حامد میر کے نام پروفیسر خورشید احمد کا خط

حامد میر کے نام پروفیسر خورشید احمد کا خط
 حامد میر کے نام پروفیسر خورشید احمد کا خط

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پروفیسر خورشید احمد پاکستان کے معروف سیاست دان اور دانشور ہیں۔ صاحبزادہ یعقوب علی خان کے متعلق ان کا ایک خط موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے کچھ اہم تاریخی حقائق بیان کئے ہیں۔ ان حقائق پر غور کرنے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ افغانستان میں عدم استحکام کی کیا وجوہات ہیں اور اس سلسلے میں امریکہ اور پاکستان نے ماضی میں کیا غلطیاں کیں۔ پروفیسر خورشید احمد کا خط پڑھئے اور سوچئے کہ کہیں آج بھی ہم افغانستان کے معاملے پر اپنی پرانی غلطیاں تو نہیں دہرانے والے؟
برادر عزیز و مکرم حامد میر صاحب
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
امید ہے آپ کا مزاج بخیر ہو گا
میری طبیعت کافی عرصے سے ناساز ہے اور اس وقت بھی یہاں انگلستان میں زیر علاج ہوں۔ ٹی وی اور اخبارات سے ملک عزیز سے ربط قائم ہے۔محترم صاحبزادہ یعقوب علی خان کا انتقال ایک قومی سانحہ ہے اور ذاتی طور پر بھی اس غم کو دل کی گہرائیوں میں محسوس کرتا ہوں کہ ان سے تعلقات اور رشتہ احترام و اعتماد نصف صدی پر پھیلا ہوا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ نے 28جنوری کو ان پر بڑا بھرپور اور مفید پروگرام کیا۔ یہ اور اس سے بھی کہیں زیادہ ان کا حق ہے اور مجھے دکھ ہے کہ دوسرے چینلز نے اس حق کے ادا کرنے میں بڑے بخل سے کام لیا ہے۔


جنیوا معاہدہ کے مسئلہ کو آپ نے بجا طور پر اس پروگرام میں مرکزی اہمیت دی اور برادرم اکرم ذکی اور برادرم فاطمی صاحبان نے اس پر مناسب روشنی ڈالی لیکن چونکہ میں خود اس معاملہ میں ذاتی طور پر شریک تھا اور اس معاہدہ کو برادرم محمد خان جونیجو صاحب اور ان کے وزیر خارجہ اور دوسرے رفقائے کار کی ہمالیہ سے بڑی غلطی سمجھتا ہوں اس لئے چند حقائق آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں۔ وماعلینا الاالبلاغ


آج افغان جہاد اور اس کے مضمرات کے بارے میں جس کا جو دل چاہتا ہے گوہر ا فشانی کرتا ہے اور بلاشبہ ہر شخص کو اپنی رائے قائم کرنے اور اس کے اظہار کا حق ہے لیکن انہیں تاریخی حقائق اور پالیسی کے اہم امور اور دلائل دونوں سے اتنی بے اعتنائی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔


جنیوا معاہدہ پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بحث ہوئی تھی اور میری تقریر سینیٹ کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ پارلیمنٹ کے ارکان کی بریفنگ کے لئے بھی ان کیمرہ اہتمام کیا گیا تھا اور اس میں اصل Presentatorمرحوم جنرل حمید گل صاحب تھے جس کو جونیجو صاحب نے درمیان میں Abraptly interceptکرکے رکوادیا تھا جس پر ہم نے احتجاج بھی کیا تھا۔ اس Presentationمیں جو دلائل اور حقائق بڑے محکم انداز میں پیش کئے جارہے تھے وہ جونیجو صاحب کی خواہش کے خلاف تھے اور ارکان پارلیمنٹ پر اس کا گہرا اثر دیکھا جا رہا تھا۔


