آ ؤ تصویر مکمل کریں۔۔۔۔۔

آ ؤ تصویر مکمل کریں۔۔۔۔۔
آ ؤ تصویر مکمل کریں۔۔۔۔۔

  

آ پ اپنے وژن اور تجزیے کی ٓ نکھ سے چھو ٹی سے چھوٹی خبر اور اس سے جڑے نئے امکا نات تک پہنچ جاتے ہیں ہر منظر ،ہر خبر اور ہر معا ملہ غو رو فکر کے بعد اپنے اندر جہانِ معنی کا پتہ دیتا ہے، ہم مشا ہدے کی عا دت بنا ئیں تو ہمیں تو و قو ع پذیر ہو نے والے اکثر وا قعات کا آپس میں گہرا تال میل نظر آ ئے گا۔رو زانہ میں اپنے گھر میں دفتر آنے سے پہلے اخبارات کا سر سری مطا لعہ کر کے آتا ہوں، چھپنے والی خبریں ہماری اجتما عی معاشرت کا آ ئینہ دار ہو تی ہیں، روزگار چونکہ خبر کے کا روبار وا بستہ ہے سو چارو نا چار پا کستانی معا شرت، سیا ست اور معیشت کے ما ضی ،حال اور مستقبل میں جھا نکنے کا مو قعہ ملتا رہتاہے۔نمو نے کے طور پر کچھ خبریں آپ کو پیش کر رہا ہوں (چوں کہ پو ری قوم کئیدہا ئیوں سے اجتماعی قربانی دے رہی ہے لہذا ان خبروں کو پڑھ کر جس کیفیت سے میں گزرتا ہوں لازم ہے آپ بھی اس میں شریک ہوں)

سکندر آباد: شو ہر نے فا ئرنگ کر کے بیوی اور ساس کو قتل کر دیا۔۔۔اس خو نخوار مردانہ معا شرے میں پہلے عورت کی برا بری کے حق کا قتل ہو تا ہے پھر اس کے بنیا دی حق تعلیم کا قتل، پھر معا شر ے کی سنگین روایتوں کے پہرے اس کے حقِ آ زادی کو سلب کرتے ہیں، اپنی پسند اورنا پسند سے شادی کر نے کے حق کا قتل، شا دی کے بعد مجا زی خدا ؤں کے ہا تھوں اپنی انا اور خو دی کا قتل۔۔۔۔۔ اگر عو رت اس معا شرے میں ان سمجھوتوں سے انکار کرے تو پھر کو ئی شو ہر فا ئرنگ کر کے بیوی اور ساس کا قتل کر دے ۔۔۔گو یا گڑی ہیں کتنی صلیبیں مرے دریچے میں!

ساتھ ہی ایک خبر چھپی ہے۔۔جتو ئی: جنسی ذیا دتی کا شکار خا تون کو جان کا خطرہ، خا ندان در بدر،سر پنچوں کی صلح کیلئے دھمکیاں!

واہ رے خا دمِ اعلیٰ! جنسی زیا دتی کے شر مناک اور بہیما نہ واقعا ت کے بعد آپ فوری طور پر اس علاقے کا رخ کر تے ہیں، ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کا اعلان، متا ثرین کی ما لی امداد اور متعلقہ ڈی۔پی۔او کو معطل کر نے کی آپ شہرت رکھتے ہیں، یہ ہے آ پ کی اصل گڈ گور نینس کا چہرہ۔۔۔جتو ئی: جنسی ذیا دتی کا شکار خا تون کو جان کا خطرہ، خا ندان در بدر،سر پنچوں کی صلح کیلئے دھمکیاں! نجا نے کیوں خادم اعلیٰ یہاں فو ٹو سیشن کرا نے نہیں پہنچے!

خیر پور ،سندھ: ہسپتال میں ڈاکٹر نہ ہو نے کے سبب کتوں کے کا ٹنے پر بچی جاں بحق! خیر پور وزیرِ اعلیٰ سندھ کا آ با ئی شہر ہے انکو کیا خبر انکے آ با ئی حلقے میں کیا ہو رہا ہے، آ پ ویسے بھی آج کل شہرِ کرا چی میں سیوریج کے گٹروں سے ابلتے گندے پانی کی سیا ست کا شکار ہیں، کتے کے کا ٹنے کی خبر سے مجھے یاد آ یامیں خود بھی کچھ عر صہ پہلے خیر پور میں عوا می مسا ئل کو کیمرے کی آ نکھ سے ریکارڈ کرنے گیا تھا، پا گل کتوں کے کا ٹنے سے یہ جاں بحق ہو نیوالی پہلی بچی نہیں ہے، ایک معصوم بچی شہنیلاصبح سویرے اپنی بستی سے بہت دور سکول جاتے ہو ئے پا گل اور خو نخوار کتوں کے کاٹنے سے مو قع پر جا ں بحق ہو گئی تھی، وزیرِ اعلیٰ قا ئم علی شاہ صا حب اس گا ؤں میں گئے پرائمری سکول کا اعلان کیا مگر 4 سال ہو گئے اس گا ؤں میں شہنیلا بی بی کی یا د میں سکول نہ بن سکا (قا ئم علی شاہ کی اپنی بیٹی آ کسفورڈ یو نیورسٹی سے پڑھی ہیں اور انکا تھیسز بھی سندھ میں غربت ،پسماندگی اور عز ت کے نام پر کا رو کاری کے کاروبارپر ہے)، میں اس بستی میں گیا ہوں یہاں زند گی شرمناک سطح پر کھڑی ہے، اس خدا کی بستی کے با سی نسل در نسل ہیپا ٹا ئٹس کی جا ن لیوا بیماری میں مبتلا ہیں، پانی میں آ ر سینک کے مہلک ذرات اسے نا قا بلِ استعمال بنا چکے ہیں۔ خیر پور شہر میں بے نظیر بھٹو صا حبہ نے پہلے دورِ حکو مت میں صاف پانی کا منصو بہ منظورکیا تھا مگر آ ج بھی یہ منصو بہ مکمل نہیں ہو سکا ، پا نی کا یہ تا لاب وزیرِ اعلی سندھ کے گھر سے چند قد موں کی دوری پر ہے، تھر میں حا لیہ ہلا کتوں پر کچھ پیپلز پا رٹی رہنما ؤں نے سازش کا گمان ظا ہر کیا ہے تو میں اس پا گل کتوں کے کا ٹنے والی خبر کو یہیں پر چھو ڑ دیتا ہوں۔اگلی خبر پر نظر جا ٹھہری! ملکوال: ریلوے اسٹیشن پر ملت ایکسپریس کی تین بو گیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔۔۔۔پورا ملک اپنی تمام تر بو گیوں کے ساتھ گزشتہ اڑ سٹھ سالوں سے پٹڑی سے اترا ہوا ہے، اس ملک نے بڑے بڑے آ مروں کا دور دیکھا ہے پھر اسے وقفے وقفے سے جمہوری با ریاں بھی ملتی رہی مگر نتیجہ وہی کا وہی ہے، اس کے بعد ہی ہم اس فن میں کمال پر پہنچے کہ ’’عوام‘‘ مو جو دہ آ رمی چیف کے تو سیع نہ لینے کے اعلان کے بعد بھی عدا لتوں اور سڑکوں پر آتے نظرآ رہے ہیں

اس کے بعد میری نظر ایک اور خبر پر ٹھہری ۔۔۔کراچی: پو لیس مقا بلہ، کالعدم تحریک طالبان کا ڈکیٹ ہلاک

طا لبان کے ساتھ ڈکیٹ کا لفظ پہلی دفعہ سنا ہے، اچھا ہے ، مگر طا لبان نے دین میں جہاد کی اپنی تشریح کا جو ڈا کہ ڈالا ہے پتہ نہیں ہمارے علماء اسے کب بے نقاب کریں گے،پو لیس تو اپنا کام کر رہی ہے مگر ممبر و محراب کے ذمہ نئے بیا نیہ کی تشکیل کا کام ابھی تک شروع بھی نہیں ہو سکا۔

گزشتہ دنوں ایک اخبار میں چھپی تصویر دیکھی منظر کچھ یوں ہے۔۔۔ایک مزدور سکول کی دیوار پر خاردار باڑ لگا رہا ہے۔ہما ری علمی حالت پہلے ہی کا فی پتلی ہے اب بندوق اور دہشت کے سا ئے تلے علم پاتے بچوں کو خو ف کی نفسیات لے کر جدید دنیا کا مقا بلہ کرنا ہے۔گو یا بد ترین دشمن ہمارے مستقبل پر حملہ آ ور ہے۔ اس خبر کے سا تھ ہی مولانا فضل الر حمٰن کا بیا ن چھپا ہے،’’ادارے چا ہتے ہیں مولوی جذ باتی ہو کر قا نون کے شکنجے میں آ جا ئیں، جہاد والا نہیں جمہو ریت والا اسلام چا ہتے ہیں‘‘ مو لانا بڑے بلا کے معا ملہ فہم مذ ہبی لیڈر ہیں، معا شر ہ دہا ئیوں سے مو لویوں کے شکنجے میں ہے،قا نون اپنی کو شش کر لے اسے پتہ لگ جائے گا کہ مو لوی کے مقا بلے میں یہ کس کھیت کی مو لی ہے، رہی جمہو ریت والے اسلام کی بات تو پا کستان کا بننا خا لصتاً جمہوری جدو جہد کا نتیجہ تھا اور مو لانا مو صوف کے ولد مو لانا مفتی محمود نے اسمبلی کے فلور پر کہا تھا ہم پا کستان بننے کے گناہ میں شا مل نہیں تھے

ہمیشہ شرافت کی سیا ست کی،نہ مال بنا یانہ زمینوں پر قبضہ کیا: قا ئم علی شاہ

سا ئیں جی کی سرکار میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہو گا، ہم پا کستانی اور خصو صاً سند ھی اس پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ آپ کی جمہوریت میں نہ ہی مال بنایا گیا اور نہ ہی زمیوں پر قبضے ہو ئے جبھی تو دیس کا ہر بلاول مقروض ہے اور پا ؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے ، رہا پیپلز پارٹی کی شرافت کی سیا ست کے چال چلن کاسوال تو حبیب جالب نے بھٹو صا حب کے زما نے میں ایک نظم لکھی تھی۔۔۔۔قصرِ شا ہی سے یہ حکم صادرہوا، لاڑکانے چلو ورنہ تھانے چلو۔۔۔ایک اور خبر ہے گز شتہ دنوں کا فی گرم مو ضوع تھا’’خور شید شاہ اور رحمان ملک کے خلاف کرپشن کی فا ئلیں کھل گئیں‘‘۔۔۔۔اس خبر میں چو ہدری نثار کی مر ضی اور چیئر مین نیب کی تا ئید کے بعد کار روائی اشارہ ہے ، اس حکو مت نے اپنی آ دھی مدت اقتدار گزار لی گو یاکی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

ہا ئے اس ذود پشیماں کا پشیماں ہو نا

اگر یہ کرپشن کے مقد مات صحیح ہیں تو بیچا رے پاکستانیوں کے ساتھ اس سے بڑی بد دیانتی ہو نہیں سکتی کہ جان بو جھ کر ان مبینہ ملزمان کے ساتھ نر می بر تی گئی،حکو مت اور اپو زیشن کے در میان اس وقت ’’ مک مکا کی خبر دینا‘‘ بذات خود حکو مت کے خلاف چارج نہیں؟ حکو مت کو اس طر زِ عمل سے شا ید سیا سی فا ئدہ تو مل جا ئے مگر پنجاب کے خلاف پہلے سے مو جود مقدمے میں ایک نئی گا لی اضا فہ ضرور ہو گا۔

حکو متِ پنجاب بھی نجکا ری کے کھیل کھیل میں کہیں پیچھے نہ رہ جائے خبر ہے کہ ’’5550 سکو لوں کی نجکا ری کا پلان، اسا تذہ ڈٹ گئے‘‘ جس سرکار نے تعلیم جیسی بنیادی سہو لت اور حق عام کر نا ہے وہ سکول پر ا ئیویٹ شعبے کو سو نپ رہی ہے، خسا رے اور بد نظمی سے دو چار قومی اداروں کے بعد جب ہم تعلیم اور صحت جیسے شعبے بھی نجی شعبے کو سونپ دیں گے تو غریب اور مفلوک الحال لوگوں کو کہا ں جائے اماں ملے گی ؟ خراب کارکردگی اور وسائل کا ضیاع اگر نجکاری کی بنیاد ہے تو سب سے پہلے ہمیں اس ملک کی قیادت کو پرائیوٹائز کرنا چاہیے جس کی عین ناک کے نیچے نہ تو امن میسر ہے نہ بازار اور مارکیٹ کے منا فع خور طبقات حکومت کے کنڑول میں ہیں ، نہ تو سماجی مساوات کا چال چلن ہے اور نہ ہی ملک عدل و انصاف کی ڈگر پر۔۔اسطرح کے اقدامات سے ملک میں قائم اندھیروں کی مدت مزید بڑھ گئی ہے

یہ چھوٹے چھو ٹے منظر مل کر ہما رے اجتما عی معا شرے کی منظر کشی کر رہے ہیں، اس سب کے لیے آپ کابڑ ا ماہرِ نجوم ہو نا ضرو ری نہیں اگر آپ غو رو فکر کریں اور کڑی سے کڑی ملائیں تو اپنے مستقبل سے حال میں ملا قات کر سکتے ہیں

احمد ابو بکر : مصنف دنیا ٹی وی کر پرو گرام’’آن دی فرنٹ‘‘ کے پرو ڈیو سر ہیں اور پا کستان میں سیا ست، معیشت اور معا شرت کو بہت گہری نظر سے دیکھنے کا تجر بہ رکھتے ہیں

مزید :

بلاگ -