سانحہ پی آئی  سی کے وقت پنجاب کے آئی جی ،چیف سیکرٹری اور وزیر اعلیٰ کہاں تھے؟سینئر صحافی کا ایسا دعویٰ کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا 

سانحہ پی آئی  سی کے وقت پنجاب کے آئی جی ،چیف سیکرٹری اور وزیر اعلیٰ کہاں ...
سانحہ پی آئی  سی کے وقت پنجاب کے آئی جی ،چیف سیکرٹری اور وزیر اعلیٰ کہاں تھے؟سینئر صحافی کا ایسا دعویٰ کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا 

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب انسٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہونے والے وکلاء کے حملے، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث گرفتار 52 ملزمان میں سے 46 وکلاء کو اِنسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔زیر حراست وکلاء کو ہتھکڑیاں لگا کر اور منہ پر کالا کپڑا چڑھا کر عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کے خلاف  کوئی رعایت   نہیں کی جائے گی تاہم اس سانحہ پر جہاں وکیلوں کی غنڈہ گردی کھل کر سامنے آئی ہے وہاں حکومت اور پولیس کی ناقص حکمت عملی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے سوال  اٹھایا  جا رہا ہے کہ جب وکلاء نے ہائی کورٹ سے پنجاب کارڈیالوجی کے سامنے جانے کا اعلان کیا تو حکومت نے کسی بڑے سانحے  سے بچنے کے لئے کیا اقدامات کئے؟پولیس کہاں تھی اور کئی گھنٹے تک تماشا کیوں دیکھتی رہی؟بر وقت ایکشن کیوں نہ لیا گیا ؟سانحہ پی آئی  سی کے وقت پنجاب کے آئی جی ،چیف سیکرٹری اور وزیر اعلیٰ کہاں تھے؟ایسے میں سینئر صحافی رضوان رضی نے ایسا دعویٰ کیا ہے کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا ۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب  انسٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر ہونے والے افسوسناک حملے  کے بعد   پولیس انتہائی متحرک ہو چکی  ہے اور سی سی  ٹی وی فوٹیج کی مدد سے سانحہ میں ملوث ملزموں کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ لاہور بھر سے وکیلوں کی گرفتاریاں بھی ہو رہی ہیں دوسری طرف لاہور پولیس نے سانحہ میں ملوث 52  وکلاء   کو  گرفتار کر کے  لاہور کے مختلف تھانوں میں تفتیش  کا  عمل بھی جاری ہے،تجزیہ کار اور صحافی حکومت  کی ناقص حکمت عملی پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں جبکہ وزیراعظم عمران خان کاکہناہےکہ معاملات کو صبر و تحمل کے ساتھ سلجھایا گیا اور شرپسندوں کی سازش ناکام ہوئی ۔ایسے میں معروف تجزیہ کار اور ’’رضی دادا‘‘ کے نام سے مشہور صحافی رضوان رضی نے دعویٰ کیا ہے کہ  سانحہ پی آئی سی کے وقت پنجاب کے آئی جی ،چیف سیکرٹری اور وزیر اعلیٰ بنی گالہ میں عمران خان کے دَر پر بیٹھے ہوئے  اُن کے اُٹھ جانے کا  انتظار کر رہے تھے ،وہ  اٹھے ،پھر میٹنگ ہوئی اور میٹنگ کے بعد جب اُن کو  موبائل واپس ملے تو  پتا چلا کہ یہ سانحہ ہو  گیا ہے ،بر وقت ایکشن لینے پر نقصان سے بچا جا  سکتا تھا ۔    

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور