گورنر کی تنہائی

گورنر کی تنہائی
 گورنر کی تنہائی

  

پنجاب کے ایک گورنر ہوا کرتے تھے، نام ہے ان کا میاں محمد اظہر، ان کے آبائی محلے اسلام پورہ (کرشن نگر) لاہور کے لوگ ابھی تک انہیں میاں اجو کہتے ہیں، لاڈ پیار سے رکھا ہوا یہ نام خود میاں محمد اظہر کو بھی پسند ہے۔ ان کی رہائش اب لاہور کے علاقے گارڈن ٹاؤن میں نہر کنارے ہے، مگر وہ اسلام پورہ کو نہیں بھولے۔۔۔ وہ اسلام پورہ کو اس وقت بھی نہیں بھولے تھے جب بحیثیت گورنر مال روڈ پر بنے انگریز دور کے گورنر ہاؤس میں رہتے تھے، تب بھی ان کا دل چاہتا تھا کہ اسلام پورہ والے گھر میں رہیں، یہ خواہش کسی حد تک پوری کرنے کے لئے کسی رات گورنر ہاؤس سے نکلتے اور اسلام پورہ والے گھر میں شب بسری کرتے، اتنے بڑے گورنر ہاؤس میں اکیلا شخص؟ کوئی تنہائی سی تنہائی ہوتی ہے۔ یہی تنہائی اب صوبہ پختونخوا کے گورنر مہتاب احمد خان کو بھی محسوس ہوئی ہے اور انہوں نے یہ عہدہ چھوڑ کر واپس سیاست کی گہما گہمی میں آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ سیاسی آدمی ہیں، انہیں گورنر کا غیر سیاسی عہدہ بھایا نہیں۔

یہ عہدہ بھایا ہے تو سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خان کو۔۔۔ وہ 2002ء میں سندھ کے گورنر بنے اور چودہ سال بعد اب بھی گورنر ہی ہیں۔۔۔ انہیں سندھ کا سب سے کم عمر گورنر ہونے اور سب سے طویل عرصہ گورنر کے عہدے پر کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے گورنر کے طور پر صدر پرویز مشرف، صدر محمد میاں سومرو (قائم مقام) اور صدر آصف علی زرداری کے ساتھ کام کیا اور اب صدر ممنون حسین کے ساتھ کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے وزیراعظم ظفر اللہ خان جمالی، وزیراعظم چودھری شجاعت حسین، وزیراعظم شوکت عزیز، وزیراعظم محمد میاں سومرو (نگران) وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، وزیراعظم راجا پرویز اشرف اور وزیرعظم میرہزار خان کھوسو (نگران) کے ساتھ گورنر سندھ کی حیثیت سے کام کیا اور اب وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ کر رہے ہیں۔ آئینی طور پر گورنر صوبے میں مرکز کا نمائندہ اور غیر جانبدار ہوتا ہے، بلکہ اسے غیر سیاسی بھی ہونا ہوتا ہے، مگر ڈاکٹر عشرت العباد نے ایم کیو ایم سے اپنی وابستگی کبھی کسی سے نہیں چھپائی، وہ گورنر ہاؤس میں اپنی جماعت کے اجلاس کراتے رہے ہیں اور سیاسی معاملات میں اپنا کردار بھی ادا کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے کئی مرتبہ گورنر کے عہدے سے استعفا بھی دیا، مگر وہ قسمت کے دھنی ہیں، ان کا استعفا منظور نہ ہوا۔ ایک مرحلے پر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ان کے ساتھ لاتعلقی کا اظہار بھی کیا، مگر وہ گورنر کے عہدے پر برقرار رہے اور ابھی تک ہیں۔۔۔خیبرپختونخوا میں ایک موقع پر نواب عبدالغفور خان ہوتی گورنر تھے، جاگیردار تھے، نواب تھے۔ ان کے ایک بیٹے منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں بیرون ملک پکڑے گئے تو انہوں نے اسے اپنی شان کے خلاف سمجھا اور گورنر کے عہدے سے استعفا دے دیا۔ انہوں نے استعفا واپس نہیں لیا اور پشاور کا گورنر ہاؤس خالی کر دیا۔ وہ اب اس دنیا میں نہیں ،مگر اب بھی ان کی نیک نامی دنیا میں موجود ہے، لوگ اب بھی ان کا نام احترام سے لیتے ہیں، ان کی زندگی میں بھی ایسا ہی تھا۔ ان کے مستعفی ہونے کی مثال دوسروں کے لئے قابلِ غور ہے جو کرسی سے چمٹے رہنا اپنا حق سمجھتے ہیں، خواہ سڑک پر ان کے خلاف جلوس ہی کیوں نہ نکل رہے ہوں۔

اگریہ کہا جائے کہ گورنر ہاؤس رہائش گاہ کے طور پر شہر کی سب سے بڑی عمارت ہوتی ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ بنیادی طور پر یہ رہائش گاہیں انگریز گورنروں کے لئے بنائی گئی تھیں، جہاں ان کا دفتر بھی ہوتا تھا۔ اس وقت گورنر کے پاس نوآبادی حاکم ہونے کی حیثیت سے بہت سا کام ہوتا تھا، اس لئے دفتر کی ضرورت ہوتی تھی۔ اب گورنر کا کردار بہت محدودہو گیا ہے، لیکن اس کا دفتر اب بھی ہے، حالانکہ اس کی ضرورت بہت کم رہ گئی ہے۔ اب گورنر کے پاس اتنا تھوڑا کام ہوتا ہے کہ اس کا گھر میں دل لگتا ہے نہ دفتر میں۔ خاص طورپر اس صورت میں کہ وہ کوئی معروف سیاسی شخصیت ہو۔خیبرپختونخوا کے گورنر مہتاب احمد خان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے، وہ سیاسی آدمی ہیں، ہمیشہ سیاسی گہماگہمی میں رہے، گورنر ہاؤس کی خاموشی اور تنہائی سے گھبرا کر مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا، اگلا الیکشن لڑیں گے اور صوبے یا مرکز میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔مہتاب احمد خان خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ بھی رہے ہیں اور ریلوے کے وفاقی وزیر بھی۔ صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ ان کی وابستگی زیادہ تر اسی جماعت کے ساتھ رہی ہے۔ انہوں نے کبھی اور کسی بھی طرح کے حالات میں نوازشریف کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لوگ انہیں عباسی کہتے ہیں، مگر ان کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق عباسی قبیلے سے نہیں ہے۔ وہ بنیادی طور پر ایبٹ آباد کے علاقے ملکوٹ کے رہنے والے ہیں اور حلقہ این اے سترہ سے الیکشن لڑتے ہیں۔ یہ فیصلہ مسلم لیگ (ن) کرے گی کہ انہیں مرکز میں رکھنا ہے یا صوبے میں، لیکن لگتا یہ ہے کہ مہتاب احمد خان کی دلچسپی وزیراعلیٰ بننے میں ہے، کیونکہ وہ اس طرح نسبتاً زیادہ فعال سیاسی کردار ادا کر سکتے ہیں، بطور وزیراعلیٰ ان کا صوبے میں تجربہ بھی ہے۔

مزید :

کالم -