ڈی جے بٹ کی گرفتاری اور رہائی

ڈی جے بٹ کی گرفتاری اور رہائی
ڈی جے بٹ کی گرفتاری اور رہائی

  

ہمارے فنکار بظاہر غیر سیاسی ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں سیاسی ہوتے ہیں، کیونکہ میری رائے میں ملک بھر میں سب سے حساس طبقہ یہی ہے ملک میں کسی بھی قسم کے غیر تسلی بخش حالات ان کے پیشہ وارانہ معاملات پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں مثال کے طور پر کورونا وائرس نے سب سے زیادہ اسی طبقے کو متاثر کیا اور ایک طویل کاروباری بندش کا یہ ابھی تک شکار ہیں اور پھر یہ ایک ایسا طبقہ ہے جسے ڈرانے دھمکانے کے لئے کسی بڑی کارروائی کی ہر گز ضرورت نہیں ہوتی بس غصے سے بھری آنکھ دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے یہ طبقہ نظریں جھکا کر آگے نکل جاتا ہے یا پھر جہاں بیٹھا یا کھڑا ہوتا ہے وہیں پر جم جاتا ہے۔

جنرل مشرف کے دور میں ملکی قوانین میں جہاں اور بہت سی تبدیلیاں کی گئیں وہاں  لاوڈ سپیکر کے حوالے سے بھی نیا قانون لایا گیا کہ کوئی بھی شخص اونچی آواز میں لاوڈ سپیکر استعمال نہیں کرے گا یہ قانون بنیادی طور پر فرقہ وارانہ گفتگو کو روکنے کے لئے لایا گیا تھا اور لاوڈ سپیکر کے ناجائز استعمال پر پابندی کے زمرے میں آتا تھا، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ جن کی وجہ سے یہ پابندی لگائی گئی تھی وہ تو آج بھی اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جہاں جس جگہ چاہیں پابندی توڑ دیتے ہیں، مگر ایک فنکار طبقہ ایسا ہے جو آئے روز اس پابندی کے قانون کے تحت گرفتار ہوتا رہتا ہے بڑے فنکاروں کی تو شنوائی ہوجاتی ہے یا عین موقع پر کوئی بڑی سفارش کام آجاتی ہے، مگر چھوٹے فنکاروں کو ایک رات تھانے میں گزارنے کے بعد عدالت کے چکر بھی لگانے پکڑتے ہیں دیہات میں چونکہ شادی بیاہ پر محفل موسیقی کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے کھلے پنڈال میں ہزاروں لوگ کسی بھی گلوکار کو سننے کے لئے جمع ہوتے ہیں اور پھر اس دوران علاقے کی پولیس بجائے موسیقی کا اہتمام کرنے والے کو پکڑنے کے گلوکار کو پکڑ کے لے جاتی ہے، جس کا قصور صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ بطور مہمان وہاں شریک ہوتا ہے،

مگر چونکہ اس کی کوئی سفارش نہیں ہوتی اس لئے دھر لیا جاتا ہے،مگر اس سب کے باوجود فنکار طبقہ ماسوائے رونے دھونے کے کسی قسم کا احتجاج یا سڑکوں پر آنے کی کوشش نہیں کرتا اور خاموشی سے ہر شے برداشت کرتا ہے۔ فنکار طبقے کے سیاسی یا نظریاتی اظہار کا طریقہ بھی آواز یا ایکٹ کی حد تک ہوتا ہے کسی ڈرامہ میں اپنی پسندیدہ سیاسی شخصیت یا جماعت کے لئے دوچار الفاظ بول دئیے یا پھر ڈائیلاگ کے ذریعے اپنی بات کر لی ماضی میں محمد علی، مصطفی قریشی، الیاس کشمیری،یوسف خان، طارق عزیز، عنایت حسین بھٹی اور قوی خان نمایاں طور پر سیاسی نظریات کا پرچار کرتے رہے ہیں۔ مصطفی قریشی پیپلز پارٹی کے جیالے ہیں اور وہ لاہور میں بیٹھ کر جئے بھٹو کے نعرے لگاتے رہے ہیں، مگر نواز شریف نے کبھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی،بلکہ ہمیشہ احترام دیا۔عنایت حسین بھٹی اور قوی خان تو انتخابی سیاست میں بھی حصہ لے چکے ہیں طارق عزیز پہلے جیالے تھے پھر نواز شریف کے متوالے بن گئے اور قومی اسمبلی کے رکن بھی بن گئے، بعد میں جنرل پرویز مشرف اور چودھری شجاعت حسین کے گروپ میں چلے گئے، مگر نواز شریف نے ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کوئی انتقامی کارروائی نہ کی، تحریک انصاف کو ہر بڑے فنکار کی حمایت حاصل رہی بہت سے فنکار جلسوں جلوسوں میں شریک ہوکر عوام کے ساتھ رہے۔ عطاء  اللہ عیسی خیلوی نے عمران خان  کے لئے ایسا ترانہ گایا کہ جماعت کی مقبولیت میں بہت اضافہ ہوا۔

خود عطاء اللہ عیسی خیلوی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ تحریک انصاف کی مقبولیت میں میرے ترانے کا کردار سب سے نمایاں ہے یہ دوسری بات ہے ملکی حالات کی وجہ سے اب لوگ عطاء  اللہ عیسی خیلوی سے یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ……  جب آئے گا عمران…… گا کے جس طرح انہوں نے عوام کی ترجمانی کی اب…… کب جائے گا عمران…… گا کے بھی عوامی ترجمانی کریں۔اسی طرح ملک کے معروف ڈی جے بٹ جوکہ عمران خان کے جلسوں کے اہم کردار تھے وہ اپنے سسٹم کو استعمال میں لاتے ہوئے عمران خان کے جلسوں کو اوپر اٹھاتے تھے اور ان دنوں حکومت نے ڈی جی بٹ کو گرفتار کیا تو عمران خان حکومت پر سخت تنقید کی تھی، اب اسی ڈی جی بٹ نے مریم نواز کی ریلی کے دوران اپنی پیشہ ورانہ خدمات پیش کیں تو لاہور پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا یہ تو اچھا ہوا عدالت نے اسے ضمانت پر رہا کردیا، مگر حکومت کو کچھ خیال رکھنا چاہئے اور ایسے لوگ جو اپنے پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کے لئے کسی سیاسی یا سماجی تقریب کا حصہ ہیں تو ان کو پکڑنے سے گریز کرے، کیونکہ کل یہی لوگ یا ان میں سے کوئی شخص ان کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے اور حکومت کو سوچنا چاہئے کہ ڈی جے بٹ کی گرفتاری سے اسے کیا فائدہ حاصل ہوا…………؟

مزید :

رائے -کالم -