،وہ آپ کا ایک جلسہ وہاں برداشت نہیں کر سکتے ، آپ نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ہم اتنے کمزور ہیں کہ وہ دو ٹکے کا ڈاکٹر ۔۔۔، یہ آئی جی گھٹنوں کے بل چل کر آئے گا ۔۔“

خاتون کے خطاب کے دوران ہال میں شور شرابہ ہو تاہے اور ان کی تقریر کے الفاظ مدھم ہونے کے باعث سمجھ نہیں آ رہے ۔ خاتون وکیل نے اپنی تقریر کے دوران ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا اس ڈاکٹر نے وکلاءکے جذبات کو ٹھیس پہنچائی اورانہیں تشدد پر اکسایا ۔

ویڈیو دیکھیں:

گزشتہ روز ایک خبر سامنے آئی تھی جس میں جاں بحق ہونے والی بچی کے والد نے الزام عائد کیا کہ وکلاءنے اندر آکر ان کی بیٹی کے منہ سے اکسیجن ماسک ہٹا دیا اور پھینک دیا جس کے باعث اس کی بیٹی کی جان چلی گئی ۔بدھ کے روز اڑھائی سو سے تین سو وکلاءپی آئی سی کے باہر اکھٹے ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ گرم ہو تا چلا گیا اور انہوں نے ہسپتال میں داخل ہو کر نظام ہی درہم برہم کر دیا جبکہ مریضوں کو اپنی جان کی فکر پڑ گئی جبکہ ہسپتال میں جاری سرجریز کو بھی ڈاکٹرز نے کمرے بند کر کے مکمل کیا ۔یہاں تک کہ وکلاءنے آئی سی کو بھی نہ بخشا ۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور