پی آئی سی پر حملہ، وکلا میں شامل وزیراعظم کے بھانجے کا موقف بھی سامنے آگیا

پی آئی سی پر حملہ، وکلا میں شامل وزیراعظم کے بھانجے کا موقف بھی سامنے آگیا
پی آئی سی پر حملہ، وکلا میں شامل وزیراعظم کے بھانجے کا موقف بھی سامنے آگیا

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )گزشتہ روز وکلاءنے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آ ف کارڈیالوجی پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی جس کے باعث ڈاکٹرز ہسپتال چھوڑ کر چلے گئے اور نتیجے میں طبی امداد نہ ملنے کے باعث چھ مریض جان کی بازی ہار گئے تاہم معاملہ کشیدہ ہوا تو پولیس نے واٹر کینن اور آنسو گیس کے استعمال سے وکلاءکو منتشر کیا جبکہ وکیل ہاتھوں میں پستولیں اٹھائیں ہوائی فائرنگ بھی کرتے رہے ۔

اس سب معاملے میں وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسن نیازی بھی پیش پیش رہے جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں اور انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی احتجاج کو سپورٹ کیا تاہم اب وہ وکلاءگردی کے باعث مریضوں کی جان چلے جانے پر اپنے کیے پر شرمندہ ہیں اور غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے ٹویٹر پر پیغام جاری کر دیاہے ۔

سوشل میڈیا پر ایک کلپ وائر ل ہو رہاہے جس میں ایک بے بس راولپنڈی کا شہری اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی داستان بیان کر تاہوا مسلسل رو رہاہے ، اس شخص کا کہناتھا کہ وکلاءنے ہسپتال میں آ کر اس کی بہن کے چہرے سے آئی سی یو میں آکسیجن ماسک ہٹا دیا جس کے باعث اس کی موت ہو گئی ۔

یہ ویڈیو کلپ وزیراعظم عمران خان کے بھانجے تک بھی پہنچا اور انہوں نے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرتے ہوئے صفائی پیش کی اور کہا کہ ” یہ کلپ دیکھنے کے بعد مجھے خود پر شرم آ رہی ہے ، یہ قتل ہے ، میری سپورٹ اور احتجاج متعلقہ ڈاکٹرز کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کروانے تک ہی محدود تھا ، میں صرف پر امن احتجاج کیلئے کھڑا ہوتا ہوں ، آج کا دن افسوسناک ہے ، میں اس احتجاج کی حمایت کرنے پر اپنی ذات سے شرمندہ ہوں ۔“

صحافی مرتضی علی شاہ نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”براہ مہربانی اس پر بھی غور کریں کہ کون میڈیا کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر تشدد پر اکسا تارہا ، اپنے سپورٹرز کو اپنے سیاسی مخالفین پر حملہ کرنے کیلئے کہتا رہا ، تشدد چاہے زبانی ہو یا جسمانی ناقابل قبول ہے ۔“

حسن نیازی نے اس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”مہربانی فرماکر ان متاثرہ لوگوں کی اموات سے سیاست کو الگ رکھا جائے ، میں حقیقت میں بہت زیادہ پریشان ہوں، دیکھو ہم نے لاہور میں کیا کر دیاہے ، ہم سب کو اس معاملے پر ایک ہی پیج پر ہونا چاہیے ۔“

فرزانہ شاہ نامی ٹویٹر صارف نے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ” جنگ میں بھی ہسپتالوں کی حفاظت کی جاتی ہے ، حتیٰ کہ دو مخالف ممالک پر بھی بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ لاگو ہوتاہے کہ وہ جنگ کے دوران ہسپتالوں کو نشانہ نہ بنائیں ۔“

حسن نیازی نے اس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ” اس میں کوئی شک نہیں کہ احتجاج پر امن نہیں تھا ، وکلاء، ینگ ڈاکٹرز اور پنجاب حکومت اس کی ذمہ دار ہے ، یہ ایک رات میں نہیں ہوا ہے بلکہ اسے ہونے میں ایک مہینہ لگا ہے ، حکومت ، حکومت نہیں تھی ۔“

مزید : قومی