یورپی یونین کی ڈِس انفولیب کی یہ رپورٹ

یورپی یونین کی ڈِس انفولیب کی یہ رپورٹ
یورپی یونین کی ڈِس انفولیب کی یہ رپورٹ

  

اگلے روز یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک بلجیم سے ایک حیران کن خبر آئی جس نے بھارت جیسے بڑے ملک کو الف ننگا کرکے رکھ دیا۔ بلجیم کی تاریخ بہت پرانی ہے اور یہ یورپ کے مشہور ترین (اور بدنام ترین بھی) ملکوں سے گھرا ہوا ہے…… اس کے شمال میں نیدر لینڈ، مشرق میں جرمنی، جنوب میں فرانس اور ذرا سا اوپر شمال مغرب میں جائیں تو انگلش چینل کے اس پاربرطانیہ ہے۔ اپنی اس سٹرٹیجک لوکیشن کے طفیل یہ ملک ناٹو (NATO) اور یورپی یونین (EU)کا ہیڈکوارٹر بھی ہے۔ اس کا دارالحکومت برسلز ہے جو دنیا بھر کی بہت سی ہمہ گیر حیثیت کی عالمی تنظیموں کا مرکز بھی ہے۔ آبادی ایک کروڑ سے کچھ اوپر ہے جس میں 7فیصد مسلمان بھی شامل ہیں، 60فیصد لوگ عیسائی اور باقی ’لامذہب‘ ہیں۔ رقبہ صرف 12ہزار مربع میل ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ لگانا ہو تو پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ ملٹری ہسٹری کا طالب علم ہونے کی وجہ سے بلجیم کی اہمیت ہمیشہ میری توجہ کا دامن کھینچتی رہی ہے۔ لیکن آج تو اس کے برسلز نے میرا دل باغ باغ کر دیا ہے۔

برسلز میں بہت سی بین الاقوامی تنظیمیں پل کر جوان ہوتی رہی ہیں جن میں ایک کا نام ’ڈِس انفولیب‘ (Disinfolab) ہے۔ انفرمیشن اور ڈِس انفرمیشن کا مفہوم تو سارے قارئین جانتے ہوں گے۔ انفرمیشن کی لیبارٹری کو تو ویسے وزارتِ اطلاعات و نشریات کا نام دیا جاتا ہے لیکن ’گمراہ کن اطلاعات و نشریات‘ کو اگر ’ڈِس انفرمیشن‘ کا نام دے دیں تو اس کی وزارت کے دوہیڈکوارٹرز ہیں …… ایک بلجیم (برسلز) میں اور دوسرا سوئٹزرلینڈ (جنیوا) میں …… لیکن مین (Main) ہیڈکوارٹر برسلز ہی میں ہے۔ اس ’لیبارٹری‘ کا کام دنیا بھر کے ممالک میں پھیلی ہوئی غلط اور گمراہ کن معلومات کی نشر و اشاعت کا سراغ لگانا اور پھر جن ممالک کے خلاف یہ معلومات اکٹھی کی جاتی ہیں ان تک ان کو پہنچانا ہے۔ یہ موضوع بڑا بسیط اور وسیع و عریض ہے اور اس پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں، لکھی جا چکی ہیں اور لکھی جاتی رہیں گی۔ اس تنظیم کا بجٹ کہاں سے آتا ہے اس کا کسی کو کچھ اتہ پتہ نہیں۔ جس طرح سینکڑوں ہزاروں NGOsکے بجٹ کی کچھ خبر نہیں کہ کون ادا کرتا ہے، اسی طرح ’ڈِس انفولیب‘ کے بجٹ کا بھی کچھ پتہ نہیں۔ ماضی میں یہ تنظیم بالخصوص یورپی یونین پر اپنی توجہ مرکوز کرتی رہی ہے اور اس کے ہیڈکوارٹر کو مطلع کرتی رہی ہے کہ کون اس کے حق میں ہے اور کون مخالف ہے۔ لیکن اس نے دو تین روز پہلے بھارت کا جو مکروہ اور گھناؤنا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے اور اپنی رپورٹ میں اس مذموم بھارتی پراپیگنڈے کا ہدف پاکستان کو بتایا ہے، وہ صد ہزار بار لائقِ ستائش ہے۔ اس کی تفصیل آپ نے میڈیا پر سنی اور دیکھی ہو گی۔ ہمارے کئی ٹی وی چینلوں نے کل اور پرسوں اس موضوع پر ٹاک شوز کا انعقاد کیا ہے اور ایسی ایسی حیران کر دینے والی تفصیلات سامعین و ناظرین کے سامنے رکھی ہیں کہ جن کے بعد ہمارے ہاں جو ’چھوٹی سی‘ بھارت نواز لابی موجود ہے، وہ شرم سے پانی پانی ہو چکی ہو گی۔

