معلومات کا بروقت اوردرست استعمال

معلومات کا بروقت اوردرست استعمال
 معلومات کا بروقت اوردرست استعمال

  



ترسیلِ معلومات ایک ایسا فن ہے جس کے ذریعے بہترین کارکردگی اور موثر حکمتِ عملی کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔اس کے برعکس ترسیلِ معلومات کے عمل میں ذرا سی کوتاہی جلدبازی یا غفلت افواہ کا باعث بن کر شہر بھر کو ایمرجنسی کی صورت حال سے دوچار کر دیتی ہے۔اسکا عملی مظاہرہ راولپنڈی کے مشہور وقارالنساء کالج اوروقارالنساء ہائر سیکنڈری سکول میں دیکھنے کو ملا جب کالج کے باہر ہونے والی فائرنگ پر سیکیورٹی سائرن بجا کر کالج میں دہشت گردی کے واقعے کی اطلاع دی گئی جس سے کالج میں خوف و ہراس پھیل گیا۔کالج کے باہر ہونے والی فائرنگ سے اندازہ لگایا گیا کہ کچھ دہشت گرد شاید کالج پر حملہ کر چکے ہیں اِس غلط اندازے کی بنیاد پر جو معلومات انتظامیہ کو دی گئی اور انتظامیہ نے مزید اعلان کے ذریعے جو ہدایات طلباو طالبات کو دیں اس سے ضلع بھر میں کہرام مچ گیا حکومت کی ساری مشینری حرکت میں آگئی سیکیورٹی اور سیفٹی کے تمام اداروں کا رُخ کالج کی طرف ہو گیا۔ میڈیا نے بھی موجودہ حالات کی پیشِ نظر اور بریکنگ نیوز کی دوڑ میں دہشت گردی کی خبر کو موضوع بنایا جس کی وجہ سے والدین شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر کالج اور سکول کی طرف اپنے بچوں کی خیریت دریافت کرنے کے لئے زارو قطار روتے ہوئے پہنچے۔کالج کی طالبات نے اپنی آنکھوں سے کسی دہشت گرد کو نہیں دیکھا تھا، لیکن پھر بھی خوف وہراس کا یہ عالم تھا کہ وہ کسی نہ کسی سے فون لے کر اپنے گھر اطلاع دے رہی تھیں کہ ان کے کالج میں دہشت گرد گُھس آے ہیں آپ ہمیں جلدی لینے آ جائیں۔ کچھ طالبات نے اپنے آپ کو بچانے کی لئے کالج کو دیوار پلانگ لی اور اس دوران اُن کے بیگ اور شوز کالج میں رہ گئے۔ طالبات نے نزدیکی گھروں میں پناہ لی۔اگر غور کیا جائے تو اِس تمام واقع کی سبب ایک معلومات کو سمجھے بغیر آگے پہنچانا اور اِس طرح پہنچانا کہ اُس کے بعد مزید اعلان یامعلومات بھی طلباوطالبات کی لئے کارگر ثابت نہ ہوئی۔

