شام سے ایسی خفیہ تصاویر منظر عام پر آگئیں کہ دیکھ کر کسی کا بھی خون کھول اٹھے

شام سے ایسی خفیہ تصاویر منظر عام پر آگئیں کہ دیکھ کر کسی کا بھی خون کھول اٹھے

  

جنیوا(مانیٹرنگ ڈیسک) شام کے مسلمانوں کی بدقسمتی کا عالم دیکھئے کہ ایک جانب داعش نے قیامت برپا کررکھی ہے تو دوسری طرف صدر بشارالاسد کے مظالم کی ایسی ایسی داستانیں سامنے آرہی ہیں کہ جنہیں سن کر روح کانپ اٹھتی ہے۔

یورپی شہر جنیوا میں ایک طرف خوبصورت محلات کے پر آسائش کمروں میں شام کے تنازعے کے حل کے لئے عالمی رہنماﺅں کی ملاقات جاری ہے، تو دوسری طرف اسی شہر میں شامی باشندوں کی لاشوں کی لرزا دینے والی تصاویر ہیں، جنہیں مبینہ طور پر صدر بشارالاسد کی جیلوں میں تشدد اور بھوک نے ہلاک کر دیا۔

ان تصاویر کی نمائش ”سیرین آرگنائزیشن فار وکٹمز آف وار“ نامی ادارے نے کی ہے، جن کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر ان 55ہزار تصاویر میں سے چند ہیں جو شام سے خفیہ طور پر بیرونی ممالک منتقل ہوئیں۔ ادارے کے مطابق یہ تصاویر ایک ملٹری فوٹوگرافر نے بنائی تھیں، جو اب اپنی جان بچانے کے لئے شام سے فرار ہوچکا ہے۔

مزید جانئے: راستہ کھلنے کا کوئی امکان نہیں، مہاجرین کو واپس کیمپوں میں جانا ہوگا :یونان کا اعلان

انسانیت کا مذاق اڑاتی اور بے رحمی اور درندگی کی تصویر کشی کرتی ان تصاویر میں نیم برہنہ افراد کی لاشیں بکھری نظر آتی ہیں جن میں سے کسی کا جسم لہولہان ہے تو کوئی بھوک کی وجہ سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا ہے۔ یہ تصاویر سامنے آنے کے بعد ایک دفعہ پھر یہ سوال پوچھا جارہا ہے کہ شام کے مظلوم عوام جائیں تو کہاں جائیں، ایک طرف دہشت گرد ان کی زندگی کے درپے ہیں تو دوسری طرف بشارالاسد کی حکومت نے ظلم کی انتہا کردی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شام سے ملنے والی 55ہزار افراد کے قتل کی تصاویر کے تجزئیے اور تحقیق کے بعد ان میں سے 11ہزار افراد کے قتل کی تصدیق کی جاچکی ہے۔

مزید :

عرب دنیا -