مہاجرین کے شیلٹر ہاؤس کو آگ لگانے والے جرمن نیو نازی کوآٹھ سال قید

مہاجرین کے شیلٹر ہاؤس کو آگ لگانے والے جرمن نیو نازی کوآٹھ سال قید

  

برلن(این این آئی)جرمنی کی ایک عدالت نے مہاجرین کے شیلٹر ہاؤس کو نذر آتش کرنے کی پاداش میں ایک نیو نازی سیاست دان کو آٹھ برس قید کی سزا سنادی ،مجرم کے دیگر ساتھیوں کو بھی مختلف نوعیت کی سزائیں سنائی گئیں،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انتہائی دائیں بازو کی جرمن سیاسی جماعت نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این پی ڈی) سے تعلق رکھنے والے انتیس سالہ سیاست دان مائیک شنائڈر کو تارکین وطن کی رہائش کے لیے زیر استعمال ایک رہائش گاہ کو آگ لگانے کا مجرم قرار دیا گیا۔

جرمن دارالحکومت برلن کے نواحی علاقے پوٹسڈَم کی ایک عدالت کے جج نے مائیک شنائڈر کو آٹھ برس قید کی سزا سنائی۔ علاوہ ازیں این پی ڈی کے اس نیو نازی سیاست دان کو اجانب دشمنی پر مبنی دیگر جرائم میں ملوث ہونے کی بنا پر مزید ڈیڑھ برس قید کی سزا بھی سنائی گئی۔انتہائی دائیں بازو کے شدت پسند نیو نازی شنائڈر اور اس کے پانچ ساتھیوں نے اگست 2015ء میں ناؤین نامی قصبے میں واقع ایک اسکول کے اسپورٹس ہال کو آگ لگائی تھی۔ جرمنی میں اس اسپورٹس ہال کو پناہ گزینوں کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ عدالت نے شنائڈر کے ایک اور ساتھی کو بھی سات برس قید کی سزا سنائی جب کہ چار دیگر مجرموں کو آٹھ ماہ سے لے کر دو سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔جرمن عدالت کے جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ غیر ملکیوں سے نفرت ہی اس جرم کا اصل محرک تھی۔ جج کا مزید کہنا تھاکہ یہ حملہ مہاجرین کے لیے ایک پیغام تھا کہ آپ کو جرمنی میں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا اور ہمارے ہاں آپ کے کوئی جگہ نہیں، آپ اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں۔تاہم اس کیس کی سماعت کے دوران شنائڈر نے اس بات سے انکار کیا کہ اس نے نسل پرستی کی بنا پر اس جرم کا ارتکاب کیا۔ شنائڈر کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد پوری عمارت کو آگ لگا کر منہدم کرنا نہیں تھا۔ وکیل استغاثہ نے ان چھ مجرموں کو مجرمانہ تنظیم بنانے اور ’واٹس ایپ‘ پر ایک گروپ بنا کر اس حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ یہ نیو نازی جرمن شہری اس حملے کے قبل بھی ایک تقریب کے دوران اجانب دشمنی پر مبنی نعرے لگانے، پولینڈ کے ایک شہری کی کار کو آگ لگانے، ایک سپر مارکیٹ میں دھماکہ خیز مواد رکھنے اور بائیں بازو کے ایک جرمن سیاست دان کے دفتر پر پینٹ سے بھرا ہوا تھیلا پھینکنے جیسے جرائم کے مرتکب ہوئے تھے۔جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے دفتر کے مطابق نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی جمہوریت مخالف، اجانب دشمن، سامیت مخالف، اور آئین تسلیم نہ کرنے والی جماعت ہے۔ تاہم گزشتہ مہینے جرمنی کی اعلیٰ عدالت نے این پی ڈی کو کالعدم قرار دینے کی حکومتی درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی تھی کہ اگرچہ این پی ڈی ایک نسل پرست جماعت ہے لیکن اس کے وجود سے ملک میں جمہوری نظام کو خطرہ لاحق نہیں ہے

مزید :

عالمی منظر -