جہاں غلط افواہ اساتذہ وطالبات اور والدین کے ذہنی دباؤ کا سبب بنی وہاں اِس افواہ کی وجہ سے تمام متعلقہ اداروں کے باہمی ربط اور ایمرجنسی کے لئے تیاری کی حوصلہ بخش صورت حال بھی سب کے سامنے آئی۔یہ بات خوش آئند ہے کہAPS پشاوراور باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں ہونے والے دہشت گردی کے المناک واقعات نے تمام حکومتوں اورحکومتی اداروں کو دہشت گردی کے خلاف متحد کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گورنمنٹ کے اداروں کی امن کے ایام میں مشترکہ کاوشیں ایمرجنسی کال پر بروقت رسپانس کی صورت میں سامنے آئیں۔ ریسکیو 1122 نے کالج سے 3000 طالبات کو جبکہ ہائر سیکنڈری سکول سے 400 طلبا و طالبات بشمول بچوں کا محفوظ ہنگامی انخلاء ممکن بنایا،جبکہ بھگدڑ کی وجہ سے زخمی ہونے والی 05 طالبات کو جائے حادثہ پر ابتدائی طبّی امدادجبکہ 03 بے ہوش طالبات کو میڈیکل ٹریٹمنٹ دینے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اس کے علاوہ ریسکیو1122 نے کالج کی لیکچررز کو ساتھ لے کر قریبی تمام گھروں میں خوف سے چھپی ہوئی طالبات کو ریسکیو کیا اور والدین سے رابطہ یقینی بنوایا۔ مزید براں ریسکیو 1122 نے وقارالنساء کالج اوروقارالنساء ہائر سیکنڈری سکول میں انفارمیشن ڈیسک قائم کئے، جس کو ریسکیو 1122کے کنٹرول روم سے منسلک کیا گیا تا کہ اگر کسی طالب علم کی اطلاع نہیں مل رہی تو ریسکیو کے کنٹرول روم کے ذریعے ہسپتالوں میں پتہ کروا کر سکول انتظامیہ کو بر وقت انفارمیشن دی جا سکے اور والدین کو بھی با آسانی اپنے بچوں تک رسائی ہو۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ترسیلِ معلومات کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہر ادارے کے اندر معلومات کی فراہمی کا کام کسی زمہ دار اہلکار کوسونپا جائے اور ایمرجنسی / ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی منصوبہ بندی کی فرضی عملی مشقیں کی جائیں، جس طرح پشاور کے سانحات کے بعد حکومتِ پنجاب کی ہدایات پر ریسکیو1122 اور سیکیورٹی ادارے مل کرپنجاب کے تمام تعلیمی اداروں کی استعدادِ کار بڑھانے کے لءئے کوشاں ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں دہشت گردی کے خلاف تمام ممکنہ ایمرجنسی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ اداروں کی باہمی مشاورت سے ڈزاسٹر مینجمنٹ پلان ترتیب دیا جاتا ہے۔ ایمرجنسی کمیونیکیشن (دورانِ ایمرجنسی ترسیلِ معلومات)، عمارتوں میں ہنگامی صورت حال کے لئے محفوظ مقامات کا تعین ، ہنگامی انخلا کی منصوبہ بندی اور ایمرجنسی پریپئرڈننس کٹ اور سکولوں کے ایمرجنسی پلان کی جانج پڑتال ڈزاسٹر مینجمنٹ پلان کے اہم جزوی پلان ہیں۔پاکستان میں ڈسٹرکٹ ڈزاسٹر مینجمنٹ پلان سرکاری سطح پر بنایا جاتا ہے جس میں موجودمختلف متعلقہ اداروں کی معلومات ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی صورت حال سے موثر طریقے سے نبرد آزما ہونے میں مدد دیتی ہے ۔اگران پلانز کے مطابق فرضی مشقیں بار بار کروائی جائیں تو کسی بھی ایمرجنسی یا ڈیزاسٹر کی صورت میں مقامی لوگ اپنے حواس کو قابو رکھتے ہوئے بھگدڑ مچائے بغیر پہلے سے متعین کئے گئے محفوظ مقامات پر منتقل ہو سکتے ہیں۔

وقارالنساء کالج اوروقارالنساء ہائر سیکنڈری سکول میں دہشت گردی کی افواہ کے واقعے نے معلومات کو ذمہ داری سے منتقل کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی واضح ہوئی کہ ایسی ہنگامی صورت حال میں درست معلوماتاورتصدیق شدہ ہدایات لاوڈ سپیکر کے ذریعے ادارے کے تمام لوگوں تک پہنچائی جائے تاکہ ہنگامی صورت حال سے بچا جاسکے۔ مزید براں ترسیلِ معلومات کی درست اور بر وقت فراہمی کویقینی بنا کر کسی حادثے کو سانحے میں تبدیل ہونے بچایا جا سکتا ہے۔

اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے دو چار ہونے سے بچائے! آمین

مزید : کالم