مجھے برادرم جونیجو صاحب کی نیت اور وطن سے وفاداری کے بارے میں کوئی شک نہیں۔ میں نے ان کے ساتھ کابینہ میں پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کی حیثیت سے کام کیا ہے اور وہ ہمیشہ میرا بڑا احترام کیا کرتے تھے اور مشورہ کرتے تھے بلکہ متعدد امور پر اختلاف کے باوجود بڑی فراخدلی سے میری رائے کو قبول کیا حتیٰ کہ جب ان کے اور پرنس محی الدین صاحب کے درمیان کچھ امور پر اختلاف ہوا تو مجھ سے رجوع کیا اور میری رائے کو دونوں نے تسلیم کیا ، البتہ جینوا معاہدہ کے سلسلے میں ان کے موقف کو سراسر غلط اور ملک اور پورے علاقے کے لئے تباہ کن سمجھتا تھا اور سمجھتا ہوں مگر ان کی نیت پر شبہ نہیں کرتا۔ ان کو غلط مشورہ دیا گیا۔ ان کو خود ان معاملات کا وہ ادراک نہیں تھا جو ایک وزیر اعظم کو ہونا چاہئے اور وہ ملک کو مارشل لاء اور فوج کی بالا دستی کے نظام سے نکالنے میں جلدی میں تھے جس کا دوسروں نے فائدہ اٹھایا۔ جو بات میں ان کے لئے اپنے ذاتی علم اور تجربہ کی بنا پر کہہ رہا ہوں وہ اس وقت کے وزیر خارجہ اور دوسرے مشیروں کے بارے میں نہیں کہہ سکتا۔


محترم صاحبزادہ صاحب ان معاملات پر بے حد مضطرب، پریشان اور دل گرفتہ تھے۔ مجھ سے بار بار تفصیل سے بات چیت کی اور ہم دونوں ایک ہی Wave lengthپر تھے لیکن بڑے دکھ سے بیان کرنا چاہتا ہوں کہ وزیر اعظم صاحب نے ان کی رائے کو کوئی وزن نہ دیا۔ حد یہ ہے کہ جنیوا معاہدہ کا اصل مسودہ بھی ان کو نہ دیا گیا۔ دفتر خارجہ کے لوگ بلاشبہ ان کا بہت احترام کرتے تھے لیکن ان میں یہCourtesyنہیں تھی کہ اپنے سابق وزیر خارجہ کو وہ مسودہ دے سکیں۔ معاہدہ کے مسودہ کی کاپی میں نے ان کو دی۔ پارلیمنٹ کے اس مشترکہ اجلاس کے دن وہ سارا دن لابی میں حیران و پریشان پھرتے رہے اور اس پارلیمنٹ کی راہداری میں میری اور ان کی تین بار ملاقاتیں ہوئی میں نے ان کو کبھی اتنا متفکر نہیں پایا۔


اب اصل مسئلہ کو لیجئے جنیوا معاہدہ افغانستان میں تنازع کے اصل فریقوں کے درمیان نہیں تھا بلکہ ان کو Side stepکرکے کیا جارہا تھا۔ تحریکات ا?زادی میں حکومت وقت اور مزاحم قوتوں کا کردار اصل ہوتا ہے۔ جنیوا معاہدہ میں اصل کردار اقوام متحدہ، روس، امریکہ اور پاکستان کی حکومتوں کا تھا مگر مسئلہ کے اصل فریق اس میں Involvedبھی نہ تھیجس نے سارے مجوزہ انتظام کو صرف روس اور امریکہ کے مذاکرات کے تابع کردیا۔ پاکستان اور افغان عوام اور مجاہدین کے مفاد کو یکسر نظر انداز کردیا گیا۔


ہم نے بار بار متوجہ کیا اور صاحبزادہ صاحب اس میں پیش پیش تھے اور یہی موقف جنرل ضیاء4 الحق کا اور آئی ایس آئی کا تھا کہ اصل مسئلہ صرف روسی فوجوں کے انخلاء کا نہیں۔ بلاشبہ وہ بہت ہی اہم اور اولین ضرورت ہے مگر یہEssentialیاSufficientنہیں ہے۔ دوسرا مرکزی مسئلہ جو شاید سب سے اہم افغانستان میں حکمرانی کے نئے بندوبست کا ہے اور اس کے طے کئے بغیر فوجوں کا انخلاء نئے مصائب کا باعث ،خانہ جنگی کا سبب اور پورے علاقے کے لئے تباہی کا باعث ہوگا اور سب سے زیادہ پاکستان کے لئے مسائل پیدا کرے گا جس کی زمین پر اس وقت تیس سے چالیس لاکھ افغان مہاجر موجود تھے۔ ہمیں یقین تھا کہ کابل میں نئے اور اصل فریقین کے درمیان سیاسی انتظام کے بغیر نہ افغانستان میں امن آسکتا ہے اور نہ پاکستان سے مہاجرین کی واپسی ممکن ہوگی۔
آزادی کی تحریکات کی پوری تاریخ پر نظر ڈال لیجئے۔ متبادل سیاسی انتظام کے بغیر کہیں بھی صحت مند تبدیلی نہیں آئی۔ نیا انتظام تحریک آزادی کے معاہدہ کا Integral partہوتا ہے۔ افریقہ اور ایشیا کے ان تمام ممالک کی تاریخ دیکھ لیجئے جہاں عسکری مزاحمت کے ذریعہ آزادی کی تحریک آگے بڑھتی رہی۔ متبادل انتظام، اصل مزاحم قوت کو شریک اقتدار کرنے اور اقتدار کی منتقلی کے لئےMechanismکے بغیر کبھی بھی عسکری تصادم کو سیاسی انتظام میں تبدیل نہیں کیا جاسکا۔ صحت مند تبدیلی کو دوام صرف اسی وقت ہوا جب مسلح بغاوت کرنے والوں کو سیاسی عمل کا حصہ بنایا گیا اور نیا رول دیا گیا۔ تصادم سے تعمیر نو کی طرف مراجعت اور نئے نظام کے قیام اور استحکام کے لئے یہ سب بہت ضروری ہے لیکن جنیوا معاہدہ میں ان تمام پہلوؤں کو یکسر نظر انداز کیا گیا اور افغانستان میں تصادم، خلفشار اور خانہ جنگی کے جاری رہتے ہوئے پاکستان کے لئے آزمائش اور جو کچھ حاصل ہوا تھا اس کو نہ صرف خاک میں ملانے بلکہ نئی دشمنیاں پیدا کرنے اور دوستوں کو دشمنوں میں اور محسنوں کو مخالفین میں تبدیل کرنے کا نسخہ تھا جس پر اس وقت کی قیادت نے امریکی اور روسی منصوبہ میں شریک کار بن کر فاش غلطی کی اور آج تک اس کے نتائج کو پاکستان اور افغانستان دونوں مظلوم قومیں بھگت رہی ہیں۔


اگر آج کی قیادت اور دانشور بھی صاحبزادہ یعقوب صاحب اور دیگر دوسرے افراد کے موقف کو تعصب اور بغض سے بالاتر ہو کر سمجھنے کی کوششیں کریں تو اس میں بڑا خیر ہے اور جن حالات سے ہم اس وقت دو چار ہیں ان سے نکلنے کے لئے جن نئے خطوط کا ر کو مرتب کرنے کی ضرورت ہے ان کے لئے بھی اس میں کچھ رہنمائی موجود ہے۔مَیں اپنی صحت کی خرابی کے باعث دو ماہ سے ترجمان القرآن کے اشارات بھی نہیں لکھ سکا ہوں، لیکن آپ کے کیپٹل ٹاک کے اس پروگرام نے مجھے اتنا Moveکیا کہ بے ساختہ اپنے جذبات ا ور احساسات میں آپ کو شریک کرلوں۔
اللہ تعالیٰ آپ کا اور ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
والسلام۔۔۔ آپ کا بھائی۔۔۔خورشید احمد
(بشکریہ : روزنامہ ’’جنگ ‘‘)

مزید :

کالم -