ڈس انفولیب نے پاکستان کے خلاف جس پروپیگنڈے کا آغاز آج سے 15برس پہلے کیا تھا اس کا پورا پردہ اب جا کر چاک ہوا ہے۔ پچھلے برس 2019ء میں بھی اس کے کچھ شواہد منظر عام پر لائے گئے تھے لیکن تب اس کی قبولیت بی بی سی جیسے مقتدر میڈیائی ادارے کے ہاں بار نہیں پا سکی۔ لیکن اب تو بی بی سی نے کھل کر جو تفصیل دی ہے وہ دنیا بھر کے نشریاتی اداروں کے لئے چشم کشا ہونی چاہیے۔ ہم پاکستانیوں کو اپنی فوج کے انٹیلی جنس ادارے (ISI) کی عالمی اہمیت اور رسائی کا کچھ اندازہ بھی ہوجانا چاہیے۔ پچھلے دنوں ہمارے وزیرخارجہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے جو مشترکہ کانفرنس کی تھی اور بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی ’را‘ کے پاکستان کے خلاف کئے جانے والے اقدامات اور پراپیگنڈے کا جو پول کھولا تھا اس کی صداقت اب دنیا کے سارے ممالک پر عیاں ہو چکی ہے۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ڈِس انفولیب کی یہ رپورٹ، آئی ایس پی آر کے ڈوزیئرز کے بعد کیوں آئی ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ہمارے ڈوزیئرز اور برسلز کی اس لیب (Lab) کی رپورٹ کی اشاعت میں کوئی نہ کوئی زمانی لنک ضرور موجود ہے۔

بی بی سی نے جو رپورٹ افشا کی ہے وہ کافی لمبی چوڑی ہے لیکن اس کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں انسانی بنیادی حقوق کا ترجمان اور پیام بر ایک پروفیسر تھا جس کو اقوامِ متحدہ کے اربابِ بست و کشاد بہت اہمیت دیتے تھے اور اس کی خبروں کو بڑی وقعت عطا کرنے میں پیش پیش رہتے تھے۔ اس کا نام پروفیسر لوئی سوہن (Louis Sohn) تھا۔ وہ 2006ء میں 92 برس کی عمر میں انتقال کر گیا لیکن وہ جس اطلاعاتی و نشریاتی نیٹ ورک کو چلا رہا  تھا وہ کسی نہ کسی طرح زندہ رہا۔ اس کی شناخت، اس کی موت سے ایک برس پہلے 2005ء میں بھارت نے چرالی اور اس کے نام سے جو سینکڑوں NGOs اعتبار پاتے تھے ان میں پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ مضامین، مقالے، تقاریر، تبصرے اور جائزے وغیرہ سینکڑوں ویب سائٹوں پر نشر ہوتے رہے…… نام تو پروفیسر لوئی سوہن کا تھا لیکن ”کام“ بھارت کا تھا۔

