ہمارے لاعلاج امراض کا علاج ممکن ہے؟

ہمارے لاعلاج امراض کا علاج ممکن ہے؟
ہمارے لاعلاج امراض کا علاج ممکن ہے؟
کیپشن: syed

  

30سال ہو گئے مجھے اِس مکان میں رہتے۔ زندگی میں کبھی اتنی لمبی مدت کے لئے کسی ایک مکان میں، نہ ہندوستان میں رہا، نہ مشرقی پاکستان میں، یہاں برطانیہ جب آیا، تو دفتر اور ضرورت کی ساری دکانیں، پوسٹ آفس، بینک، ڈاکٹر،بس سٹاپ، سب ہی چند منٹ کی مسافت پر ہونے کے سبب مَیں نے اس مکان میں رہنے کا فیصلہ کیااب اتنے سال کے بعد اس علاقے میں کافی اور اچھی تبدیلیاں ہو چکی ہیں، سڑکوں پر روشنی کا انتظام بہت بہتر ہو گیا ہے۔ پہلے گیس کی سٹریٹ لائٹ ہوا کرتی تھیں، جن کی مدھم روشنی میں کالی رات اور کالی لگتی تھی۔ سڑک کی حالت بھی بہتر ہو گئی ہے ،نیز بجلی اور گیس کی سپلائی کے نظام میں بھی بڑی بہتری ہوئی ہے۔ وطن ِ مالوف سے آنے والے ایک دوست نے پوچھا کہ بجلی و گیس کی سپلائی کب بند ہوتی ہے؟ مَیں نے کہا کہ مجھے تو بس دو اتفاق ایسے ہوئے کہ ایک بار چند منٹ کے لئے پورے علاقے کی بجلی بند ہو گئی، تو سارے لوگ باہر فٹ پاتھ پر نکل آئے، مگر چند منٹ بعد بجلی آ گئی۔ اس کے علاوہ ایک بار بجلی اور گیس کے میٹر تبدیل ہوئے تو چند منٹوں کے لئے دونوں کی سپلائی بند ہو گئی۔ قدرتی آفات، یعنی تیز آندھی، بارش، بجلی کے کڑکنے اور بادل کی گرج سے کبھی کبھی بعض علاقوں میں بجلی اور گیس کی فراہمی عارضی طور پر معطل ہو جاتی ہے، مگر ذمہ داران متاثرہ لوگوں کی ہر طرح امداد کرتے ہیں، حتیٰ کہ متبادل جگہ بھی فراہم کرتے ہیں، تیس سال کا عرصہ بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے۔

اس دوران مَیں کبھی کبھی کراچی، اس علاقے میں بھی جاتا ہوں،جہاں رہا کرتا تھا، متوسط اور اس سے اونچے درجے کے افراد کا علاقہ ہے، پوچھتا ہوں کہ کن کن معاملات میں بہتری ہوئی تو جواب انتہائی مایوس کن ہوتا ہے، حالانکہ مکانات دو منزلہ سے سہ منزلہ ہوگئے ہیں، مگر سڑکیں اُسی طرح ٹوٹی پھوٹی، سٹریٹ لائٹس کا وہی فرسودہ نظام جو کبھی چلتا ہے، کبھی بند ہو جاتا ہے، بلب خراب ہو تو اہل محلہ خود ہی بدل لیتے ہیں، جس سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ اگر بجلی کی فراہمی ہو رہی ہو تو سڑکوں پر روشنی رہتی ہے۔ علاقے میں کوڑا کرکٹ کے وہی ڈھیر اور اب تو چونکہ خالی پلاٹ بھر چکے ہیں، اس لئے مسئلہ زیادہ ہو گیا ، کیونکہ پہلے تو اس خالی پلاٹ ہی کوڑا پھینک دیا کرتے تھے۔ بجلی اور گیس کا معاملہ تو افسوس ناک حد تک خراب ہے، کبھی بجلی کی بندش، کبھی گیس کی بندش، حتیٰ کہ گاڑی والوں کے لئے کبھی پٹرول کی بندش، کبھی بلکہ زیادہ سی این جی کی بندش۔ان سب حالات کے علاوہ لاشوں پر لاشیں گرتی رہتی ہیں اور اس شہر کے باسیوں کو ہر لمحہ دہشت اور خوف کے سائے میں گزارنا پڑتا ہے، بلکہ اب تو لوگ اس کے عادی ہوتے جا رہے ہیں کہ اب وہ سب رنج کے خوگر ہو گئے ہیں۔ کریں بھی تو کیا کریں؟

برطانیہ کے شہروں سے موازنہ مقصود نہیں ہے، بلکہ رونا یہ ہے کہ پاکستان کے سب سے مالا مال شہر کا کوئی پُرسان حال نہیں، یعنی ایسی ترقی جو عمومی نہیں، بلکہ جزوی ہوتی ہے، اس کی مثالیں بہت ملیں گی، نئے نئے شاپنگ مال، نئے نئے فیشن، نئے نئے دیسی اور بین الاقوامی کھانوں کے اڈے، فیشن، آرائش اور لباس کے جدید ترین فیشن اور ڈیزائن، ان سبھوں کے بڑے بڑے اشتہارات کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ غیر ترقی یافتہ علاقہ ہے، یہاں غریب بستے ہیں۔ یہاں ترقیاتی کام صرف بیانات اور اشتہارات ہی میں نظر آتے ہیں۔ بڑے بڑے خوبصورت بس سٹینڈ پر ازمنہ¿ قدیم کے ماڈل کی بسوں پر جب آپ کو چھت پر بیٹھے لوگ نظر آئیں تو آپ کو یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ چھت پر بیٹھے مسافر ہوا کھانے اوپر بیٹھے ہیں.... نہیں ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں، پورے پیسے دے کر بھی اگر انہیں چھت پر جگہ مل جائے تو اس کو غنیمت جان کر وہ گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر آتے جاتے ہیں، کیونکہ مرض لاعلاج ہے اور لاعلاج مرض کو کوئی نہیں پوچھتا۔ صبر ، صبر اور صبر۔

مزید :

کالم -