’تمہیں طلاق تو مل جائے گی لیکن۔۔۔‘ کمرہ عدالت میں جج نے ایسی بات کہہ دی کہ خاتون کی چیخیں نکل گئیں، زبردستی کمرے سے باہر نکالنا پڑگیا کیونکہ۔۔۔

’تمہیں طلاق تو مل جائے گی لیکن۔۔۔‘ کمرہ عدالت میں جج نے ایسی بات کہہ دی کہ ...
’تمہیں طلاق تو مل جائے گی لیکن۔۔۔‘ کمرہ عدالت میں جج نے ایسی بات کہہ دی کہ خاتون کی چیخیں نکل گئیں، زبردستی کمرے سے باہر نکالنا پڑگیا کیونکہ۔۔۔

  

لندن (نیوز ڈیسک)طلاق کا انجام یوں تو کسی کے لئے بھی خوشگوار نہیں ہوتا لیکن برطانیہ میں ایک بدقسمت خاتون کو تو طلاق کا ایسا بھیانک نتیجہ دیکھنا پڑ گیا کہ بیچاری پر عدالت میں ہی ہذیانی کیفیت طاری ہو گئی اور بے قابو ہو کر پاگلوں کی طرح چیخنے چلانے لگی۔

دی مرر کی رپورٹ کے مطابق46 سالہ ڈورین کراتھر اور ان کے خاوند رابرٹ کے درمیان نو سال قبل طلاق ہوئی۔ ڈورین نے ایک قیمتی گھر اپنی والدہ سے ورثے میں ملنے والی رقم سے خریدا تھا اور ان کی ماں کی آخری خواہش تھی کہ ڈورین اپنے سابقہ خاوند رابرٹ کو اس میں سے کچھ بھی نہ دے۔ دوسری جانب رابرٹ کی نظر بھی اسی گھر پر تھی۔ اس نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا کہ اسے بھی گھر میں سے حصہ دلوایا جائے۔ رابرٹ کا مقدمہ کورٹ آف اپیلز کے سامنے پہنچا تو ڈورین کو بتایا گیا کہ اسے گھر بیچنا پڑسکتا ہے تاکہ وہ رابرٹ کو اس کا حصہ ادا کر سکے۔ یہ بات سنتے ہی ڈورین غصے سے آگ بگولا ہوگئی اور عدالت میں ہی رابربٹ پر برس پڑیں۔ اس صورتحال پر جج صاحبان بھی پریشان ہوکر اپنے چیمبر میں چلے گئے اور سکیورٹی اہلکاروں کو حکم دیا گیا کہ وہ ڈورین کو زبردستی کھینچ کر عدالت سے باہر لے جائیں۔

بیگم سے چھپ کر آدمی کی دوسری شادی لیکن ایک غلطی ایسی کر بیٹھا کہ فوراً ہی رنگے ہاتھوں پکڑاگیا، ایسا کیا کیا تھا؟ جان کر آپ کو بھی اس بے وقوفی پر ہنسی نہ رکے گی

ڈورین کا کہنا تھا کہ یہ گھر ان کی والدہ کی جانب سے دی گئی رقم سے خریدا گیا، لیکن رابرٹ نے مقدمہ دائر کررکھا ہے کہ سابقہ شوہر ہونے کے ناطے وہ اس کے آدھے حصے کا حقدار ہے۔ ان کی شادی 1997ءمیں ہوئی تھی جبکہ 2007ءمیں علیحدگی ہوگئی۔ نوٹنگھم شائرکے علاقے میں واقع ان کے گھر کی مالیت دو لاکھ پاﺅنڈ(تقریباً تین کروڑ پاکستانی روپے) ہے۔

اس سے پہلے 2015 میں آکسفورڈ کی ایک عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ ڈورین گھر کی مالکن ہیں اور وہ اسے رکھ سکتی ہیں، لیکن اس فیصلے پر رابرٹ نے اپیلز کورٹ کا رخ کرلیا تھا۔ اس نے مﺅقف اختیار کیا کہ طلاق کے بعد سے اب تک وہ اپنے والدین کے گھر میں رہنے پر مجبور ہے، لہٰذا ایک آزادانہ زندگی گزارنے کے لئے اسے سابقہ اہلیہ کے گھر میں سے حصہ دلوایا جائے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -