چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت سے جب جنرل سیکرٹری اسلام آباد ہائیکورٹ عمیر بلوچ نے وکیلوں کو باہر نکالا تو کیا مکالمہ ہوا ؟ جانئے

چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت سے جب جنرل سیکرٹری اسلام آباد ہائیکورٹ عمیر ...
چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت سے جب جنرل سیکرٹری اسلام آباد ہائیکورٹ عمیر بلوچ نے وکیلوں کو باہر نکالا تو کیا مکالمہ ہوا ؟ جانئے

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وکلاءنے گزشتہ روز پی آئی سی پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی جس کے باعث کئی مریضوں کو طبی امدا د نہ مل سکی اور وہ دنیا سے چلے گئے تاہم حالات کشیدہ ہونے پر وکلاءکو واٹر کینن کے استعمال اور آنسو گیس کی شیلنگ کے ذریعے منتشر کیا گیا جبکہ مشتعل وکلاءنے فیاض الحسن چوہان کو تشددکا نشانہ بنایا اور ہوا میں اسلحہ لہراتے دندناتے جیل روڈ پر گھومتے رہے تاہم آج وکلاءنے عدالتوں میں پیش نہ ہوتے ہوئے ہڑتال کا اعلان کر دیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں وکلاءکہ ہڑتال کے باعث کوئی وکیل پیش نہیں ہو سکا ہے ،جنرل سیکریٹر ی اسلام آباد ہائیکورٹ بار عمیر بلوچ نے دوران سماعت وکلاءکو چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت سے باہر نکال دیا ۔ اس دوران چیف جسٹس کا عمیر بلوچ ست مکالمہ ہوا ، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ میری عدالت میں ہڑتال نہ کریں ، سیکریٹری اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ نے کہا کہ آپ نے جب وکلاءتحریک میں ہڑتال کی تو ہم آپ کے ساتھ تھے ۔

عمیر بلوچ کا کہناتھا کہ وکلاءپر لاٹھی چارج اور شیلنگ کے خلاف وکلاءآج عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔ عمیر بلوچ کا کہناتھا کہ خبر نہ چلائی تو اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا نمائندگا ن کے داخلے پر پابندی لگا دیں گے ۔

مزید : قومی