پاکستان کے خلاف اور بھارت کے حق میں ڈِس انفرمیشن پھیلانے کے لئے جو بھارتی نیٹ ورک تشکیل دیا گیا اس کا نام ’سری و استاوا گروپ‘ رکھا گیا۔ اس گروپ کے ساتھ جو جعلی نشریاتی ادارے اور تنظیمیں وابستہ تھیں ان میں جعلی این جی اوز، تھنک ٹینک، نیوز ویب سائٹس، ANI نیوز ایجنسی،750 سے زیادہ جعلی میڈیا ادارے (Outlets) اور بھارت کا سارا مین سٹریم میڈیا شامل تھے۔ ان اداروں کا کہیں وجود نہ تھا لیکن ان کے ساتھ مختلف محققین، مقررین اور مبصرین کا ایک بہت بڑا گروہ وابستہ کر دیا گیا۔ ان کا رابطہ دنیا بھر کے نشریاتی اداروں کے علاوہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے سے بھی رہتا تھا۔ دنیا بھر کے ممالک کا مین سٹریم میڈیا بھی ان مقررین و مبصرین کو جانتا اور مانتا تھا۔ دنیا بھر کے اخبارات میں ان کے مضامین اور تجزیئے چھپتے تھے اور ٹی وی ٹاک شوز میں یہ سارے لوگ مدعوکئے جاتے اور پاکستان کے خلاف زہر افشانی پر مامور تھے…… ذرا اندازہ لگایئے کہ اس تمام نیٹ ورک کو منظم کرنے اور چلانے کے لئے بھارت کو کتنا بجٹ مختص کرنا پڑتا ہو گا۔ گزشتہ 15برسوں میں جب بھارت کی پارلیمنٹ میں یہ سالانہ بجٹ پاس ہوتا ہو گا تو اپوزیشن کا منہ کس طرح بند رکھا جاتا ہوگا۔ ان تمام جعلی اداروں کے نام بی بی سی کی رپورٹ میں دیئے گئے ہیں۔ یہ رپورٹ ڈِس انفولیب نے بڑی تحقیق اور جستجو کے بعد مرتب کی جسے بی بی سی نے لے کر نشر کیا۔ جی چاہتا ہے کہ اس رپورٹ کے بعض دوسرے حصوں کو بھی اپنے قارئین کے سامنے رکھوں تاکہ ان کو اندازہ ہو سکے کہ بھارت کس طرح پاکستان مخالف پراپیگنڈے میں ملوث رہا اور اس کے لئے کتنا خرچہ برداشت کرتا رہا۔ گلگت۔ بلتستان اور CPEC کے خلاف بھی اسی Lab نے کس کس طرح کے گل کھلائے۔ حال ہی میں جی بی میں جو الیکشن ہوئے ان میں بھارت نے پانی کی طرح پیسہ بہایا۔

قارئین کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اگر بھارت، پاکستان کے خلاف اس طرح کی ڈِس انفرمیشن پھیلانے کے لئے اس حد تک جا سکتا ہے تو وہ پاکستان کی حالیہ سیاست میں ہل چل مچانے اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے کیا کچھ نہ کر رہا ہو گا۔ میرا خیال ہے  ایک دن آئے گا جب بھارت کی یہ سازش بھی بے نقاب ہو گی اور اس میں جن کرداروں نے اپنا ’حصہ‘ ڈالا ان کے چہروں پر سے بھی پردہ ہٹے گا!

یہاں آخر میں یہ بات بھی ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ اگر بھارت یہ ساری حرام زدگیاں کر رہا تھا تو ہمارے ادارے کیا سو رہے تھے کہ انہوں نے 15برس تک اس پر دھیان ہی نہ دیا؟ گزشتہ 15برسوں میں جنرل مشرف، آصف زرداری، نوازشریف اور عمران خان برسراقتدار آئے۔ ان کے ادوار میں اگر ہماری ISI نے بھارت کی اس ڈِس انفرمیشن مہم کا پردہ چاک کیا تھا تو اس کا اظہار میڈیا پر کیوں نہیں کیا گیا؟……

بھارت میں آج کل کورونا کی وبا نے اودھم مچا رکھا ہے اور یہ بھارت کی پہلی فالٹ لائن ہے۔ ہمارے بعض عاقبت نا اندیش سیاست دان بھی اسی طرح کا اودھم پاکستان میں بھی مچانے پر تلے ہوئے ہیں۔ آنے والے کل کا جلسہ بھی اسی ’اودھم‘ کی ایک کڑی ہے…… بھارت میں پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں نے دہلی کے گھیراؤ کا جو منصوبہ پچھلے تین ہفتوں سے بنا رکھا ہے وہ بھارت کی دوسری فالٹ لائن ہے…… اس کی تیسری فالٹ لائن ڈِس انفولیب کی یہ رپورٹ ہے۔ بھارت کی اقتصادی صورتِ حال بھی دگرگوں ہوتی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان نے بھی بھارت کی ان فالٹ لائنوں کا فائدہ اٹھانے کے لئے کوئی ”جعلی یا اصلی جوابی ڈِس انفو پروگرام“ بنایا ہے؟…… اگر بنایا ہے تو اس کا اظہار کس بی بی سی پروگرام پر ہونے والا ہے؟

مزید :

رائے -کالم -