وکلا کی طرف سے کئی دنوں سے پی آئی سی پر حملے اور ڈاکٹروں سے نمٹنے کی دھمکیوں کا انکشاف لیکن پھر انہیں سول کورٹ سے جیل روڈ جاتے ہوئے کیوں نہ روکا جاسکا؟ سینئر صحافی نے پریشان کن انکشاف کردیا

وکلا کی طرف سے کئی دنوں سے پی آئی سی پر حملے اور ڈاکٹروں سے نمٹنے کی دھمکیوں ...
وکلا کی طرف سے کئی دنوں سے پی آئی سی پر حملے اور ڈاکٹروں سے نمٹنے کی دھمکیوں کا انکشاف لیکن پھر انہیں سول کورٹ سے جیل روڈ جاتے ہوئے کیوں نہ روکا جاسکا؟ سینئر صحافی نے پریشان کن انکشاف کردیا

  



لاہور (تجزیہ: محسن گورایہ) پاکستان کی تاریخ میں بدھ کا دن شائد بلیک ڈے سے بھی کوئی زیادہ برا دن سمجھا جائے گا۔وکلا کی بے حسی،پولیس کی بزدلی جبکہ صحت اور قانون کے وزرا کی لا پروائی نے گزشتہ روز پوری دنیا میں پاکستان کو رسوا کر دیا۔ لاہور پولیس جس کا کام امن و امان کو برقرار رکھنا اور عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے اس کا کردار حد سے زیادہ بزدلانہ رہا۔لاہور پولیس کے سربراہ اپنے پہلے ہی امتحان میں نہ صرف ناکام ہوئے بلکہ انکی قیادت میں لاہور پولیس نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔وکلا دو گھنٹے تک لاہور کی مختلف سڑکوں سیہوتے ہوئے سیشن کورٹس،ایوان عدل اور مختلف کچہریوں سے بڑے گروپوں کی صورت میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پہنچے مگر لاہور پولیس انہیں روکنے کی بجائے خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی۔

وکلا کئی دنوں سے کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ پر حملے اور ڈاکٹروں سے نمٹنے کی دھمکیاں دے رہے تھے مگر پولیس کے انٹیلیجنس نظام کو شائد کوئی اطلاع ہی نہیں تھی اگر اطلاع ہوتی تو شائد وکلا کو روکنے کا کوئی سد باب کیا جا سکتا۔ اسی طرح جب دو گھنٹے تک وکلا لاہور کی سڑکوں پر کارڈیالوجی کی طرف مارچ کرتے ہوئے پہنچے تو انہیں کسی نے روکنے کی کوشش ہی نہ کی اور وکلا نے بڑی آسانی سے کارڈیالوجی پر قبضہ کر لیا۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ پولیس کا انٹیلیجنس،نیگوسی ایشن اور آپریشن کا نظام گزشتہ روز مکمل طور پر ناکام ہو گیا محسوس ہو رہا تھا کہ پولیس میں مظاہرین کو روکنے کی سکت اور حوصلہ ہی نہیں تھا۔اور اگر پولیس کا کام صرف خاموش تماشائی بننا ہے تو وہ ضرور پورا ہوا۔اس سارے معاملے میں پولیس کا کوئی کمانڈ سسٹم بھی نظر نہیں آیا۔

اس سارے واقعہ میں لگ رہا تھا کہ پولیس کی کمانڈ یہ شو کر رہی ہے کہ وکلا اور ڈاکٹروں کی اس لڑائی میں وہ فریق نہیں ہیں حالا نکہ ان کا کام امن و امان اور لوگوں کی جانوں اور املاک کا تحفظ تھا جسے پورا کرنے میں وہ ناکام ہو گئے اور آخر میں پولیس نے وکلا کو منتشر کر نے کیلئے ہسپتال میں آنسو گیس پھینک دی جس کا نقصان مظاہرین کو کم اور مریضوں کو زیادہ ہوا۔ قبل ازیں کالے کوٹ والوں نے وکلا گردی کی حد کر دی اور دل کے ہسپتال ہر حملے کے بعد کامیابی کا جشن مناتے رہے جو بے حسی کی انتہا تھی۔کسی مہذب معاشرے میں ہسپتال کے اندر تو کیا قریب قریب بھی ہارن تک نہین بجایا جاتا مگر یہاں تو وکلا نے ہسپتال پر حملہ کیا،قبضہ کیا اور بڑھکیں مارتے رہے جیسے یہ کوئی دشمن ملک ہے۔

وکلا نے بے حسی کی یہاں تک انتہا کی کہ مریضوں کے ماسک اتار دیے،پولیس اور عام شہریوں کی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی اور انہیں آگ لگا دی۔اس سارے معاملے میں قانون اور صحت کے وزرا کا کردار بھی قابل تعریف نہیں تھا انہوں نے اس تنازعہ کو ختم کرنے کیلئے کوئی کردار ہی ادا نہ کیا جس کے سبب معاملہ اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور