ایران اور وینزویلا کا اوپیک کی قراردادوں کے تناظر میں تعاون پر اتفاق

ایران اور وینزویلا کا اوپیک کی قراردادوں کے تناظر میں تعاون پر اتفاق

  

تہران (اے پی پی) ایران کے وزیر پٹرولیم نے کہا ہے کہ اوپیک کے رکن ممالک کو دوسری ششماہی میں تیل کی پیداوار میں مزید کمی کرنے کی ضرورت ہے۔ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے 30 نومبر 2016میں تیل کی پیداوار میں روزانہ 1ملین2 لاکھ بیرل کمی کرنے اور اسے 2017 کی پہلی شش ماہی میں روزانہ 32 ملین5 لاکھ تک پہنچانے کا فیصلہ کیا تھا۔ روس، عمان اور میکسیکو جیسے ممالک نے بھی، جو اوپیک میں شامل نہیں ہیں، وعدہ کیا تھا کہ وہ 1 جنوری2017 سے تیل کی پیداوار میں روزانہ 558000 بیرل کی کمی کر دیں گے۔ایران کے وزیر پٹرولیم بیژن زنگنہ نے تہران میں وینزویلا کی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی عالمی منڈی کو 2017 ء کی پہلی ششماہی میں اپنے تیل کی پیداوار میں تھوڑا کمی کرنے کی ضرورت ہے تاہم اس پر غور و خوض کیا جانا چاہئے۔

ایرانی وزیر نے تہران میں وینزویلا کی وزیر خارجہ اور وزیر توانائی کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور وینزویلا کے تعلقات اسٹریٹیجک رہے ہیں اور ایک طویل عرصے سے اوپیک میں دونوں ملکوں کا موقف مشترکہ رہا ہے ۔ وینزویلا کے وزیر توانائی نیلسن پیبلو مارٹینز نے بھی اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران کے وزیر پٹرولیم سے ان کے مذاکرت بہت اچھے اور مفید رہے ہیں۔

مزید :

کامرس -